Daily Mashriq


’’اپنے تو اپنے ہوتے ہیں‘‘

’’اپنے تو اپنے ہوتے ہیں‘‘

خلائی مخلوق ایک حقیقت ہے اور دنیا کا کوئی بھی ملک اس مخلوق کی موجودگی سے خالی نہیں۔ یہ تو شہباز شریف نے تجاہل عارفانہ سے کلام لیتے ہوئے پاکستان میں ایسی کسی بھی مخلوق کی موجودگی اور اس موجودگی پر یقین رکھنے سے انکار کرتے ہوئے جنات کی موجودگی کو تسلیم کیا۔ وگرنہ شہباز شریف بھی جانتے ہیں کہ خلائی مخلوق ہر ملک ومعاشرے کی حقیقت ہے۔ اب تو یہ مخلوق ملکوں تک محدود نہیں رہی ایک عالمی خلائی مخلوق بھی وجود میں آچکی ہے۔ جس طرح دنیا دہشتگردی کا ڈھول پیٹنے کے باوجود ابھی تک اچھے اور برے دہشتگردوں کے تضادات میں دھنسی اور پھنسی ہوئی ہے اسی طرح اچھی اور بری خلائی مخلوق کا تضاد بھی موجود ہے۔ جو خلائی مخلوق کسی شخص، جماعت یا گروہ کیلئے مہربان چھاؤں کی طرح سایہ فگن رہتی ہے اچھی ہوتی ہے اور جو خلائی مخلوق اس سائے سے جلتی ہے وہ بری کہلاتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت اچھی اور بری خلائی مخلوق کی تفریق جاری ہے۔ عالمی خلائی مخلوق حالات کو اپنے ڈھب پر چلانے پر مصر ہے۔ اس کے اپنے پسندیدہ چہرے مہرے اور نعرے ہیں۔ جب تک ملکی اور عالمی خلائی مخلوق میں مفادات کا ٹکراؤ اور نظریات کی یکسانیت موجود رہی تو انتخابات میں اور ناموں اور جماعتوں پر اتفاق ہوتا رہا اور جب سے خلائی مخلوقات کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوا ہے مقاصد اور نظریات میں تضاد پیدا ہو گیا ہے، اس وقت سے ایک کھینچا تانی جاری ہے۔ دونوں کی پسند وناپسند کے پیمانے اور معیار بدلنے سے چہروں او رمہروں کی پسند وناپسند بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ پاکستان کے موجودہ انتخاب میں یہ زورا زوری صاف دکھائی دے رہی ہے۔ چوہدری نثار علی خان کو جیپ کا انتخابی نشان کیا ملا کہ جیپ کی وابستگی اور معنویت پر نت نئے تبصرے سننے کو مل رہے ہیں۔ جیپ پہلی دفعہ کسی امیدوار کا انتخابی نشان نہیں بنی۔ البتہ جیپ کے نشان کے حامل امیدوار اور اس نشان نے پہلے کبھی اتنی اہمیت حاصل نہیں کی۔ یہ چوہدری نثار علی خان کی شخصیت کا کمال ہے کہ انہیں جیپ کا انتخابی نشان ملتے ہی ملک بھر سے کئی امیدواروں نے جیپ کا نشان لینے میں دلچسپی ظاہر کی اور یوں جیپ کا نشان تبصروں اور تجزیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ ن میں مفاہمت اور اعتدال کی سیاست کی علامت سمجھے جاتے تھے انہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کی طرف تیزی سے لڑھکتی ہوئی مسلم لیگ ن میں ملکی اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ سمجھا جاتا رہا۔ نمائندہ نہ سہی دونوں کے درمیان ایک پل ضرور جانا جاتا تھا۔ اب یہ پُل ٹوٹ گرا تو اسی لئے شہباز شریف کو خود سامنے آکر کئی نئے فارمولے پیش کرنا پڑ رہے ہیں۔ جن میں سب سے اہم ایک نئے عمرانی معاہدے کی تشکیل ہے جس میں خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی میں فوج کی مشاورت کا کوئی باقاعدہ نظام قائم ہو۔ غالباً شہباز شریف نیشنل سیکورٹی کونسل کے قیام کی بات کر رہے ہیں وہی کونسل جس کا نام لینے پر ایک فوجی سربراہ جنرل جہانگیر کرامت کو پہلے عہدہ اور بعدازاں ملک ہی چھوڑنا پڑا تھا۔ اسی ناخوشگوار شکست وریخت سے جنرل پرویز مشرف کا ظہور ہوا تھا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ ملکی تاریخ کا حصہ ہے۔ چوہدری نثار علی خان کو جیپ کا نشان ملا تو لوگوں نے فوجی جیپوں کو سوشل میڈیا پر پھیلانا شروع کر دیا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ہر قیمت پر چوہدری نثار علی خان کی جیپ کو پریڈ گراؤنڈ کی جیپ ثابت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ عام پرائیویٹ جیپ بھی ہو سکتی ہے۔ سیاحتی اور پہاڑی علاقوں میں بوجھ اور سواریاں اُٹھا کر مٹک مٹک کر اونچے نیچے ٹیلوں پر رینگنے والی جیپ بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا کیا کیجئے کہ خود مسلم لیگ ن چوہدری نثار علی خان کی جیپ کو جی ایچ کیو کی جیپ قرار دینے پر مُصر ہیں۔ پاکستان جیسے تیزی سے ڈی پولیٹسائز ہوتے ہوئے معاشرے میں اس تاثر کے نقصان کے بجائے فائدہ ہی ہوتا ہے اور اسی سے لوگوں کو ہوا کا رخ جاننے میں مدد ملتی ہے۔ چوہدری نثار علی خان کی جیپ افسانہ بنتے بنتے راکٹ بن گئی ہے۔ ایسا راکٹ جو خلاء میں بھیجا جاتا ہے اور ظاہر ہے وہاں اس کا کام خلائی مخلوق سے متعلق ہوتا ہے۔ خلائی مخلوق اور راکٹ کا تعلق تو سمجھ آتا ہے مگر خلائی مخلوق اور جیپ کا تعلق تلاش کرنا آسان نہیںکیونکہ جیپ زمین پر چلتی اور زمینی مخلوق کی سواری ہے۔ اب مسلم لیگ ن کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کا ایک آپشن بھی زیر بحث آنے لگا ہے۔ ملتان میں ایک امیدوار رانا اقبال سراج کی پٹائی اور اس میں حساس اداروں کا کردار اور بعدازاں محکمہ زراعت کے اہلکاروں کی بات اور میاں نوازشریف کی طرف سے مسلسل اس موقف کا اظہار کہ تشدد کا نشانہ بنانے والے حساس ادارے کے اہلکار تھے۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ پاکستان نے کہاں اور کس رخ جانا ہے یہ انتخابات اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ ہر قیمت پر ان انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر تی رہی ہے اور ملکی اسٹیبلشمنٹ اس کوشش کو ناکام بنانے کی تگ ودو کر رہی ہے۔ یوں اگر ان انتخابات میں ایک ملکی خلائی مخلوق سرگرم ہے تو وہیں ایک عالمی خلائی مخلوق بھی اس عمل سے وابستہ ہے جس کو جو مخلوق فائدہ پہنچا رہی ہے وہی اچھی ہے اور جس مخلوق سے کسی فریق کو نقصان پہنچتا ہے وہ بری ہے۔ اس تفریق اور تقسیم میں کسی کے درست اور غلط ہونے کا فیصلہ تو صادر نہیں کیا جا سکتا مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ’’اپنے تو پھر اپنے ہوتے ہیں‘‘۔

متعلقہ خبریں