بے رخی بے سبب نہیں

بے رخی بے سبب نہیں

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کی باقاعدہ پریس کانفرنس میں سیاست اور الیکشن میں نہ گھسیٹنے کا بیان سنجیدہ اور قابل غور اسلئے ہے کہ فوجی ترجمان عوماً اس وقت ہی کسی معاملے پر بات کرتے ہیں جب ایسا کرنا ناگزیر ہو جائے وگرنہ حتی المقدور گریز اور برداشت سے کام لینے کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی سخت ہدایت تھی کہ پی ٹی ایم کے جلسے کو طاقت سے منتشر نہیں کرنا، لاہور جلسے میں آرمی چیف نے پولیس کو پی ٹی ایم کارکنوں کی پکڑ دھکڑ سے منع کیا، تاحال پی ٹی ایم کیخلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں کیا گیا لیکن اب ہمارے پاس پی ٹی ایم کیخلاف بہت سارے ثبوت ہیں، یہ لوگ استعمال ہو رہے ہیں۔ وانا واقعہ سے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وانا میں پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر اور دیگر کارکن فوج مخالف نعرے لگا رہے تھے، امن کمیٹی اور پی ٹی ایم کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوگیا جس میں ہلاکتیں ہوئیں، آپ ریاست کو طاقت کے استعمال پر مجبور کر رہے ہیں جو ہم نہیں چاہتے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اینٹی پاکستان اور اینٹی آرمی اکاؤنٹس میں اضافہ ہوا ہے، سوشل میڈیا پر ہونے والی باتیں سچ نہیں ہوتی، سوشل میڈیا ہمارے بچوں اور نوجوانوں کیلئے سب سے مہلک خطرہ ہے، جہاں ہماری ذات کی بات ہے اسے ہم برداشت کرتے ہیں لیکن ملک کیخلاف بات کو برداشت نہیں کرتے اور متعلقہ اتھارٹی کو آگاہ کرتے ہیں، کچھ سیاستدان بھی ملک کیخلاف کی جانے والی ٹوئٹس کو شیئر کرتے اور شاباش دیتے ہیں، سوشل میڈیا تاحال خطرہ نہیں لیکن بہت سارے ممالک نے اسے کنٹرول کیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان کی بہت سے معاملات پر تشویش فطری امر ہے۔ ہمارے تئیں سب سے تشویش کی بات یہ ہے کہ بعض ایسے عناصر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جن سے واضح بیانیہ پر بات چیت کی گنجائش موجود ہے اس ضمن میں مختلف ذرائع اور جرگوں کے ذریعے تضادات طے کرنے کی مساعی بھی سامنے آئی ہے۔ خود میجر جنرل آصف غفور کا اس ضمن میں کردار وعمل قابل تحسین اور دفع شر کیلئے سنجیدہ کوشش کے زمرے میں آتا ہے۔ بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی گروہ کی طرف سے اپنے تحفظات اور معاملات پر بات چیت گفت وشنید اور جرگہ پر اتفاق کیا جائے تو ملک وقوم اور ریاست کے بہتر مفاد میں ان کی غلط فہمی دور کرنے کیلئے ان سے بات چیت اور تحفظات دور کرنے کی سعی احسن ہوگا، جس کی ایک سعی کا ذکر ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود کیا ہے علاوہ ازیں بھی پاک فوج کی قیادت کی طرف سے اس ضمن میں آمادگی اور نرم رویہ کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اس حد تک تو مطالبات کرنے اور ایک قدم آگے بڑھ کر احتجاج کی بھی گنجائش ہے مگر جہاں معاملات میں بیرونی عناصر کی مداخلت اور ان کی ہدایات کی دخل اندازی جیسے معاملات سامنے آئیں وہاں گربہ کشتن روز اول کے علاوہ اسلئے کوئی گنجائش نہیں کہ اولاً اس قسم کے معاملات میں صرف نظر درگزر صبر وبرداشت جیسے الفاظ کی گجائش نہیں کجا اس کا مظاہرہ کیا جائے۔ ایسا کرنا اسلئیبھی ضروری ہے کہ اس قسم کے معاملات پر اگر ابتدا ہی میں قابو نہ پایا جائے تو یہ معاملات پھیل جاتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو صبرو برداشت کے مظاہرے کی وجہ سے عوامی سطح پر نہیں تو سوشل میڈیا کی سطح پر نہ صرف معاملات کافی پھیل چکے ہیں بلکہ ایسی جرأت کا اظہار بھی سامنے آرہا ہے جو فوج کی قیادت کیلئے ہی نہیں عوام کیلئے بھی قابل برداشت نہیں۔ مشکل امر یہ ہے کہ ایک طرف یہ جذباتی عناصر ہمارے ہی ہم وطن اور بھائی ہیں ان کے بعض مطالبات سے بھی صرف نظر ممکن نہیں لیکن دوسری جانب تکلیف دہ امر ان کا دوسروں کے ہاتھوں کھیلنا ہے۔ ان کی جانب سے راؤ انوار کے حوالے سے شکایات کو بے جا قرار نہیں دیا جا سکتا مگر بجائے اس کے کہ وہ معاملات پر راست طریقے سے بات کریں بات کو گھما پھرا کر اور ایسے علامات کا استعمال کر کے جو بظاہر بے ضرر ہونے کے باوجود دوسروں کی نمائندگی کا تاثر دینے والے ہوں ایسی ناقابل فہم غلطیاں نہیں جن کو سمجھا نہ جاسکے مستزاد سوشل میڈیا پر جو طوفان کھڑا کیا گیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ خدانخواستہ ملکی حالات اور سابقہ فاٹا اور اب خیبر پختونخوا کے ایک خاص حصے میں کوئی ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ عوام کیلئے ہر طرف خطرات ہی خطرات ہیں۔ اگر ہم گزشتہ روز کے امن کمیٹی اور ایک گروہ کے درمیان کشیدگی اور تصادم کی صورتحال کا اس علاقے کے ماحول کی مناسبت سے جائزہ لیں تو قبائلی معاشرے میں اس قسم کی صورتحال تو روزمرہ کی معمول میں آتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں معمولی معمولی تنازعات پر شدید قسم کی لڑائیاں چھڑ جانا اور دو ریاستوں کے درمیان جنگ کی سی طاقت کے استعمال کی نوبت آتی رہی ہے۔ دوسری جانب اس بات کی بھی بہرحال گنجائش نہیں ہونی چاہئے تھی کہ قبائلی علاقوں میں جہاں پرندہ پر نہیں مار سکتا سخت نگرانی اور کڑے حفاظتی اقدامات موجود ہیں وہاں امن کمیٹی کے ارکان کی اس قسم کی مداخلت اور تصادم کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے تھی اور اگر یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو اس کی روک تھام میں ناکامی سمیت اس کی وجوہات معلوم کرنے اور ذمہ داراروں کا تعین کرنے کیلئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ذمہ داری پوری کی جانی چاہئے اور ایسا کر کے ہی ہم اس گروہ کے بیانیہ کو رد کر سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب جبکہ قبائلی علاقہ جات کا وجود باقی نہ رہا، دہشتگردوں کا صفایا ہو چکا ہے تو امن کمیٹی اور اس قسم کے درمیانی انتظامات بشمول گڈ اور بیڈ سبھی کا قضیہ اب لپیٹ دینے کی ضرورت ہے اور علاقے میں حکومتی وریاستی عملداری کو یقینی بنانے کیلئے آئین ودستور اور قانون کے مطابق اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے امکانات اور اس سے پیدا شدہ اشکال کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ جو جو عناصر جن جن کے ہاتھوں میں کھیلنے کا خطرناک رجحان رکھتے ہیں ان کو اس سے باز رکھنے کیلئے مصلحت سے لیکر طاقت تک کا استعمال ہونا چاہئے۔ اگر ان کے تحفظات دور کرنے کی گنجائش باقی ہے تو اس کیلئے سنجیدہ کوششوں میں تاخیر نہ ہو ان عناصر کا حقیقی چہرہ عوام کے سامنے لایا جائے تو عوام خود بخود ان عناصر کے پروپیگنڈے سے اثر نہیں لیں گے۔ معاملات کا راست اور معروضی انداز میں جائزہ لینے اور اس کے مطابق ہی قدم لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے عوام کی اپنے وطن اور ملک وقوم سے محبت اتحاد ویگانگت کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ قبائلی عوام ہمارے بازوئے شمشیر زن رہے ہیں اور رہیں گے۔ چند ایک عناصر کی جانب سے اٹھتی آوازیں قبائلی عوام کی آواز نہیں بن سکتی اور نہ ہی قبائلی عوام ان سے متاثر ہوں گے، پاک فوج کو سیاست اور الیکشن میں گھسیٹنا یقیناً کسی کے مفاد میں نہیں بلکہ اس قسم کی کوئی سعی اغیار کی سازش تو ہوسکتی ہے احباب کی نہیں۔ اس ضمن میں غلط فہمیوں اور اس قسم کے تاثرات کی وجوہات کیا ہیں اس کا بھی ٹھنڈے دل سے جائزہ لینا ضروی ہے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور خواہ مخواہ کا منفی تاثر دم توڑ جائے۔ ہمارے تئیں اس منفی تاثر کا خاتمہ انتخابی عمل کیساتھ ہی ہوگا۔ جوں جوں بتدریج سیاسی اور انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آتی جائے گی ساری توجہ انتخابات کی طرف مبذول ہوگی اور چہ میگوئیاں خودبخود دم توڑ جائیں گی۔

اداریہ