Daily Mashriq


کرکٹ کی مراجعت

کرکٹ کی مراجعت

کیری پیکر نے کئی برس پہلے کرکٹ کے کھیل کو ''سرکس '' میں تبدیل کر کے اس کھیل کو جس نئی ہیئت سے شناسا کیا وہ جادو اب سرچڑھ کر بول رہا ہے ، کیونکہ اس سے پہلے کرکٹ کے میدان میں ہن نہیں برستا تھا بلکہ تمام کھلاڑی غریب غربے ہوتے تھے ۔ کرکٹ پر صرف انگریز ی زبان میں کمنٹری نشر ہوتی تھی ، جبکہ اس میں جدت پیدا کرنے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت میں بالتر تیب اردو اور ہندی زبانوں میں بھی کمنٹری کا رواج ڈال دیا گیا تو عام لوگوں کی دلچسپی بھی زیادہ ہوگئی تھی ۔پھر یوں ہوا کہ ریڈیو پاکستان نے کھیل کے دوران جب وقفہ آتا ، کھلاڑی آئوٹ ہونے سے نئے کھلاڑی کے کریز پر آکر کھیل کا حصہ بننے ، پانی ، چائے اور کھانے کے وقفوں کے دوران کمپنیوں کی مصنوعات کے اشتہارات نشر کرناشروع کر دیتے اس طرح سے آمدن کاایک ذریعہ ہاتھ آیا ۔ بعد میں جب پی ٹی وی کی سکرین پر بھی کھیل دکھائے جانے لگے تو ٹی وی اشتہارات نے پی ٹی وی کی آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا ، لیکن بے چارے کھلاڑیوں کے معاوضوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا ، مغربی دنیا میں ریڈیو اور ٹی وی نشر یات تو ترقی کے بہت سے مدارج طے کر چکی تھیں اس لئے وہاں مختلف پرائیویٹ چینلز اور ریڈ یو نیٹ ورکس پہلے ہی نہ صرف کرکٹ بلکہ دیگر کھیلوں سے بھی اشتہارات کے ذریعے منافع کمانے میں مصروف تھے ، اس دوران میں دنیا کی کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ان کھیلوں کو فروغ دینے کیلئے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری شروع کر دی ، خصوصاً دنیا کی مشہور مشروبات اور سگریٹ بنانے والی بین الاقوامی برانڈز نے ان کھیلوں کی سرپرستی کے نام پر اپنی پراڈکٹس کو ترقی دینا شروع کر دی ، جس کے بعد کھلاڑیوں کے معاضوں میں بھی اضافہ کرنے کا رجحان بڑھ گیا ۔ تاہم مغربی دنیا میں تو یہ معاوضے خاصے حوصلہ افزاء ہوتے تھے مگر پاکستان اور بھارت میں معاوضے بڑھنے کی رفتار سست روی کا شکار رہی پھر منظریوں بدلا کہ کیری پیکر نام کے ایک شخص نے ، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ یہودی تھا ، کرکٹ کو پیسے کا کھیل بنا دیا اس نے دنیا کے مختلف ملکوں کے چوٹی کے کرکٹ کھلاڑیوں کو مروجہ سے کئی گنا زیادہ معاوضوں پر بک کیا اور ان کی کئی ٹیمیں ترتیب دے کر ہر ٹیم کو مختلف رنگوں کا لباس پہنا کر ان کے مابین میچز کروانے کا سلسلہ شروع کیا ، اس منصوبے کو موصوف نے '' کیری پیکر سر کس '' کا نام دیا ، کیونکہ کھلاڑیوں کو جو لباس پہنایا گیا وہ بالکل سرکس میں کام کرنے والوں کی طرح کا تھا ، آج یہ جو مختلف ملکوں میں سپر لیگ کھیلتے ہوئے کھلاڑی رنگا رنگ لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں یہ اسی کیری پیکر کی اختراع ہے ، کیری پیکر کے ساتھ معاہدے کرنے والے کھلاڑیوں کو ان کی قومی ٹیموں سے نکالنے کی نہ صرف دھمکیاں دی گئیں بلکہ کئی ملکوں میں اس پر عمل در آمد بھی کیاگیا ۔ مگر کھلاڑیوں کے معاوضے اس قدر زیادہ تھے کہ انہوں نے ان دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں کی ، مگر اس سے پوری دنیا میں ایک بھونچا ل آگیا اور کرکٹ کے عالمی کپ پر منفی اثرات پڑنے کے خدشات سر اٹھا نے لگے ، چونکہ کیری پیکر نے اپنی کیری پیکر سرکس کی بنیاد صرف اورصرف منافع کمانے پر رکھی تھی اس لئے اس نے نہ صرف اپنے خریدے ہوئے کھلاڑیوں کے مابین میچوں کے ٹکٹ بھاری معاوضوں پر فروخت کئے بلکہ ان میچوں کے حقوق نشریات بھی بھاری معاوضے پر مخصوص چینلز پر فروخت کئے کیری پیکر سرکس کا عالمی کرکٹ کو نقصان بھی ہوا اور نفع بھی ، نقصان تو ان ممالک کو ہونے لگا جن کے کھلاڑیوں نے اپنے ملک کیلئے کھیلنے سے دھمکیوں کے باوجود انکار کیا ، تاہم کھلاڑیوں کے دن پھر گئے اور ان کی قیمت بڑھ گئی بالآخر ایک ایک دو دو کر کے ان ممالک نے کیری پیکرسرکس کے ہوتے ہوئے اپنے کھلاڑیوں کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ جب بھی ان کے ملک کو ضرورت ہوگی وہ کھیلنے کیلئے دستیاب ہوں گے۔کیری پیکر نے کرکٹ کے کھیل کو جس راستے پر گامزن کیا تھا ، آگے جاتے جاتے اس نے کئی موڑ بدلے اور پہلے انڈیا نے اس حوالے سے اپنے ملک میں کرکٹ کا میلہ جمانے کا سلسلہ شروع کیا ، دنیا بھر سے معروف کھلاڑیوں کی منڈی سجا کر بھاری معاوضوں پر ان کی نیلامی کا بازار گرم کیا گیا ، پہلے سال پاکستان کے کھلاڑیوں کو بھی بھاری معاوضوں پر مختلف ٹیموں کیلئے خریدا گیا ، مگر اس دوران پاک بھارت تعلقات پر بعض منفی اثرات پڑنے سے اگلے برس پاکستانی کھلاڑیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے انہیں بھارت آنے کی دعوت تک نہیں دی گئی اور اس کے بعد بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر کرکٹ کے میدان سے باہر کرنے کیلئے سازشوں کا تانا بانا بننا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ تک کھیلنے سے انکار کر دیا گیا ، جس کا جواب دیتے ہوئے بالآخر پاکستان نے اپنے سپر لیگ کی بنیاد رکھی ، تاہم یہ تمام میچ دبئی اور شارجہ میں کھیلے گئے کیونکہ غیر ملکی کھلاڑیوںنے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اب کی بار صرف فائنل میچ ہی پاکستان میں کھیلنے کی کوشش کی گئی اور جب یہ سطور آپ کی نظر سے گزریں گی تو انشاء اللہ یہ میچ کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکا ہوگا ۔ جس کے بعد امید ہے کہ کرکٹ کی مراجعت کی بنیادیں فراہم ہو چکی ہوں گی ۔

متعلقہ خبریں