Daily Mashriq

حقائق،پروپیگنڈہ اور خطرات

حقائق،پروپیگنڈہ اور خطرات

بجٹ کے بعد کی حالیہ مہنگائی سے عوام سخت پریشان ہیں۔راتوں رات سی این جی کی قیمت میں فی کلو بائیس روپے اضافہ نے کاروبار زندگی کو اس طرح متاثر کیا ہے کہ خلق خدا واقعتاً چیخنے لگی ہے۔پشاور میں ٹیکسی گاڑیاں چھوٹی بڑی سب سی این جی پر چلتی ہیں اور اُنہوں نے گیس کی قیمتیں بڑھنے پر مجبوراً کرایے بھی بڑھائے ہیں۔لیکن اس سے اُن کی مزدوری اور دیہاڑی بچت پر بہت ناخوشگوار اثر پڑتا ہے۔ سواریاں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ الجھتی ہیں کہ کل تک فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک میں نے اتنا کرایہ دیا تھا اور اب آپ اچانک ایک سٹاپ سے دوسرے سٹاپ چالیس پچاس روپیہ زیادہ طلب کر رہے ہیں ٹیکسی ڈرائیوراور دیگر نقل وحمل کی گاڑیوں کے مالکان اپنا رونا روتے ہیںکہ صبح سویرے نکلتے ہیں دن بھر سخت گرمی اور دھوپ وحبس میں گھوم پھر کر بمشکل ہی بچوں کے لئے پانچ سو کا نوٹ کما کر جاتے ہیں جس سے اس مہنگائی میں بہت مشکل ہے۔ اُس دن تو ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ بات ہوئی تو جس دلگداز انداز میں تقریباً روتے ہوئے اپنی کتھا سُنائی کہ پورا دن ٹیکسی بھگا بھگا کر1500کمایا 1000کی سی این جی ڈلوائی،پانچ سو مالک کو دیئے اور میں شام کو خالی ہاتھ تھکا ماندہ بچوں اور اُن کی ماں کی منتظر نگاہوں کا سامنا نہ کرسکتے ہوئے چارپائی پر اوندھا گرا۔ اور دوسرے دن ایک صوفی جوان جو فروٹ کا کاروباری تھا،کہنے لگا، حالات بہت مشکل ہیں۔ مہنگائی ہے ،لیکن کپتان کو سوچ سمجھ کر ووٹ دیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تین چار سال کے اندر اندر حالات سنور جائیں گے۔اُس نیم خواندہ پھل فروش کی باتیں سُن کر مجھے بھی امید بندھ گئی کہ چلو کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو مہنگائی برداشت کرنے کا عزم رکھتے ہوئے اچھے دنوں کی امید پرجی رہے ہیں۔

لیکن کپتان کی حکومت اور اس کے اہل کاروں کو خبر ہو کہ کچھ تو واقعی مہنگائی ہوئی ہے جس کی اہم وجوہات ہیں۔ ملک مقروض ہے۔آئی ایم ایف کے نئے قرضے کی شرائط بھی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور کارکردگی کی وجہ سے خلق خدا کی پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

عوام پاکستان کی بنیادی ضروریات میں آٹا، گھی ، چینی، چائے اورصابن و دوائیاں وغیرہ ہیں ۔ان اشیاء سے آٹا اور گھی تو پاکستان کی اپنی پیداوار ہے لیکن ان اشیاء کے کارخانوں اور میلوں پر ٹیکس وغیر لگانے سے ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔سات سو روپے میں ملنے والا بیس کلو آٹے کا تھیلا900پر پہنچ چکا ہے۔یہی حال چینی کا ہے اور گرمی کے موسم میںشربت پینا پلانا پاکستان کی روایت ہے اور اسپرین اور ڈسپرین کی گولی تو مزدور وزمیندار کی جیب میں ہوتی ہی ہے کہ بدن ہروقت کچھ بیماریوں کچھ غربت یعنی غم دوراں اور غم جاناں مل کر غریبوں کا برا حال کئے ہوئے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ان تین چار اہم چیزوں پر حکومت غریبوں کی خاطر سبسڈی دیدے اور یوٹلیٹی سٹورز سے صرف غریبوں ہی کو یہ اشیا دینے کے فول پروف انتظامات کئے جائیں ورنہ حکومت کو یاد رکھنا ہوگا کہ مخالفین دن دگنی رات چگنی ترقی ورفتار کے ساتھ عوام کے کان بھرنے میں لگے ہوئے ہیں اور طعنے دے رہے ہیں کہ عمران خان کو ''پھر ووٹ دو'' چونکہ عوام بے چارے تو روزانہ کی بنیادوں پر اپنے شب وروز دیکھتے بھالتے ہیں۔اُن کو وزیراعظم کی کرپشن کے خلاف قانون سازیاں،ایف بی آر' ٹیکس کلیکشن کی پیچیدگیاں'منی لانڈرنگ کی روک تھام اور بے نامی جائیداوں کی ضبطگی کی نہ خبر ہے اور نہ دلچسپی اور نہ ہی ان کو یہ معلوم ہے کہ جب بے نامی جائیدادیں حکومت پاکستان کے خزانے میں آئینگی تو اس کا فائدہ عوام کو زندگی کے ہر شعبے میں ملے گا۔ وہ تو بس فوری اور جلد اپنے روزمرہ کے مسائل ، روٹی کپڑا مکان،نہیں صرف روٹی ،تعلیم،صحت کی سہولتوں کے طلبگار ہیں۔

روٹی کپڑا مکان تو عوام پاکستان کو کب کا مل چکا ہے اور اب بھی سلسلہ جاری ہے اور امید ہے کہ یہ نعرہ جلد پایۂ تکمیل کو پہنچ کر رہیگا۔کیونکہ اس وقت ریاست نے مصمم عزم کیا ہے کہ قانون سے بالا کوئی نہیں۔ لیکن عمران خان کو یہ سارے کام کرتے ہوئے اپنے غریب عوام کے دکھوں کا مداوا بہت جلد کرنا ہوگا کیونکہ خطرہ اور خدشہ اس بات کا ہے کہ عوام کو صبر وضبط کا بندھن غربت اور فقر سے ٹوٹ کر نہ رہ جائے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کا سیل رواں نکل پڑتا ہے تو اُس کے راستے میں اگر کوہ گراں بھی آجائے تو آخر بہہ ہی جاتے ہیں۔ لیکن اس وقت تک عوام کو امید ہے کیونکہ کپتان کو عوام نے تھرڈ آپشن کے طور پرچنا ہے۔

متعلقہ خبریں