Daily Mashriq


چوبیس اشرفیاں

چوبیس اشرفیاں

دیکھیں آپ اپنے آپ کو غریب مت کہیں، قدرت کی طرف سے آپ کو روزانہ چوبیس اشرفیاں، دن رات کے چوبیس گھنٹوں کی صورت انعام ہوتی ہیں، اور آپ ان چوبیس اشرفیوں کو بڑی بیدردی سے ضائع کر دیتے ہیں، کچھ کام نہیں لیتے ان چوبیس گھنٹوں سے جنہیں میں چوبیس اشرفیاں کہہ رہا ہوں، اگر صحیح اور برمحال کام لیتے تو آپ اپنے آپ کو غریب نہ کہہ رہے ہوتے، کیا کہا؟ غلطی کرتے ہیں، کوئی بات نہیں، غلطی انسان ہی سے سرزد ہوتی ہے،

روک لو گر غلط چلے کوئی

بخش دو گر خطا کرے کوئی

اگر آج آپ نے دن رات کے چوبیس گھنٹے ضائع کر دئیے تو کوئی بات نہیں، کل پھر ملیں گی آپ کو یہ چوبیس اشرفیاں، تاکہ آپ ان کو اچھے انداز سے خرچ کرکے دور کرسکیں اپنی غربت، سنوار سکیں اپنی قسمت، ہر صبح آپ کو مالک کن فیکون کی جانب سے یہ تحفہ ملتا ہے، بلا طلب کئے دن رات کے چوبیس گھنٹوں کا یہ تحفہ، آپ کی صوابدید پر ہوتا ہے ان کو استعمال میں لانا، اگر آپ ایک خاص حکمت عملی کے تحت اس کا استعمال کریں گے تو جو چاہیں گے وہ پاسکیں گے، دانشور کہتے ہیں کہ گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا، لیکن میں عرض کر رہا ہوں کہ روزانہ ملتا ہے آپ کو چوبیس گھنٹوں کا بنڈل، اگر آج کسی وجہ سے آپ قدرت کے اس گراں قدر تحفہ سے کچھ حاصل نہ کر سکے تو کل سہی، کل نہ تو پرسوں ہی سہی آپ ہاتھ آئے ہوئے وقت سے کچھ حاصل کرلیں، اور اس راستے پر گامزن ہو جائیں جو آپ کو غربت اور ناداری سے دور لے جائے گا، آپ کو اس منزل تک پہنچا دے گا جہاں خوش قسمتی بازو کھولے آپ کا استقبال کرنے اور آپ کوگلے لگانے کیلئے منتظر کھڑی ہوگی، روزانہ ملنے والے ان چوبیس گھنٹوں میں جھلک پائی جاتی ہے اس خوش بختی کی جو روزانہ آپ کے دراحساس پر دستک دیتی ہے، اگر آپ نے اس کی دستک پر توجہ نہ دی تو سمجھ جائیے کہ آپ نے ان چوبیس اشرفیوں کو بے وقعت کردیا، اگر آپ نے اپنی صبح کا آغاز نماز فجر کے بعد کر دیا تو آپ کی یہ سحر خیزی برکت کا باعث ثابت ہوسکتی ہے، سحر خیز لوگ عبادت الٰہی کے فوراً بعد اپنے دن کا آغاز کر دیتے ہیں اور کامیاب لوگ صبح سویرے منہ اندھیرے اپنے کاروبار زندگی کی جانب کشاں کشان بڑھنے لگتے ہیں اور نیند کے ماتے لوگ جب آنکھیں مل کر نیند سے بیدار ہونے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، وہ کاروبار حیات کے بہت سے اہم کام نپٹا چکے ہوتے ہیں، چرچل کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ مخالف قوتوں پر اس وقت حملہ کرتا تھا جب وہ میٹھی نیند کے مزے لے رہی ہوتیں، نہ صرف چرچل، نپولین بونا پارٹ یا جنگی حکمت عملی جاننے والے جرنیل یا سپہ سالار ہاتھی کے کان میں سوئے رہنے والوں کی غفلت سے پورا پورا فائدہ اٹھا کر فتح ونصرت کے جھنڈے لہراتے میدان کارزار میں آگے ہی آگے پیش قدمی کرتے رہتے، خوش بختی، کامرانی اور کامگاری ان کی قدم بوسی کیلئے آگے بڑھتی اور ایسے لوگ رہتی دنیا تک یاد رکھے جانے کے قابل بن جاتے، ضروری نہیں کہ روزانہ ملنے والے چوبیس گھنٹوں کے گراں قدر تحفہ کو ہم جنگ وجدل یا جنگی حکمت عملی کیلئے استعمال کریں، سچ پوچھیں تو مجھے تیرو تفنگ اور گولہ بارود کے زور پر دنیا میں کامیابی حاصل کرنیوالے لوگ زہر لگتے ہیں، کاش بندگان خدا کو ہلاک کرنیوالے اسلحہ بارود نام کی کسی چیز کا وجود نہ ہوتا اس دنیا میں، میں آپ کو ہر صبح انعام ہونیوالے دن رات کے چوبیس گھنٹوں کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے بے وجہ نیند اور غفلت سے بچنے کا مشورہ دے چکا ہوں، ساتھ میں یہ بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ آپ نیند سے بیدار رہ کر اپنا وقت موسیقی سننے میں صرف کر رہے ہیں، کسی کمپیوٹر گیم میں مگن ہوگئے ہیں، تاش کھیلنے لگے یا شطرنج کی بازی لگا بیٹھے ہیں، یا سوشل میڈیا پر بے مقصد ہائے ہیلو کرنے لگے ہیں، تب بھی تو آپ ان چوبیس اشرفیوں کو گنوانے لگے ہیں، ارے ہوش میں آجائیے، یہ چیزیں آپ کو مقصد حیات سے دور لیجاتی ہیں، آپ نے پہلا کام اپنی منزل کا تعین کرنا ہے اور پھر اس کے بعد اس منزل پر پہنچنے کی لگن کو اپنے تن اور من میں اتارنا ہے، منزل پر پہنچنے کیلئے چوبیس گھنٹوں کا استعمال ایک نظام الاوقات یا ٹائم ٹیبل بھی کہتے ہیں جس کی پیروی کرتے ہوئے آپ نے آگے اور آگے بڑھتے رہنا ہے۔ نماز پنجگانہ کی ادائیگی اس ہی ٹائم ٹیبل پر عمل کرنے کی آفاقی مثال ہے، نماز گزار لوگ ایسے ہی دین اور دنیا کی بھلائی حاصل نہیں کرلیتے۔ اصل میں وہ ہر روز ملنے والی چوبیس اشرفیوں کے صحیح استعمال سے واقف ہوتے ہیں۔ کسی سیانے نے کہا ہے وقت برف کی اس سل کی مانند ہے جو غیر محسوس طور پر پگھلتی رہتی ہے۔ کہتے ہیں کہ وقت اس کو ضائع کر دیتا ہے جو وقت کو ضائع کرتے ہیں اور کہنے والے نے یہاں تک کہہ دیا کہ

وقت برباد کرنے والوں کو

وقت برباد کرکے چھوڑے گا

لیکن ایسا ہرگز نہیں کیونکہ ہمیں روزانہ چوبیس گھنٹے چوبیس اشرفیوں کا تحفہ بن کر ملتے ہیں۔