ریحام نہیں رہام خان

ریحام نہیں رہام خان

اُردو بول چال میں انگریزی زبان کا بے جا اور متشدّانہ استعمال نے زبان دانی اور علمیت کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے اور غلط العام کا ناجائز سہارا لے کر علمی اہلیت میں مزید بگاڑ پیدا کر دیا جاتا ہے، خیر یہ الگ سے موضوع ہے مگر ایک اہم بات یہ ہے کہ انسان کے ذاتی نام بڑی دلچسپ صورتحال رکھتے ہیں، کسی شخصیت کا نام اس کے حق ملکیت پر ایسی گرفت رکھتا ہے کہ اس بارے میں کسی دوسرے کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ناموں کا موضوع دلچسپ بھی ہے جس پر پورا دفتر بھرا جا سکتا ہے مگر اس وقت بات ہوگی رہام خان کی۔۔ وہ اپنا نام اُردو میں ریحام خان ہی لکھتی ہیں اور اخبارات میں اسی تختی پر چھپتا ہے۔ نام کے بارے میں دنیا بھر میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ وہ بامعنی ہونا چاہئے، ریحام دنیا کی کسی زبان کا لفظ نہیں ہے جب یہ لفظ دنیا اسلام کی کسی زبان میں شامل نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے معنی بھی بے معنی ہیں البتہ رہام عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں فرحت بخش پھوار، مسلسل بارش یا پھوارچنانچہ رہام خان یا ریحام خان کا درست نام کیا ہے یہ وہ خود ہی فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہیں اس میں کسی کو حق نہیں ہے حتیٰ کہ بابا رحمتے بھی ازخود نو ٹس لینے سے عاجز ہیں۔
چلیںنام میںکیا رکھا ہے بے نام بھی نامور ہوتے ہیں۔ اس وقت رہام خان یا ریحام خان کی کتاب سب سے زیادہ نامور ہے جو ابھی چھپی نہیں لیکن اس کے چرچے عام ہیں، لگتا ہے کہ یہ کتاب انتخابی دور کی ایّام عام قرار پائے گی بلکہ پا گئی ہے۔ اس موقع پر پشاور کے عالمی شہرت یافتہ شاعر خاطر غزنوی کی انتہائی مشہور غزل کا ایک مصرعہ یاد آرہا ہے کہ
میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اس گلی میں میر ے افسانے گئے
اس شعر کی نسبت عمران خان یا رہام / ریحام خان سے نہیں ہے ویسے بھی دونوں پٹھان ہیں اسلئے مقابلہ بھی ٹکر کا ہے اس بیچ کسی کو دخل کی ضرورت نہیں ہے لیکن قابل توجہ امر یہ ہے کہ ایک کتاب جو ابھی تک مسودے کی صورت رکھتی ہے اس کے صفحات یا پورا مسودہ کیسے چوری ہو گیا گویا یہ کتاب اس اہمیت کی حامل ہے کہ پی ٹی آئی نے کسی سیاہی کے پھیلنے کے باک میں مسودے کا پیچھا کیا اور اس کو ہتھیا لیا جو ظاہر ہے کہ اخلاقی اصولوں کے زمرے میں نہیں آتا، کتاب لکھنا ریحام خان کا حق ہے وہ کیا لکھتی ہیں اس میں ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جو بھی لکھیں سچ لکھیں سچ کے علاوہ کچھ نہ لکھیں لیکن کتاب کے جو اقتباسات منظر عام پر پی ٹی آئی کے کمانڈوز لائے ہیں وہ اس امر کی غمازی کر رہے ہیںکہ واقعی یہ کتاب پی ٹی آئی کی بعض شخصیت کے کردار پر بجلی بن کر کوندتی لیکن کیا کہتے ہیں کہ جس امر کا خوف تھا جس کیلئے اتنی جدوجہد کی کہ مسودہ کتابی شکل نہ اختیار کر سکے اس خوف کو سرعام خود ہی ننگا کر دیا ۔کیا عقلمندی کا کردار ادا کیا ہے جس کی پردہ پوشی چاہتے تھے اس کو برہنہ کر بیٹھے اور ایسی پچھلی مت کا مظاہرہ کیا کہ کتاب کے مارکیٹ میں آنے سے ایسی شہرت حاصل ہو گئی کہ عام شہری جن میں مطالعہ کا شوق باقی نہیں رہا ہے بے چین نظر آرہے ہیں۔ پوچھتے پھر رہے ہیںکہ کتاب کب سوق العام میں دستیاب ہوگی، اگر ریحام خان لاکھوں خرچ کر کے بھی کتاب کی تقریب رونمائی کرتیں تو بھی وہ کتاب کی وہ شہرت حاصل نہ کر پاتیں جو پی ٹی آئی کے دانشور آموز نے آسان کر دی۔
قانون دان کہتے ہیںکہ ہتک عزت کا نوٹس اس وقت دیا جاتا کہ جب ہتک رونما ہو جائے ابھی کتاب چھپی ہی نہیں ہے اور چار افراد کی جانب سے ریحام خان کو ہتک عزت کے نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جن افراد نے یہ نوٹس جاری کئے ہیں ان کو یہ بتانا پڑے گا کہ ان کے پاس کتاب کا مسودہ کس طور آیا، یا جیسا کہ ریحام خان کا گمان ہے کہ یہ چوری کیا گیا ہے، گویا ان پر مسودہ چوری کرنے کا الزام لگ سکتا ہے، جن چار افراد کی جانب سے قانونی نوٹس جاری کیا گیا ہے انہوں نے اس نوٹس کی وجوہات کو ابلاغ عام کر دیا ہے، کتاب چھپی نہیں ہے اس میں یہ باتیں ہوں گی بھی یا نہیں لیکن اپنے بارے میں پول خود کھول دیا ہے، ان نوٹس دینے والوں میں ریحام خان کے سابق یعنی پہلے شوہر اعجاز رحمان بھی ہیں۔ اعجاز رحمان نہ صرف ریحام کے شوہر رہے بلکہ وہ قریبی عزیز کا درجہ اب بھی رکھتے ہیں، اعجاز ریحام خان کے پھوپھی زاد ہیں اور دونو ں گھر کے بھید ی بھی ہیں۔ ریحام خان کی مجوزہ کتاب کے بارے میں غور کیا جائے تو یہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریحام خان نے یہ کتاب ایک صحافی، بیوی، سیاستدان اور شہری کی حیثیت سے لکھی ہے جہاں تک اعجاز، سابق کرکٹر اور دو دوسرے افراد کی جانب سے نوٹس کا تعلق ہے اس میں یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ان چاروں نے ایک ہی فرم کے ذریعے مشترکہ طور پر نوٹس کیوں بھیجوائے، کیا یہ سب کسی خاص منصوبہ بندی سے کیا جا رہا ہے، جیسا کہ ریحام خان کا استفسار ہے کہ پی ٹی آئی ان کی کتاب کی اشاعت پر کیوں بے کل ہو رہی ہے کہ کسی پل چین نہیں آرہا ہے اور محترمہ کو دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ فواد چودھری جن کو ہر اس پارٹی کا بھونپوں ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس میں انہوں نے قدم ٹکائے ہوتے ہیں ان کو اعتراض ہے کہ الیکشن کے اس موقع پر ریحام خان کا کتاب شائع کرنے کا پروگرام یہ نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی خاص ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ یہ کوئی دور کی کوڑی نہیں ہے، الیکشن ہی وہ معروف دن ہوتے ہیں جب ووٹر اپنے لیڈروں کے اصل چہرے بے نقاب دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے۔ اس سے اچھا موقع کوئی دوسرا نہیںہو سکتا تھا۔ پھر اس کتاب کو ہاٹ کیک سے بھی زیادہ فروخت کا بندوبست پی ٹی آئی کے اکابرین نے کر دیا ہے تو پھر ریحام خان ایسا سنہرا موقع کیوں کر گنوائیں گی۔ جس طرح کتاب کی اشاعت سے پہلے ریحام خان کو عدالتوں میں گھسیٹنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں وہ کتاب کی اشاعت کے بعد زیادہ مؤثر انداز میں ہو سکتی ہے اگر اس میں جھوٹ وعناد ہوا۔

اداریہ