Daily Mashriq

علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

آج جولائی کے مہینے کی چھ تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں باہمی تعاون کا عالمی دن منایا جاررہا ہے ، باہمی تعاون کی اہمیت جتاتے ہوئے ہم اکثر کہتے رہتے ہیں کہ ایک اورایک مل کر دو نہیں ہوتے گیارہ ہوجاتے ہیں ، اسی طرح ایک اور ایک اور ایک مل کر ایک سو گیارہ ہوجاتے ہیں اور یوں کسی اہم کام کو انجام دینے کے لئے ایک ایک بندے کے شامل ہونے سے معاملہ ہزاروں اور لاکھوں تک جاپہنچتا ہے، اسے ہم سادہ لفظوں میں اتحاد کی برکت بھی کہتے ہیں اور قائد اعظم محمد علی جناح کے سنہری اصولوں کی روشنی میں اگر اتحاد کے ساتھ تنظیم بھی شامل ہوجائے اور کامیابی اور کامرانی کے لئے یقین محکم یا ایمان کی قوت بھی حاصل ہوجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ کامرانی اورکامگاری کی منزل از خود آگے بڑھ کر قدم بوسی کے لئے حاضر نہ ہوجائے

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں

جو لوگ اپنے علاوہ قوم کے ہر فرد کے متعلق ہی نہیں اقوام عالم کے متعلق سوچتے ہیں اور ان کی بہتری کے لئے کام کرتے ہیں ، یقینا وہ قوم کی مقدر کا ستارہ سمجھے جانے کے قابل ہوتے ہیں

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

کسی گرے پڑے کو اٹھا کر ان منازل کی جانب گامزن کرنا ہے جن منازل پر پہنچ کر نہ صرف ان کی انفرادی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر اس طرح ایک بہتر اور خوشحال معاشرہ بھی تخلیق پا سکتا ہے۔آج کا دن یہی پیغام لیکر طلوع ہوا ہے کیونکہ آج کے دن کو اقوام متحدہ کے کیلنڈر میں انٹرنیشنل کوآپریٹو ڈے کے نام سے یاد کئے جانے کا عزم کیا گیا ہے ، انٹرنیشنل کوآپریٹیو ڈے کو آپ باہمی معاونت کا عالمی دن کہہ سکتے ہیں ۔ یہ دن پاکستان سمیت ساری دنیا میں 1992 سے اب تک 6 جولائی کے روز منایا جارہا ہے ۔ ایک دوسرے کی مدد کرنا یا کسی کا کسی کام میں ہاتھ بٹانا یقینا ایک نیکی ہے اور اس نیکی کا احساس دلانے اور اس کا عملی مظاہرہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ نے آج کا دن مقرر کیا ہے لیکن فرزندان توحید کے ہاں تو نیکی کرنے اور نیکی کمانے کے لئے کوئی خاص دن لمحہ یا وقت مقرر نہیں۔ تعلیمات اسلام کے مطابق مسلمان ہونے سے پہلے انسان ہونا لازمی ہے اور انسان اس بنی آدم کو کہاجاتا ہے جس کے دل میں انسانیت یا انسانی ہمدردی کا جذبہ موجزن ہو، جو محسن انسانیت کا نام لیوا کہلانے سے پہلے خود انسان ہونے کا دعوی دار بنیوہی اپنے آپ کو مسلمان یا مومن کہنے کا حق دار ہے۔ لیکن جب ہم اپنے ارد گرد انسان یا انسانیت کی خدمت کرنے والے افراد کی تلاش میں نکلتے ہیں تو ہمیں جلد اس بات کا احساس ہونے لگتا ہے کہ

سرائے زیست کا عالم بڑا سنسان ملتا ہے

بڑی مشکل ہے مشکل سے کوئی انسان ملتا ہے

جب صورت حال یہ ہے تو ہماری یہ مسلمان ہونے کی دعویداری کیسی۔ صرف اللہ اللہ کرتے رہنے سے کوئی مسلمان تھوڑا بنتا ہے

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

ہمدردی پیار محبت اور دکھی محتاجوں کی مدد اقوام متحدہ کے زیر اہتمام 6 جولائی کو منائے جانے والے کوآپریٹو ڈے یا یوم باہمی تعاون کا خاص موضوع ہے۔ یہ دن ان لوگوں کو اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ پیر سلامت ہیں تو آپ ان کی موجودگی یا ان کی سلامتی کا شکریہ ادا کرنے کے لئے گاہے بگاہے کسی معذور محتاج کی مدد کردیا کیجئے۔ آپ نے کسی اندھے محتاج کی زبان سے یہ جملہ ضرور سنا ہوگا کہ آنکھوں والو آنکھیں بڑی نعمت ہیں۔ ایک نابینا یا آنکھوں سے محروم بندہ اپنے ارد گرد پھیلے رنگ و نور کے ان نظاروں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا جو اس کے نابینا ہونے کی وجہ سے اس کو نظر نہیں آتے نظاروں کا نظر آنا تو دور کی بات ہے اسے راستہ چلتے وقت جس تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا حل نکالنے کے لئے درد دل رکھنے والوں نے اس کے ہاتھ میں سفید چھڑی تھما کر آنکھوں اور بصارت والوں کو سمجھا دیا ہے کہ خبر دار کہ سڑک پار کرنے والا یا کسی پر ہجوم راستے کو پھونک پھونک کر قدم رکھتا سفید چھڑی بردار بندہ بینائی سے معذور اندھا محتاج ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کو راہ چلتے ایسا کوئی فرد نظر آئے تو وہ آپ کی مدد کا طلب گار ہوگا۔ آپ ایک قدم آگے بڑھا کر اسے راستہ پار کروا کر دین اور دنیا کی بھلائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں دین اور دنیا کی بھلائی حاصل کرنے کے لئے لا تعداد مواقع ملتے ہیں۔ اور جو لوگ ان مواقع سے فائدہ حاصل نہیں کرتے وہ یقینا گھاٹے کا سودا کر رہے ہوتے ہیں

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

ہم سب سماجی جانور یا سوشل اینیمل کہلاتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کا سنگ ساتھ نبھانے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بھی ضرورت رہتی ہے اور ہم ایک دوسرے کی مدد حاصل کرنے کے بھی آرزو مند رہتے ہیں۔ سماجی جانور یا سوشل اینیمل کی حیثیت سے ہم مل جل کر ایک معاشرہ یا سماج بناتے ہیں اور سماج میں بہتری لانے کے لئے باہمی اشتراک سے ہر وہ کام انجام دیتے ہیں جس سے ہمارے ارد گرد کا ماحول خوشیوں سے بھر جائے اور ہم پریشانیوں بھرے مسائل کی اس دلدل سے نکل جائیں ، جو ہماری اجتماعی زندگی کو گھن کی طرح کاٹ سکتی ہے ۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں