فوڈ اتھارٹی کے حکام بھی بہکنے لگ گئے

فوڈ اتھارٹی کے حکام بھی بہکنے لگ گئے

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی حلال فوڈ اتھارٹی کے حکام کی ہوٹل مالکان کی طرف سے دیئے گئے دنبہ کے تحفے کو قبول کرنا اور اتھارٹی کے ترجمان کا اس کا باقاعدہ اعتراف قابل توجہ معاملہ ہے۔ ہوٹل مالکان کے تحفے کی قبولیت عام حالات میں نہیں کی گئی بلکہ اتھارٹی نے ان کیخلاف باقاعدہ مہم شروع کی ہے اگر اس دوران کسی جانب سے خلاف قانون اقدام کیا گیا تھا تو سرکاری اہلکاروں کیخلاف ان کے روئیے اور اقدام پر قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہئے تھی یہ کوئی قبائلی جرگہ نہیں تھا اور نہ ہی سرکاری معاملات میں رسم ورواج کی کوئی اہمیت وگنجائش ہے۔ اس کے باوجود اس اقدام کو بدعنوانی اور رشوت کے زمرے ہی میں شمار نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں جس کا چیف سکریٹری کو فوری نوٹس لینا چاہئے۔ جہاں تک فوڈ اتھارٹی کی فعالیت اور کارکردگی کا تعلق ہے اب تک وہ قابل تحسین رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ روایتی سرکاری تساہل اور معاشرتی دباؤ جیسے معاملات اب اتھارٹی کے کاموں میں رکاوٹ بنتے جارہے ہیں اور متعلقہ حکام راست اقدام کی بجائے مصلحت کا راستہ اپنانے لگے ہیں جو اس اہم ترین محکمے کی کارکردگی کیلئے زہر قاتل سے کم کا درجہ نہیں رکھتا۔ عوام کو فوڈ اتھارٹی کے حکام سے بڑی توقعات وابستہ ہیں ان کو قبائلی روایات کی بجائے سرکاری فرائض کی ادائیگی کو مقدم رکھنا چاہئے اور کسی ایسے اقدام سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جس سے ان کے محکمے کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھانے کی نوبت آئے۔
نادیدہ کتاب پر برپا ہنگامہ
خاتون صحافی وسماجی کارکن ریحام خان کی کتاب جب آئے گی تبھی اس کے مندرجات ومضامین کا علم ہوگا لیکن کچھ مبینہ افشا مواد اور معاملات پر تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں اور بہی خواہوں نے جو قبل ازوقت مہم شروع کی ہے یہ سمجھ سے بالاتر امر ہے۔ خود ریحام خان اور ان کے مبینہ پشیبانوں کو بھی شاید یہی مطلوب تھا۔ ویسے بھی ہوا میں تیر چلانا اور کسی ناپسندیدہ موضوع کو قبل ازوقت موضوع بحث بنانا جلد بازی کے زمرے میں آتا ہے جس کا نقصان جلد بازوں ہی کو ہوتا ہے۔ میڈیا پر ریحام خان کو عمران خان کی سابقہ اہلیہ لکھنا اور پیش کرنا بھی درست نہیں اولاً تو طلاق کے بعد سارے معاملات کا ازخود خاتمہ ہو جاتا ہے اور اگر نہیں ہوتا تو پھر اس کیلئے مطالبے کا لفظ استعمال ہونا چاہئے اور یہی درست ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس کتاب کو جو ابھی چھپی بھی نہیں اور معلوم نہیں پیچیدگیوں کا شکار ہو کر سامنے آئے گی بھی یا نہیں اس کا خواہ مخواہ ہوا کھڑا کرنے کی غلطی نہ کی جائے۔ کتاب کی اشاعت اور ٹھوس مواد سامنے آنے کے بعد اس کا جواب اور قانونی راستہ اختیار کرنا اس وقت مناسب اور قانونی واخلاقی طریقہ ہوگا۔ کیچڑ اچھالنے والے اور کیچڑ پر پتھر پھینکنے والے دونوں ہی کوئی فلاح کا کام نہیں کر رہے ہیں بہتر ہوگا کہ وہ اس سے باز آجائیں۔

اداریہ