Daily Mashriq

5جولائی 1977ء کا مارشل لا

5جولائی 1977ء کا مارشل لا

ملک میں تیسرے مارشل لاء کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق نے کہا '' عزیز ہم وطنوں پورے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیاگیا ہے' 1973ء کا دستور معطل اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ سیاسی عمل کی بحالی کے لئے فوج ریفری کا کردار ادا کرے گی 90دن کے اندر عام انتخابات منعقد کروا کے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کردیا جائے گا''۔ مارشل لاء نافذ ہوا' پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے قائدین کو حفاظتی تحویل میں لے لیاگیا۔ مری میں نظر بند کئے گئے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق نے ملاقات کی ایسی ہی ملاقاتیں قومی اتحاد کے نظر بند رہنمائوں سے بھی کی گئیں۔ ملک میں سنسر شپ نافذ تھی' اخبارات و جرائد ہاتھ پائوں بچا کر حالات حاضرہ قارئین تک پہنچا رہے تھے۔ کروڑوں لوگ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ تیسرے مارشل لاء نے قومی اتحاد کی تحریک سے پھوٹے ہنگاموں اور حکومت کے جوابی تشدد کی کوکھ سے جنم لیا۔ وجہ یہی ہے کہ تواتر کے ساتھ پروپیگنڈہ ہی ہوا ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ انتخابی دھاندلیوں پر حکومت اور قومی اتحاد کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران قومی اسمبلی کی 40 نشستوں سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں کا انتخاب دوبارہ کروانے پر اتفاق رائے ہوچکا تھا۔ (قومی اتحاد نے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا) اتفاق رائے ہوجانے کے باوجود مارشل لاء کیوں نافذ ہوا؟ اس سوال کے جواب میں پچھلے چار عشروں کے دوران یہ عرض کرتا چلا آرہا ہوں کہ قومی اتحاد کی تحریک ہنگامے اور پولیس تشدد یا پھر ملک مصطفی کھر کی قیادت میں لاہور میں پیپلز پارٹی کا جوابی طور پر قوت کامظاہرہ یہ سب ایک بہانہ تھے۔ پاکستان میں جمہوری حکومت کے کریا کرم کا فیصلہ اس دن ہی کرلیا گیا تھا جس دن (ستمبر1976) وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملاقات کے لئے آنے والے امریکی سفیر کی یہ تجویز قبول کرنے سے انکار کردیا تھا کہ پاکستان نے جن افغانی رہنمائوں کو سیاسی پناہ دی ہے انہیں افغانستان میں ہم خیالوں کو منظم کرکے تحریک چلانے کی اجازت دے اور کسی بھی طور مانع نہ ہو۔ غالب امکان یہی ہے کہ امریکی افغانستان میں ترقی پسندوں اور سوویت یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط اور مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بندی ہر دو سے آگاہ ہوچکے تھے۔ اسی طرح وہ ایران میں شاہ مخالف قوتوں کو منظم ہونے سے بھی پوری طرح با خبر تھے۔ ان( امریکہ) کی خواہش تھی پاکستان خطے میں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں امریکہ کا ساتھ دے۔ بھٹو نے اس تجویز کو یکسر مسترد کردیا جس کے بعد امریکیوں نے اپنے منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 5جولائی 1977ء کا مارشل لاء امریکی منصوبہ کا حصہ تھا۔

ملک میں مارشل لاء نافذ ہوا تو قومی اتحاد کے تین رہنمائوں نے سب سے پہلے اس کا خیر مقدم کیا۔ میاں طفیل محمد' اصغر خان اور پیر پگاڑا۔ ان تینوں حضرات کی جماعتوں کے کارکنوں نے الحمدللہ بھنگڑے ڈالے' حلوے کی دیگیں چڑھائیں اور لٹھ بردار جلوس نکالے ان لٹھ بردار صالح جلوسوں میں بھٹو اور ان کے خاندان کے لئے جو زبان استعمال کی جاتی تھی اسے سن کر لوگ کانوں کو ہاتھ لگانے لگتے تھے۔ جنرل ضیاء نے بھٹو صاحب سے مری میں نظر بندی کے دوران تین ملاقاتیں کیں۔ آخری ملاقات میں کچھ تلخی بھی ہوئی اس حوالے سے جو خبریں اور افواہیں اڑیں ان سے قومی اتحاد کے قائدین نے فائدہ اٹھایا۔ 90دن کے لئے ریفری کاکردار ادا کرنے اور بیرکوں میں واپس جانے کا وعدہ کرنے والے جنرل ضیاء گیارہ سال ایک ماہ اور چند دن اقتدار پر قابض رہے۔ ان کے دور اقتدار میں ہی افغان انقلاب ثور برپا ہو ا اور ایران میں شاہ کا تختہ الٹ کر اسلام پسند آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں برسر اقتدار آگئے۔ جنرل صاحب کی لاٹری نکل آئی خطے کے دو اہم ملکوں میں سے ایک میں سوویت نوازوں کے بر سر اقتدار آنے اور افغانستان میں سوویت یونین کی عملاً موجودگی اور دوسری طرف ایران میں اسلامی انقلابیوں کا اقتدار امریکہ کے لئے پاکستان میں جنرل ضیاء ہی آخری امید تھے۔ یاد رہے کہ 5جولائی 1977ء کی فوجی حکومت کو سب سے پہلے امریکہ نے ہی تسلیم کیا تھا۔ جنرل ضیاء کا گیارہ سالہ دور پاکستانی سماج کی وحدت ترقی پسند رویوں کو کھا گیا۔ بد قسمتی سے ریاستی سطح پر ذات برادری' نسل منافرت اور فرقہ پرستی کی سرپرستی کی گئی افغانستان کی سوویت امریکہ جنگ کو جہاد کے طور پر پیش کرکے جہاد سازی میں ہر ممکن تعاون ہوا۔ دوسری طرف 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کے لئے مہاجرین کے عالمی قوانین پر عمل کی بجائے مسلم اخوت کا پرچار ہوا جس سے مزید مسائل پیدا ہوئے۔ ان گیارہ برسوں کے دوران بھٹو صاحب پھانسی پر چڑھائے گئے۔ 25ہزار سے زیادہ جمہوریت پسند سیاسی کارکنوں' ادیبوں' صحافیوں کو کوڑے مروائے گئے۔ خصوصی اور سمری ملٹری ٹرائل سے عدالتوں نے ہزاروں افراد کو ایک سے 10اور14 سال کی سزائیں سنائیں۔ یہ بھی بدقسمتی ہی ہے کہ حیدر آباد جیل سے رہائی کے بعد خان عبدالولی خان (وہ نیپ پرپابندی کے بعد بننے والے حیدر آباد سازش کیس میں دوسرے رہنمائوں کے ساتھ قید تھے) نے پہلے احتساب پھر انتخابات کا نعرہ لگایا۔ گو اگلے برسوں میں قومی اتحاد کی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام' این ڈی پی' تحریک استقلال' مسلم کانفرنس' پی ڈی پی وغیرہ جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف بننے والے سیاسی اتحاد ایم آر ڈی میں شامل ہوئیں مگر جو نقصان پہلے احتساب پھر انتخاب کے نعرے سے ہوا وہ پورا نہ ہوسکا۔ جنرل ضیاء الحق کا گیارہ سالہ عہد ستم سینکڑوں ہزاروں نوجوانوں کی جوانیاں کھا گیا۔ بد ترین تفتیشی مراکز اور جیلیں آباد ہوئیں۔ جماعت اسلامی نے بھرپور طریقے سے بی ٹیم کاکردار نبھایا اور فیض پایا۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں