آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں

آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں

ہماری سیاست بھی اونٹ کی مانند ہے جس کی کوئی کل سیدھی ہو ہی نہیں سکتی، ابھی اس پر بروقت انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے یقین اور Aبے یقینی کے تنے ہوئے سائے واضح ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے، اگرچہ نگران وزیراعظم اور چیف جسٹس نے نہایت صراحت سے کہہ دیا ہے کہ انتخابات 25جولائی ہی کو ہوں گے مگر ادھر اُدھر ہونے والی چہ میگوئیاں بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، بلکہ بعض لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر انتخابات چند روز ملتوی ہو جائیں تو قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی حالانکہ آئین کے مطابق اس حوالے سے ایک دن التواء کی بھی کوئی گنجائش نہیں، اس دوران لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کاغذات نامزدگی میں رد وبدل کے حوالے سے جو فیصلہ آیا تھا اس سے ان خدشات کو تقویت مل رہی تھی کہ اب بروقت انتخابات شاید ممکن نہ ہو سکیں تاہم سپریم کورٹ نے محولہ فیصلے کو معطل کرتے ہوئے نہ صرف کاغذات نامزدگی بحال کرنے کا حکم دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اب انتخابات میں کوئی تاخیر ہوئی تو الیکشن کمیشن ذاتی طور پر اس کا ذمہ دار ہوگا۔ تاہم اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی خدا جانے یہ سازشی تھیوریاں کیوں ساتھ ساتھ چلتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ادھر الیکشن کمیشن نے بھی بعض جماعتوں کے حوالے سے جو رویہ اختیار کیا ہے اس سے بھی ابہام جنم لے رہا ہے، مثلاً کراچی میں ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں یعنی بہادر آباد اور پی آئی بی گروپس میں سے پتنگ کس کا انتخابی نشان بنے گا یہ تادم تحریر واضح نہ ہو سکا، اگرچہ دونوں گروپوں کا پارٹی کنوینرشپ اور پتنگ کا نشان اپنے پاس ہونے کا دعویٰ ہے چونکہ کاغذات نامزدگی کی وصولی شروع ہو چکی ہے اور ابھی تک دونوں گروپوں میں انضمام کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی اسلئے حتمی فیصلہ تو ظاہر ہے الیکشن کمیشن نے کرنا ہے کہ پارٹی کنوینر شپ کا اصلی حقدار کون ہے اور جو بھی گروپ اس حوالے سے کامیاب ہوگا پتنگ کا نشان بھی اسے ہی دیا جا سکتا ہے۔ اس پر ہمیں سجاد بابر کا یہ شعر یاد آگیا ہے کہ
وہ لمس ڈور کی مانند بدن سے لپٹا رہا
پتنگ لوٹ کے لائے مگر اُڑانہ سکے
اگرچہ ابھی بہادر آباد اور پی آئی بی کے درمیان پتنگ لوٹنے کیلئے جدوجہد جاری ہے لیکن یہ دونوں گروپ یہ بات بھول گئے ہیں کہ پارٹی کا نشان تو اصل میں الطاف حسین کا ہے اور ابھی کراچی میں اصلی تے وڈی ایم کیو ایم کا وجود بھی باقی ہے یعنی اگر لندن کی ہدایت پر کسی من چلے نے آکر الطاف حسین کی جانب سے پتنگ پر د عویٰ دھر دیا تو یہ دونوں گروپ کیا کریں گے؟ شاید اسی وجہ سے پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال نے گزشتہ دنوں دونوں گروپوں سے کہا تھا کہ وہ مہاجر ووٹ کو بچانے کیلئے پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہو جائیں۔ سو دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں گروپ مفت مشورے پر عمل کرتے ہیں یا آپس میں سر پھٹول کرتے ہوئے مہاجر ووٹ کو تقسیم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
کیا پوچھتے ہو حال مرے کاروبار کا
آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں
انتخابی نشان کا قضیہ صرف ایم کیو ایم کے دونوں گروپوں کے مابین ہی نہیں، اس کے بالکل الٹ تو پیپلز پارٹی کے ’’دو دھڑوں‘‘ نے بھی ایک مدت کے بعد انتخابی نشانات میں تلوار کے نشان کی بحالی کے بعد دونوں نشانوں پر اپنا تسلط برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور اب ایک ہی جماعت دوناموں اور دو نشانوں کیساتھ انتخابی میدان میں اترے گی۔ جی ہاں جب مشرف کے دور میں بہ امرمجبوری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کا وجود سامنے آیا جس کے بعد آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اصلی ہے یا اس کے نام کیساتھ پارلیمنٹرین کا لاحقہ لگانے والی جماعت بھٹو کی حقیقی جماعت کے طور پر قبول کی جائے اور چونکہ ذوالفقار علی بھٹو کے منتخب کردہ انتخابی نشان تلوار کو انتخابی نشانات کی فہرست سے ہی خارج کر دیا گیا تھا تب سے اب تک پارٹی تیر کے نشان پر انتخابات لڑتی آرہی تھی لیکن اس بار تلوار کے نشان کی بحالی کے بعد پارٹی نے دونوں انتخابی نشان اپنے قبضے میں کرلئے تاکہ کوئی اس کے اصل اور بنیادی نشان تلوار کو حاصل کر کے پارٹی کیلئے مسائل کھڑے نہ کر سکے کیونکہ سندھ میں پارٹی کا ایک اوردھڑا غنویٰ بھٹو کی قیادت میں سرگرم ہے اور خدشہ یہی تھا کہ اگر غنویٰ بھٹو تیر کا نشان حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اندرون سندھ میں زرداری خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، سو پارٹی رہنماؤں نے نہایت ہوشیاری کیساتھ دونوں انتخابی نشان ہتھیاکر اس خطرے کے آگے بند باندھ لیا ہے، لگ بھگ ایسی ہی صورتحال ایم ایم اے کی دوجماعتوں کے بیچ پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے یعنی اُردو محاورے کے مطابق ’’۔۔۔مرغی حرام‘‘ کی بات کی جاتی ہے تو خیبر پختونخوا میں ٹکٹوں کی تقسیم پر آپس میں اختلافات کی روزافزوں خبروں کے ہنگام یہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ بعض مقامات پر دونوں جماعتوں کے اپنے اپنے امیدواروں نے اتحادی سیاست سے بالا بالا ہی میدان میں اترنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ایسی صورت میں اتحاد کے انتخابی نشان یعنی کتاب پر کون اپنا حق فائق سمجھے گا؟۔ اور کیا دونوں جماعتیں اس صورتحال پر باہمی افہام وتفہیم سے قابو پانے میں کامیاب ہو سکیں گی یا نہیں؟ اگر یہ اختلافات جاری رہے تو کے پی میں ایم ایم اے کی ’’حکومت‘‘ کرنیکا خواب کیسے پورا ہوگا؟ احمد فراز نے بھی تو کہا تھا
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کیلئے آ

اداریہ