کیا چیف جسٹس ہی مسائل حل کرواینگے؟

کیا چیف جسٹس ہی مسائل حل کرواینگے؟

رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں میں کوشش یہ ہونی چاہئے کہ باقی ماندہ دن اور خاص طور پر آخری طاق راتوں میں ہم کم ازکم آخرت کیلئے اتنی تو کوشش ضرور کریں جتنا ہم اس فانی دنیا کیلئے کرتے ہیں، کبھی سوچیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو ایسا کوہلو کا بیل بنا لیا ہے کہ اس چکر سے کبھی نکلنے پر تیار ہی نہیں، الا یہ کہ خدانخواستہ صحت، حادثہ یا کوئی دیگر وجہ ہمیں باز رکھے وگرنہ ہم نے تو بس دنیا ہی کو مقصد بنا لیا ہے مگر مسائل ہیں کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ مالک کائنات ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ آمین کچھ کالیں ایسی بھی آتی ہیں جن کو سن کر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ جاتی ہوں کہ کاش میں ان کی کچھ مدد کر پاتی مگر قانون اور ضابطوں کی گرہیں اس قدر گنجلک اور بے رحم ہوتی ہیں کہ پوری ہمدردی کے باوجود کچھ نہیں ہوتا، البتہ کال سن کر ان سے ہمدردی کا اظہار کر کے دوسری جانب یہ اطمینان ہوتا ہے کہ میں اتنا ہی کرسکتی تھی۔ ایک خاتون کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے این ٹی ایس اپنے آبائی ضلع سے اچھے نمبروں میں پاس کیا ہے مگر ان کے معمر والدین پشاور میں مقیم ہیں وہ ان کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی اور والدین کیلئے بھی بیٹی سے دوری بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پشاور منتقلی اور یہاں ذاتی گھر ہونے کی بنا پر پشاور کا ڈومیسائل بھی ان کا بن سکتا ہے مگر انہوں نے درخواست فارم دوسری جگہ سے جمع کرائی لہٰذا وہ وہاں کے میرٹ پر ہی آسکتی ہیں۔ ستم بالائے ستم وہ پوسٹ ناقابل تبادلہ ہے۔ ملازمت ملنے پر اس کیلئے قربانی لازمی دینی پڑے گی۔ اس مسئلے پر میں عزیز بھائی سے بات کر رہی تھی تو انہوں نے الٹا میرے ہی بارے میں کہہ دیا کہ کیوں آپ کو اپنے گھر اور بچوں کیساتھ ہوتے ہوئے بھی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، تب خیال آیا کہ واقعی ایسا ہی ہے ملازمت کیلئے بہت سی چیزوں کی قربانی دینی پڑتی ہے تب جاکر ملازمت ممکن ہوتی ہے۔ میں ملازمت کی متلاشی تمام لڑکیوں سے یہی کہنا چاہوں گی کہ ملازمت میں ان کو مشکلات کا سامنا ضرور ہوگا جس کیلئے ان کو تیار رہنا اور مقابلہ کرنا ہوگا۔ دنیا میں کوئی کام آسان نہیں ہوتا ہر چیز اپنی قدر وقیمت چکا کر ہی رہتی ہے۔ سرکاری قوانین اور ضوابط میں نرمی رکھی جائے تو بھی لوگ اس کا غلط فائدہ اٹھانے لگتے ہیں، نہ رکھیں تو ایسے ایسے مسائل سامنے آتے ہیں کہ انسانی ہمدردی کے تحت اس کی گنجائش ہونے کی وکالت کرنی پڑتی ہے۔اسے عدالتی فعالیت سے بندھی اُمید ہی گردانا جائے گا کہ برسوں سے لاینحل ایک مسئلے کی طرف ایک مرتبہ پھر توجہ دلائی جارہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نیٹ اوورلیزنگ اینڈ انوسٹمنٹ کمپنی سیکورٹی ایکسچینج اور کراچی سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ ہونے کے باوجود پی پی پی کی زرداری، گیلانی دور حکومت میں ملک بھر اور خاص طور پر خیبرپختونخوا اور اس وقت کے فاٹا کے بیسیوں ’ممکن ہے سینکڑوں بھی ہوں‘ افراد کی سرمایہ کاری کی رقم اچانک ہڑپ کر گئی۔ اصولی طور پر سیکورٹی ایکسچینج اور سٹیٹ بینک کو اس وقت مداخلت کر کے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے تھی جب کمپنی نے کھاتہ داروں کو منافع دینا بند کر دیا تھا یا ان کے اثاثے فروخت کر کے لوگوں کو ان کی رقوم واپس کرانے کی ضرورت تھی لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ متاثرین نے مجبوراً نیب سے رجوع کیا، کمپنی کا مالک پکڑا بھی گیا، متاثرین نے آکر ثبوت اور شہادتیں بھی پیش کیں مگر اس کے بعد ہنوز کوئی کارروائی اور کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ خیبر پختونخوا کے متاثرین نے نیب خیبر پختونخوا سے ہر ممکن تعاون بھی کیا، تگ ودو کی، مگر ان کی ڈوبی جمع پونجی اب تک نکلوائی نہیں جا سکی۔ متاثرین نے اس کالم کی وساطت سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ان کا کہنا ہے کہ اب چیف جسٹس ہی ان کیلئے امید کی کرن ہیں اور وہی ان کا مسئلہ حل کروا سکتے ہیں۔جندوخیل بنوں سے فیض اللہ شاہ نے اگرچہ اپنے علاقے کے حوالے سے شکایت کرکے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن اس لعنت سے پورے پاکستان کے عوام کا چین لٹ چکا ہے کہ رات کو منچلے موٹر سائیکلوں کا سائلنسر ہٹا کر ریس لگاتے ہیں، ون ویلنگ کے خطرناک کرتب دکھاتے ہیں۔ ان کیلئے تو یہ مشغلہ ہے مگر ہمارے لئے کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری والا معاملہ ہے۔ کمشنر بنوں، ڈی سی بنو ں اور ڈی پی او بنوں نوٹس لیں تو اس کی روک تھام زیادہ مشکل کام نہیں۔بشیرآباد پشاور میں گندگی اور کوڑا کرکٹ کی عدم صفائی، گٹر کا پانی نہر میں جانے کی شکایات کیساتھ ساتھ یہ بھی شکایت آئی ہے کہ ایک بچی کو چوہے نے کاٹ لیا۔ علاقے میں بڑے بڑے چوہوں سے مکین تنگ اور خطرے میں ہیں، چوہے پشاور کا وہ بڑا مسئلہ بن گیا ہے جس کے حوالے سے کے پی اسمبلی میں بھی بات ہوئی تھی جبکہ حکومت رخصت ہو گئی ہے مگر چوہوں کا بندوبست باقی ہے۔ مکینوں کو ازخود احتیاط اور صفائی کا خیال رکھنے ہی کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ چوہوں کی شکایت پر سابقہ صوبائی حکومت ہی بے بس نہیں رہی، چیف جسٹس بھی پشاور رجسٹری میں شکایت پر اس بارے کنی کترا گئے تھے۔ چوہے چوہے ہوتے ہیں چھوٹے ہوں یا بڑے۔ ان سے بچانے کوئی نہیں آئے گا خود کو بچا کر رکھنا ہے۔ اب تو بلی پال کر اور دیگر ذرائع سے بھی چوہوں کا تدارک مشکل ہوگیا ہے، بس احتیاط ہی اس کا حل ہے۔عوامی مسائل کی نوعیت عجیب وغریب بھی ہوتی ہے اور پیچیدہ بھی، ان کا حل آسان تو نہیں کہا جا سکتا لیکن اس کیلئے کوشش ضرور کی جا سکتی ہے جو نظر نہیں آتی۔ سرکاری عمال اگر رفتہ رفتہ بھی مسائل حل کرنے کی کوشش کرنے لگیں تو مسائل میں رفتہ رفتہ کمی آنا شروع ہو جائے گی لیکن کوئی شروع تو کرے۔
اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

اداریہ