Daily Mashriq


پختون قابل رحم قوم

پختون قابل رحم قوم

آج کل پختون دنیاکے جس بھی حصے میں ہیںانتہائی پریشانی اور کرب سے گزر رہے ہیں۔ وہ قوم جس نے بر صغیر پاک و ہند اور وسطی ایشیاء پر 300 سال تک حکومت کی آج کل غیر تو ایک طرف اپنے ملک کے حاکموں کی نظروں میں بھی دہشت گرد اور انتہا پسند ہے۔ پختون قوم کے آبائو اجداد لودھی خاندان نے بہلول خان کی قیادت میں جنوبی اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر1451ء سے لیکر 1526 تک 75 سال حکومت کی۔ اسکے بعد پختونوں کے سوری خاندان جس کے شیر شاہ سوری تھے نے 1540ء سے1557ء تک 17 سال حکومت کی۔ اسکے بعدہا توکے پختون خاندان نے جنوبی اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر 1709ء سے لیکر 1738ء تک 29 سال حکومت کی ۔ اور اس قبیلے کے بڑے میر ویس خان تھے۔ اسکے بعد درانی خاندان جس کے بڑے احمد شاہ درانی تھے نے برصغیر پاک وہند اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر 1747ء سے لیکر 1862ء تک یعنی 115 سال حکومت کی ۔ اور اس طرح پختون حکمرانوں نے اس خطے پر 300 سال تک حکمرانی کی۔ ان تینوں بڑے ادوار سے پہلے بھی اور بعد میں بھی پختون ان علاقوں کے حکمران رہے ہیں۔اور پختون حکمرانوں نے اس خطے کو جتنی ترقی دی اس کی ماضی اور حال میںکوئی مثال نہیں ملتی۔مگر بد قسمتی سے اب وہی پختون جو ماضی میںدنیا میں ایک کلیدی کر دار ادا کر رہے تھے موجودہ دور میں انتہائی مشکل حالات کا سامناکر رہے ہیں۔ مختلف حیلوں بہانوں سے اس جری اور بہادر قوم کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ سر حد کے دونوں پار خیبر پختون خوا اور افغانستان جغرافیائی کی حیثیت کی وجہ سے یہ علاقہ ہر دور میں جا رحیت اور تسلط اور بڑی طاقتوں کا میدان جنگ رہا ہے اورمختلف شورشوں کی وجہ سے پختونوں کو بھاری جانی اور مالی نُقصان اُٹھانا پڑا۔ موجودہ دور میںپختون خطے کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کو یہاں کی لیڈر شپ نے وہ مواقع فراہم نہیں کئے جس سے وہ تعلیمی، سماجی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی کر سکیں۔ نہ انکے علاقوں میںصنعتیں قائم کیں اور نہ ان لوگوں کوان تکنیکی علوم و فنون سے بہرہ ور کیا گیاجن سے وہ اپنی اقتصادی حالت بہتر بناسکیں۔پختون ایک جری اور بہادر قوم ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے لئے معاش کے راستے تلاش کرتی ہے۔ حکومت وقت کی طر ف سے اسے کوئی معاونت نہیں ملتی۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی تعداد90 لاکھ ہے جس میں صرف پختونوں کی تعداد 55 سے 60 لاکھ کے درمیان ہے۔ میرے خیال میں 188 ممالک میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں پختون وہاں کی ترقی میں اپنا کر دار ادا نہ کرر ہا ہو۔اگر دیکھا جائے تو پوری دنیا کی تعمیرو ترقی اور اس کو جدید بنانے میں پختون ایک سخت جان افرادی قوت فراہم کرکے اہم کر دار کر رہے ہیں۔اور بد لے میں زر مبادلہ بھیج رہے ہیں۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ وطن عزیز کے حکمران اور پختونوں کی نمائندہ سیاسی پا رٹیاں بھی پختونوں کو وہ وقعت اور عزت نہیں دیتے جو ان کو دینا چاہئے۔ اور وہ پختون جن کے آبائو اجداد نے اس خطے پر 300 سال تک حکومت کی اور ایک مار شل قوم ہے آج کل وطن عزیز میں مذاق بنے ہوئے ہیں۔لاہور میں دہشت گر دی کے واقعے کے بعد اب تو پختونوں کو پنجاب میں شودر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ہو ٹلوں ، بازاروں میں بڑے بڑے بینرزاور پو سٹرز آویزاں کئے گئے ہیں جن میں لوگوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ پختونوں پر خا ص نظر رکھیں۔ لاہور واقعے کے بعد پنجاب کی جیلوں میں زیادہ تر لوگ پختون ہیں۔ پختونوں کو ملکی ڈراموں اور سٹیج شوز میں مذاق کانشانہ بنایا جاتا ہے۔ پشتو فلموں کے ذریعے انکے کلچر کو تباہ کیا جارہا ہے۔ پختونوں کی بھی یہ بد قسمتی ہے کہ اُن کو بھی تعلیم اور ترقی کے وہ مواقع نہیںدیئے گئے جو اُنکو دینا چاہئے۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں کو تو رہنے دیں ، اسلام آباد اور پنڈی کے مہذب ترین اور زیادہ پڑھے لکھوں کے جڑواں شہروں میں پختونوں کے ساتھ یہاں کی پولیس اور انتظامیہ جس طر ح پیش آتی ہے وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔ اکثر و بیشتر پبلک ٹرانسپورٹ اور دوسرے پبلک مقامات پر پختونوں کی جس طرح تلاشی لی جاتی ہے اور اُن کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے اور کئی دفعہ تو فیملی سمیت پختونوں کی تذلیل کی جاتی ہے ۔دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے خیبر پختون خوا اور قبائلی علاقہ جات کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ جتنی حکومتیں گزری ہیںان کو چاہئے تھا کہ انکے لئے سکول ، کالج، یونیور سٹیاں بناتیں مگر یہ افسوس کا مقام ہے کہ پختونوں اور بالخصوص قبائلی علاقہ جات کے پختونوں کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی معصوم کم علمی کم تجربے کی وجہ سے دہشت گرد گروہوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں مگر ان میں اکثریت کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہوتا ہے جو کم تعلیم یا فتہ ہیں یاان کا ذریعہ آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔مگر یہ صرف پختون کے ساتھ مسئلہ نہیں بلکہ دوسرے صوبوں کے لوگ بھی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی کفالت اور معاونت کرتے ہیں۔خود کش حملوں کے بارے میںتحقیق کاروں کا خیال ہے کہ خود کش حملہ آوروں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہو تا ۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کو چاہیئے کہ خیبر پختون خوا اور قبائلی علاقہ جات میں مزید کالج یونیور سٹیاں اور روز گار کے مو اقع فراہم کر ے تاکہ کوئی غُربت اور افلاس کی وجہ سے کسی کا آلہ کار نہ بنے۔

متعلقہ خبریں