Daily Mashriq

سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا کھیل

سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا کھیل

پی ٹی آئی کی حکومت ابھی اپنا پہلا سال بھی پورانہیں کر پائی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ سامنے آیا ہے اس تناظر میں حکومت اوراپوزیشن دونوں ہی اس تگ ودو میں ہیں کہ کسی طرح سے ایک دوسرے کے منتخب اراکین کو توڑ کر اس کی حمایت حاصل کر لی جائے،اس سلسلے میںگزشتہ ہفتہ پنجاب سے شروع ہونے والی ایک سیاسی ڈویلپمنٹ نے اب پنجاب ہی نہیں پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اپوزیشن بھی لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئی ہے اور حکومت نے بھی اپنے تیر و تفنگ تیز کرلیے ہیں۔ یہ سیاسی ڈویلپمنٹ اس وقت منظرعام پر آئی جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے 14 ارکانِ صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات نہ صرف خفیہ تھی بلکہ اسے اپنی اپنی قیادتوں سے بھی چھپایا گیا تھا۔حکومت نے اپوزیشن ارکان کو توڑنے کا کام تیز کردیا ہے، جبکہ اپوزیشن اپنے ارکان کو روکنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہے، جس میں شاید وہ بہت زیادہ کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ ملک کے معاشی، سیاسی اور سفارتی حالات کے دگرگوں ہونے کے باوجود اب تک مقتدر حلقے تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ وفاداریاں تبدیل کرنے کے خواہشمند ارکان اسمبلی نے بھی یا تو مقتدر حلقوں کے اشارے پر، یا اپنی معلومات اور اندازوں پر اپنی کچھاریں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی پوری تاریخ ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیشہ اپوزیشن جماعتوں کے ٹکٹوں پر منتخب ارکان ہی وفاداریاں بدلتے ہیں، جبکہ آزاد حیثیت میں جیتنے والے فوری طور پر یہ کام کرلیتے ہیں۔ اب تو شاید قانونی مجبوری بھی ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ جس حلقے کے عوام نے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو مسترد کرکے ایک آزاد امیدوار کو کامیاب کرایا ہے، گویا اس حلقے کا مینڈیٹ سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے، اس حلقے کا منتخب رکن چند دن بعد ہی ایک سیاسی جماعت کس طرح جوائن کرلیتا ہے جس کے خلاف وہ زہر اگل کر اس جماعت کے خلاف عوام کا مینڈیٹ لے کر آیا ہے۔ فاٹا کے ارکان ابتدا ہی سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہوکر ہمیشہ حکمران جماعت میں شامل ہوتے رہے ہیں۔ وفاق میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت بنتے ہی آزاد کشمیر میں بھی اس پارٹی کی حکومت بن جاتی ہے چاہے اس وقت وہاں کسی اپوزیشن جماعت کی ہی حکومت کیوں نہ ہو۔ 1950ء کے آخری برسوں میں راتوں رات بننے والی ڈاکٹر خان کی ری پبلکن پارٹی نے مغربی پاکستان میں اپنی حکومت بنالی تھی اور ارکانِ اسمبلی کی اکثریت اس میں شامل ہوگئی تھی یا شامل کرادی گئی تھی۔ 1970ء کے انتخابات میں اس وقت کے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نیپ اور جے یو آئی کی جائز مشترکہ منتخب حکومت بنی تھی، لیکن وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پارٹی نے ان حکومتوں کو توڑ کر لوٹا کریسی کی بنیاد پر وہاں اپنی حکومتیں بنالی تھیں۔ اور آزاد کشمیر میں بھی سردار عبدالقیوم خان کی منتخب حکومت ختم کرکے پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت بنالی تھی۔ 1988ء میں پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے آصف علی زرداری نوٹوں سے بھرے بریف کیس لے کر لاہور آبیٹھے تھے، جبکہ نوازشریف نے بھی نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھول کر یہاں نہ صرف اپنی حکومت بنالی تھی بلکہ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو بڑا ٹف ٹائم بھی دیا تھا۔ چھانگا مانگا اور میریٹ ہوٹل آپریشنز کی اصطلاحیں نوازشریف ہی کے دور میں وجود میں آئی تھیں جب ارکانِ اسمبلی کو اغوا کرکے وہاں قید رکھا گیا تھا تاکہ لوٹے نہ بن سکیں۔ 2013ء کے انتخابات میں بلوچستان میں سب سے زیادہ نشستیں ق لیگ کی تھیں مگر ارکان کو توڑ کر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور پھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنائی گئی۔ اور پھر حال ہی میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کرکے BAP کی حکومت بنائی گئی، اسی پارٹی کا چیئرمین سینیٹ بھی منتخب کرا لیا گیا جس کے خلاف اب مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پیپلز پارٹی بھی متحرک ہوگئی ہے، حالانکہ پیپلز پارٹی نے صادق سنجرانی کی بھرپور حمایت کی تھی، بلکہ اپنے امیدوار سلیم مانڈوی والا کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بھی منتخب کرالیا تھا۔ اس وقت کی سیاسی کشیدگی میں صورتحال یہ ہے کہ سرِدست اپوزیشن کی سینیٹ میں اکثریت ہے، لیکن جس طرح حکومت قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے ارکان توڑ رہی ہے وہ اپوزیشن سینیٹرز کو بھی ضرور توڑے گی۔ تاہم اس کے نتیجے میں پہلے سے قائم ایک بری روایت مزید مضبوط، اور جمہوریت، جمہوری اقدار اور اصولی سیاست مزید کمزور ہوگی۔ چیئرمین سینیٹ گھر جائیں یا قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اپوزیشن ارکان لوٹا کریسی کا شکار ہوں، اس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ پہلے سے معاشی، سفارتی اور سیاسی الجھنوں میں گھرا ہوا ملک مزید افراتفری اور بے یقینی کی نذر ہوجائے گا۔ہم ترقی کی راہ میں مزید کئی سال پیچھے رہ جائیں گے ظاہر ہے اس کے مضر اثرات معیشت پر بھی مرتب ہوں گے جس سے غریب متاثر ہوگا۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ چند دن قبل تک میثاق معیشت کی بات سامنے آرہی تھی اس سے امید ہو چلی تھی کہ اپوزیشن اور حکومت باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے تجربے سے مالی بحران پر قابو پا لیں گے(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں