Daily Mashriq


افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اہل مغرب نے اپنی ذہانت، تدبر سے اپنی، پُرخلوص، دیانتدار اور محب وطن قیادت سے کام لیکر اپنے ممالک کو انتہائی عروج پر پہنچایا، نتیجتاً ترقی پذیر ممالک سے ہر ایک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ چوری چھپے جائز اور ناجائز طریقوں سے اہل مغرب کی دہلیز پر قدم رکھ کر ہمیشہ کیلئے وہی کے ہو جائیں۔ اگر ہم آسٹریا کی اقتصادیات کو دیکھیں تو آسٹریا کا کل رقبہ80ہزار کلومیٹر، آبادی 82 لاکھ مگر ایک چھوٹا ملک ہونے کے با وجود وہاں فی کس آمدنی 40ہزار ڈالر اور ملکی اقتصادیات 450 بلین ڈالرز ہیں۔ اسی طرح ڈنمارک جس کا کل رقبہ43 ہزار مر بع کلومیٹر اورآبادی 54 لاکھ ہے مگر فی کس آمدنی 41ہزار ڈالرز اور اس ملک کی مجموعی اقتصادیات 400 ارب ڈالر ہیں۔ فن لینڈ جس کا کل رقبہ2لاکھ مربع کلومیٹر اور آبادی52 لاکھ ہے مگر اس چھوٹے سے ملک کی فی کس آمدنی 40 ہزار ڈالر اور ملک کی مجموعی اقتصادیات350ارب ڈالر ہے۔ اس کے برعکس ہم پاکستان کی اقتصادیات پرطائرانہ نظر ڈالیں تو پاکستان کا کل رقبہ8 لاکھ 10ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی20کروڑ سے اوپر ہے مگر اس کے باوجود بھی پاکستان کی فی کس حقیقی آمدنی بمشکل 100ڈالر اور ملک کی مجموعی اقتصادیات 120 ارب ڈالر ہے جبکہ بدقسمتی سے ہر دور کے فضول خرچ اور کر پٹ حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان کی20کروڑ آبادی کا ہر فرد ایک لاکھ25ہزار کا مقروض بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر ہماری پسماندگی اور غربت کی کیا وجوہات ہیں؟ آخر ہم غریب اور رسوا کیوں ہیں؟۔ ہم ایک جوہری اور میزائل طا قت ہونے کے باوجود اغیار کے آگے مجبور کیوں ہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ایک عام پاکستانی کی زبان پر ہیں اور جس کا جواب جاننے کی وہ جستجو بھی کرتا ہے۔ اگر ہم قرآن مجید فرقان حمید کا مطالعہ کریں تو اس مقدس کتاب میں اللہ تعالیٰ بار بار مسلمانوں کو سختی سے تاکید کی ہے کہ عقل، فہم اور تدبر سے کام لو اور زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرو مگر بدقسمتی سے علم جو مومن کی میراث ہے مسلمانوں نے اس کو ترک کر دیا ہے اور اب حالات ہمارے سامنے ہیں۔ اگر ہم پاکستان کی مثال لیں تو پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے تحاشا وسائل سے نوازا ہے مگر بدقسمتی سے بہت سارے وسائل کے باوجود بھی پاکستان کی نااہل قیادت اس سے استفادہ نہ کر سکی، نتیجتاً عام لوگ مہنگائی، بیروزگاری جیسے بڑے عفریت کاسامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 6 ہزار ارب ڈالر کا سونا، 5 ہزار ارب ڈالر کی چاندی، پانی سے ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے جبکہ سندھ اور بلو چستان کے 2000کلومیٹر ساحلی علاقے کی ہوا سے ایک لاکھ 50 ہزار میگا واٹ اور ایک مربع میٹر دھوپ سے 3کلو واٹ توانائی اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ سرکاری اعداد وشمارکے مطابق وطن عزیز میں تقریباً 45 ملین گائے بھینسوں کے فضلے سے گھریلو سطح پر توانائی کی 70 فیصد ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان چاول، کپاس، تمباکو اور پھل پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے، پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جس میں6لاکھ مربع کلومیٹر پہاڑی، صحرائی اور ریگستانی ہے، جس کو قابل کاشت بنا کر ہم پورے ایشیاء کی خوراک کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 190 بلین ٹن کا اعلیٰ درجے کا کوئلہ موجود ہے جو سعودی عرب، کویت، ایران، عراق اور کینیڈا کے 700 بلین بیرل خام تیل کی توانائی کے برابر ہے۔ اس سے اگر ایک لاکھ میگا واٹ بجلی بنائی جائے تو اس کو ہم آئندہ 100 سال تک بروئے کار لاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بے تحاشا معدنیات ہیں۔ وطن عزیز میں بین لاقوامی لیول کے 5000سیاحتی مقامات اور اس کے علاوہ پاکستان میں نمک کی دنیا کی سب بڑی کان موجود ہے۔ علاوہ ازیں سلیکان جو دور جدید میں الیکٹرانک صنعت کی سب سے بڑی ضرورت، ریڈیو، ٹی وی، کمپیوٹرز اور دوسری الیکٹرانکس چیزوں کے سرکٹ بنانے کا بنیادی جُز ہے وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اگر اس کو بروئے کار لایا گیا تو اس سے الیکٹرانکس اور شمسی توانائی کی مد میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جغرافیائی محل وقوع کے علاوہ چار موسم بھی عطا کئے ہوئے ہیں جس میں گرمی، سردی، بہار اور خزان شامل ہیں۔ ان چاروں موسموں کی اپنی اپنی فصلیں ہوتی ہیں ۔ پاکستان کی20کروڑ آبادی میں یو این ڈی پی کے مطابق 12 کروڑ جوان ہیں جو بذات خود ایک بڑا اثاثہ ہے۔ اس ملک میں سب کچھ ہے مگر یہاں پر نیک، ایماندار، قابل، محب وطن اور مخلص قیادت کا فُقدان ہے۔ خدارا جب بھی کبھی ووٹ دیں توذات پات، برادری اور پارٹی سے بالاتر ہوکر ووٹ دیں اور ایسی قیادت منتخب کریں جو ملک کے مسائل حل کر سکے۔

متعلقہ خبریں