Daily Mashriq

ایٹمی ملک کے ناداراور تنخواہ دارحکمران

ایٹمی ملک کے ناداراور تنخواہ دارحکمران

وزیر اعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا پلی بارگین ہو سکتی ہے نواز شریف اور آصف زرداری پیسہ جمع کراکے ملک سے باہر چلے جائیں۔عمران خان نے دوسرے لفظوں میں ان تمام افراد کو پلی بارگین کی پیشکش کی جن پر بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں ۔سیدھے سبھائو یہ سعودی ماڈل ہے ۔سعودی حکومت نے بھی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو چند دن جیلوں میں رکھا پھر ان سے رقم نکلوا لی اور چھوڑدیا۔پاکستان میں عدالتی نظام سیاسی ضرورتوں اور کرپشن میں اپنائے جانے والے جدید طریقوں کے باعث اب کرپشن ثابت کرنا ناممکن ہو کر رہ گیا ہے ۔کرپشن نے ایک سائنس کی شکل اختیار کرلی ہے اور یہ سائنس بھی نئے تجربات کے باعث پوری طرح ترقی کر رہی ہے ۔کرپشن کرنے والے کبھی ان الزامات کو خوش دلی سے تسلیم نہیں کرتے بلکہ اپنی دولت میں حیران کن اضافے کا ٹھوس جواب دینے کی بجائے ''ہذا من فضل ربی''کا بورڈ لگا کر مال اور قصہ ہی پاک کردیتے ہیں۔سالہا سال گزرجاتے ہیںمگر عدالتوں میں کرپشن ثابت ہونا ہوتی ہے اور نہ ہوتی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان آصف زرداری اور نوازشریف کو پلی بارگین کی پیشکش تو کر رہے ہیں مگر اول تو یہ دونوں سیاست دان اس بات کو تسلیم نہیں کر رہے اور جب کوئی صحت جرم سے ہی انکاری ہو تو اسے جیل میں رکھا جا سکتا ہے مگر پلی بارگین پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔یہ لوگ احتساب کی موجودہ لہر کو سیاسی انتقام گیری کہہ رہے ہیں۔آصف زرداری ماضی کی گیارہ سالہ قید کے حوالے دے کر کچھ ثابت نہ ہونے کو اپنی بے گناہی کا ثبوت کہہ رہے ہیں جب کہ نوازشریف اور ان کے حامی فوج کے ساتھ کشمکش کو ان کے موجودہ حالات کی وجہ قرار دے رہے ہیں ۔وقت ایک بڑا منصف ہے جو گزرے گا تو حقیقت کو چھانٹ کر تاریخ بنا دے گا مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس ملک میں بہت بے رحمی کے ساتھ لوٹ مار ہوئی ہے اور یہ عمل صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں ۔فوجی حکمران اور ان کے مصاحبین ،بیوروکریٹ اور دوسرے تمام طبقات اس گنگا میں جم کر نہاتے رہے ہیں۔انہی حالات کو دیکھ کر دہائیوں سے عوام ایک بے رحم احتساب اور سخت گیر منصف کا انتظار کر تے رہے۔حکمران طبقا ت نے سیاست ،اقتدار اور اثر رسوخ کو دولت بنانے کے لئے استعمال کیا ۔جہاں ایک طرف سیاست دان سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں وہیں جنرل مشرف جیسے فوجی حکمران سے بھی یہ پوچھا جانا ضروری ہے کہ سعودی بادشاہ شاہ عبداللہ ہر ماہ کن خدمات کے عوض بیٹھے بٹھائے ان کے اکاونٹ میں رقم ڈالا کر تے تھے ۔یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ رقم واقعی شاہ عبداللہ ہی ڈالتے تھے یا ان کے نام میں کوئی اور عالمی کھلاڑی دریا دلی کا مظاہرہ کرتا تھا اور یہ سب کچھ کیوں ہو رہا تھا ؟ایک ملک کا حکمران ناداری کی چادر لپیٹے ہی کیوں تھا؟۔سیاست دانوں اور سیاسی حکمرانوںکے اقاموں کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ ان مخیر حضرات کی تحقیقات بھی ہونا ضروری ہے پاکستان کے نادار اور لاچار حکمرانوں کے اکاونٹس میں خاموشی سے پیسے ڈال جایا کرتے تھے۔احتساب کو ہمہ جہتی اور منصفانہ بنانا ہے تو پھر یہ اقدامات اُٹھانا لازمی ہوں گے ۔

کچھ ہی عرصہ پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم مالیاتی بدانتظامیوں کی وجہ سے مشکل معاشی صورت حال سے گزر رہے ہیں ۔ہم مشکل فیصلے کرنے سے گھبراتے رہے ہیں۔مشکل وقت میں کوئی بھی اکیلے کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک پوری قوم اکٹھی نہ ہو۔یہ ایک قوم بننے کا وقت ہے ۔آرمی چیف کی طرف سے ملک کے موجود ہ حالات کا یہ تجزیہ اور بیانیہ اس وقت سامنے آیا تھاجب قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث ہو رہی تھی اور اپوزیشن ڈالر کی سطح بلند ہونے اور آئی ایم ایف سے معاہدے کو شدید تنقید کا ہدف بنائے ہوئے تھی ۔بجٹ واپس لینے کا مطالبہ زوروں پر تھا ۔حکومت اس ساری صورت حال کا ذمہ دار ماضی کے حکمرانوں کو قرار دے رہی تھی جبکہ اپوزیشن کا موقف تھا کہ یہ ساری خرابی موجودہ حکومت کے قیام کے ساتھ ہی پیدا بھی ہوئی اور عروج تک بھی پہنچی ۔اس بحث اور گرماگرمی میں بجٹ منظور ہونے کے امکانات بھی معدوم ہو رہے تھے مگر عمران خان نے بہت پہلے ہی اپنی پارٹی کے لوگوں کو بتادیا تھا کہ وہ کوئی فکر نہ کریں بجٹ آسانی سے منظور ہوجائے گا ۔یہ بات سچ ثابت ہوئی اور اپوزیشن کی گرمی گفتار کے باوجود بجٹ منظور ہوگیا۔ ملک آج جس معاشی بدحالی کا شکار ہے یہ ایک روز اور ایک دور کا معاملہ نہیں برسوں اور عشروں سے جاری سلو پوائزننگ کا شاخسانہ ہے ۔ناقص منصوبہ بندی ،اسراف اورایڈہاک ازم ،قرضوں کی لت ،سیاسی اور انتخابی ضرورتوںکے لئے بڑے منصوبوں کا آغاز ،بدعنوانی کا تیزی سے پھیلتا ہوا ناسور،احتساب سے گریز اور انکارجیسے رویوں نے پاکستان کو معاشی عارضوں کا شکار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔گویا کہ موجودہ زوال میںماضی کی ہر حکومت اور ہر حکمران کا کم یا زیادہ مگر حصہ ضرور ہے۔ملکی معیشت کی سانسیں اگر کبھی بحال بھی ہوئیں تو اس کی بنیاد پائیدار اور مستقل نہیں تھی بلکہ یہ محض کرائے پر حاصل کئے گئے ایک معاشی جادوگر کا کمال تھا جس نے عوام کو وقتی طور پر مطمئن اور آسودہ رکھنے کی خاطر ہاتھ کا کمال اور کرتب دکھا یا ۔یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن ملک کا معاشی عارضہ لاعلاج ہوتا چلا گیا ۔ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہوا ۔جنرل مشرف نے جاددگروں کی پوری ایک ٹیم کو کمالات دکھانے پر مامو ر کئے رکھا یہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت ختم ہوئی تو مہنگائی میں دوگنا اضافہ ہوگیا ۔اشیائے خور دونوش میں جو ہوش رُبا اضافہ اس وقت شروع ہوا بعد میں پر لگا کر اُڑتا چلا گیا اور اب تو یہ سلسلہ راکٹ کی رفتار سے اوپر جا رہا ہے ۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں