Daily Mashriq

آئی ایم ایف کی سخت شرائط

آئی ایم ایف کی سخت شرائط

ئی ایم ایف سے قرضے کا حصول پاکستان کی حکومتوں کے لئے تو اطمینان کا باعث بنتا رہا ہے ماضی سے لے کر آج تک کی حکومتیں اور بالخصوص وزارت خزانہ کے وزیر و مشیران آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی اور قرضوں کے حصول کو اپنی قابلیت و استعداد ملک کے معاشی مسائل کے حل اور عوام کے لئے ریلیف کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں چونکہ موجودہ حکمران اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے بلکہ سرے سے قرض نہ لئے جانے کے جو وعدے عوام سے کئے تھے عوام کا ان وعدوں پر اعتماد فطری امر تھا مگر تلخ اور سخت معاشی حالات کی حقیقت یہ سامنے آئی کہ آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کو قرض دینے میں نہ صرف لیت و لعل سے کام لیا بلکہ قرض کی منظوری سے قبل اپنی شرائط بھی عائد کردیں اور ان شرائط کے عملی طور پر لاگو ہونے کے بعد' ملک کا نئے سال کا میزانیہ منظور ہونے اور اپنے اطمینان کے حامل افراد کی تقرریوں کے بعد ہی منظوری دی۔ آئی ایم ایف کا قرض دینے سے قبل قرضوں کی وصولی کے لئے وسائل اکٹھا کرنے کے طریقہ کار کو رائج کروانا اہم شرط تھی۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری کے بعد جاری شدہ شرائط کے مطابق جس کے نتیجے میں عوام کی مشکلات میں اضافہ اور مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے جو ظاہر ہے حکومت اور عوام کا مسئلہ ہے آئی ایم ایف کو اس سے کوئی سروکار نہیں ان کو قرضوں کی وصولی یقینی بنانا ہے خواہ قرض خواہ ملک جن مشکلات کا بھی شکار ہو۔ ڈالر آزاد ہوگا ، بجلی، گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی، ٹیکس آمدنی میں اضافہ، گردشی قرضوں کا خاتمہ، واجبات کی وصولیابی یقینی بنائی جائے گی۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر ہے ۔ پاکستان میں کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ طے کرے گی اور اسٹیٹ بینک کرنسی کی شرح تبادلہ میں مداخلت نہیں کرے گا مانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو قابو کیا جائے گا۔توانائی کے شعبے سے متعلق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں گی اور گردشی قرضوں کا خاتمہ کیا جائے گا، واجبات کی وصولیاں یقینی بنائی جائیں گی جب کہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کا قرضہ جب ممبر ملک کے حصے سے بڑھ جائے تو اس کی شرائط سخت اور ادائیگی مشکل سے مشکل تر ہوتی ہے۔ پاکستان کو ملنے والا حالیہ قرضہ سخت شرائط کے ساتھ ملنے والا قرضہ ہے۔1988سے پہلے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے معاہدے قلیل مدتی بنیادوں پر ہوتے تھے جن میں عمومی طور پر قرض معاشی اصلاحات سے مشروط نہیں ہوتے تھے۔سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامزشروع ہو گئے۔سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامز' یعنی ایس اے پی وہ ہوتے ہیں جن میں قرض دینے والا ادارہ شدید معاشی مشکلات کے شکار قرض حاصل کرنے والے ممالک کو مخصوص شرائط کے تحت نیا قرض دیتا ہے۔ای ایف ایف وسط مدتی پروگرام ہے جس کا مقصد صرف ادائیگیوں میں توازن نہیں بلکہ اس کی خاص توجہ ملک کے معاشی ڈھانچے میں اصلاحات پر بھی ہوتی ہے۔یہ منصوبہ تین سال کا ہوتا ہے لیکن اسے ایک سال تک کی توسیع مل سکتی ہے جبکہ رقم کی واپسی چار سے دس سال کے عرصے میں کی جاتی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق ملک کی معیشت کی خراب صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ٹھیک راہ پر لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں جس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اسی وجہ سے ای ایف ایف کا دورانیہ زیادہ ہے۔پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے اس پیکج کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ اس کے بعد بین الاقوامی پارٹنر کی طرف پاکستان کو اضافی38بلین ڈالرز کی امداد کی فراہمی کی راہ ہموار ہو جائے گی جو آئی ایم ایف کے اس پروگرام کے دورانیے میں دی جا سکے گی۔پاکستان میں اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر صرف 7.3بلین ڈالرز تک آن پہنچے ہیں جو محض دو ماہ کی درآمدات کی ضرورت پوری کرنے کے برابر ہیں۔ آئی ایم ایف کے اس پروگرام کے لیے پاکستان کے انتہائی کمزور ٹیکس نظام کو بہتر کرنے کیلئے پاکستانی حکومت کی طرف سے آئندہ کئی برسوں تک کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہو گی جو وزیر اعظم عمران خان پر مزید دبائو کا سبب بن سکتی ہے پاکستان کے حالیہ بجٹ کا خسارہ مجموعی قومی پیدوار کے سات فیصد کے برابر ہے۔ ان حالات میں معیشت کو سدھارنے کے لیے سخت مالیاتی اقدامات اور عوام پر بے تحاشا بوجھ ڈالنے کے علاوہ پاکستان کے پاس کوئی چارہ کار نہیں۔ حکومت نے جن اقدامات کا آغاز کیا ہے ان پر حقیقی عملدرآمد ہی وہ راستہ نظر آتا ہے جس پر چل کر ملک کے معاشی مسائل میں کمی لانا ممکن ہوگا۔حکومت کو ٹیکس نادہندگان بے نامی جائیدادوں اور بدعنوانی سے بنائی گئی املاک اور دولت کا نہ صرف حساب لینا ہوگا بلکہ اسے قومی خزانے میں جمع کرانے کو بھی یقینی بنانا ہوگا تب جاکر ہی آئی ایم ایف کے قرضوں کی واپسی ممکن ہوسکے گی۔

پینتیس سال کے اقتدار کا بیس سالوں میں احتساب کیوں نہ ہوسکا؟

چیرمین نیب کا یہ کہنا بجا ہے کہ پینتیس سال اقتدار میں رہنے والوں کا حساب پہلے اور مختصر مدت کے اقتدار والوں کا احتساب بعد میں ہوگا۔ چیئر مین نیب کے اس بیان سے اصولی طور پر اختلاف ممکن نہیں لیکن اس بیان سے نیب کے اس کردار و عمل کاعملی طورپر اعادہ بھی سامنے آتا ہے کہ نیب بر سر اقتدار افراد کا اور حکومت وقت کے عہدیداروں کا کبھی بروقت احتساب نہیں کرتا نیب میں مقدمات قائم کرکے فوری تحقیقات کا بھی رواج نہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری جس مقدمے میں اب گرفتار ہیں وہ مسلم لیگ(ن) کے دور حکومت کا ہے اسی طرح نیب مقدمات کو تکمیل تک پہنچانے اور ملزمان کو سزا دلوانے میں بھی سستی و غفلت کا مرتکب رہا ہے۔ نیب اگر سنجیدگی کے ساتھ اور ٹھوس شواہد اکٹھی کرکے عدالتوں کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری انجام دے رہا ہوتا تو آج پینتیس سالوں کے دور اقتدار کے احتساب کی بجائے موجودہ یا پھر کم از کم گزشتہ دور حکمت میں شامل افراد کی باری آچکی ہوتی۔ نیب کی کارکردگی اب تک یہ سامنے آئی ہے کہ مقید سابق وزیر اعظم نواز شریف پر بد عنوانی کا کوئی الزام ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ چیئر مین نیب اگر اپنے ہی ادارے کا محاسبہ کریں تو اس پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ 16نومبر1999ء کو آمر وقت جنرل مشرف کے دور میں قائم ہونے کے بعد 2019ء کی اس تاریخ تک سابق حکمرانوں اور بدعنوانی کا ارتکاب کرنے والے بڑے بڑے مگر مچھوں میں سے کسی کابھی ایسا احتساب نہیں کرسکی ہے جس پر عوام شرح صدر سے اطمینان کا اظہار کرسکیں اور عدالتیں نیب کے پیش کردہ شواہد کو ٹھوس گردان کر تیزی سے مقدمات نمٹا سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب کے عمل کو سیاسی مقاصد کے لئے بروئے کار لا نا محض الزام ہی ہو لیکن عملی طور پر اس حوالے سے جو تاثر قائم ہوا ہے وہ بھی بلا وجہ نہیں ملک میں حقیقی احتساب کا عمل یقینی بنایا جائے اور بدعنوان عناصر کا بروقت اور بلا امتیاز احتساب ہوتا رہے تو نہ تو ایمنسٹی سکیم کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی ملک میں کسی کو بدعنوانی کی آزادانہ ہمت ہو پائے گی۔ اس کے باوجود توقع کی جانی چاہئے کہ نیب پینتیس سالوں سے اقتدار کا مزہ لوٹنے والوں کا حقیقی احتساب کرے گی اور عدالتوں سے ملزمان کو جلد سے جلد سزا دلوا کر مبینہ طور پر لوٹی ہوئی رقم بھی قومی خزانے میں جمع کروا کر سرخرو ہوگی۔

متعلقہ خبریں