ٹیم ورک

ٹیم ورک

ہم زندگی میںبہت سی چیزیں دیکھتے ہیںپڑھتے ہیںاور ان پر ویسے ہی یقین کرلیتے ہیں جیسے انہیں دیکھا یا پڑھا ہوتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم ان پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے انہیں مختلف حوالوں سے اپنی سوچ کے پیمانوں پر نہیں پرکھتے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہم اپنی روایتی سوچ سے اس حد تک چمٹے رہتے ہیں کہ ذہن میں کوئی نیا خیال آتا ہی نہیں ہے سوچ کی یہ بوسیدگی ہمیں زندگی میں ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔اس نکتے کی وضاحت کے لیے ہم ایک بہت ہی مشہور و معروف کہانی کی مدد لیتے ہیں''کچھوا اور خرگوش''یہ کہانی ہم سب بچپن ہی سے پڑھتے چلے آرہے ہیں ایک خرگوش اور کچھوے کے درمیان یہ بحث چل پڑی کہ کون تیز دوڑتا ہے دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آپس میں دوڑ لگا کر دیکھ لیا جائے کہ کون تیز ہے؟اگر آپ غور کریں تو آج کل اس قسم کے بحث مباحثے سیاستدانوں کے درمیان بھی ہوتے رہتے ہیں جسے دیکھیے اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے سرپٹ بھاگ رہا ہے۔ ہر سیاستدان اسی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے کہ وہ دوسرے کو چاروں شانے چت کر دے تو اپنی منزل پالے گاجبکہ کسی سے آگے نکل جانا کامیابی نہیں ہے۔ کامیابی کیا ہے یہ جاننے کے لیے کہانی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جب کچھوے اور خرگوش نے بھاگنا شروع کیا تو خرگوش اپنی تیز رفتاری کی وجہ سے چند لمحوں میں خرگوش کو بہت پیچھے چھوڑ گیا جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے کچھوا کہیں بھی نظر نہ آیا تو اس نے سوچا کچھوا تو ابھی بہت پیچھے ہے کیوں نہ تھوڑی دیر کے لیے درخت کے نیچے آرام کر لیا جائے جب خرگوش گہری نیند سے بیدار ہوا تو اسے اپنی حماقت کا احساس ہوا لیکن اب وقت گزر چکا تھا جب وہ منزل پر پہنچا تو کچھوا اس سے پہلے ہی وہاں پہنچ کر ریس جیت چکا تھااب اسی لیے کہاجاتا ہے کہ slow and steady wins the raceیعنی بندہ بے شک آہستہ آہستہ آگے بڑھے لیکن رکے نہیں تو وہ ایک دن اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے!خرگوش کچھوے سے شکست کھانے کے بعد بہت اداس تھا اس نے ریس ہارنے کے بعد سوچا کہ اس نے یہ ریس اپنی حد سے بڑھی ہو ئی خود اعتمادی لاپرواہی اور سستی کی وجہ سے ہاری ہے یہ سوچ کر اس نے کچھوے کو دوبارہ مقابلے کی دعوت دی جسے کچھوے نے قبول کر لیا اس مرتبہ خرگوش راستے میں آرام کے لیے نہیں رکا اور تیزی سے دوڑتا ہوا ریس بڑی آسانی کے ساتھ جیت گیا ۔اس ریس کے جیتنے کے بعد جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ تیز اور مسلسل اپنی منزل کی طرف بڑھنے والے ان لوگوں کو شکست دے سکتے ہیں جو آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہیں بھلے وہ بغیر رکے ہی مسلسل آگے بڑھتے رہیں لیکن تیز اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنے والوں سے نہیں جیت سکتے! لیکن یہ بھی پورا سچ نہیں ہے۔ابھی تک ہم نے کہانی کے دو مختلف زاویے دیکھے جس سے ہم پر یہ راز آشکارا ہوا کہ ہم اگر اکیلے بھاگتے ہیں اور صرف اپنی جیت کے لیے بھاگتے ہیں تو کامیابی حاصل نہیں کرسکتے اس دنیا کے میلے میں جہاں ہمارے چاروں طرف بہت سے ممالک کی کہکشاں بکھری پڑی ہے مقابلہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اگر وطن کے بیٹے متحد ہوجائیں تو پھر ار ض پاک پر یقینا وہ سورج اترے گا جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑے گی ہم دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے قابل ہوجائیںگے۔ لیکن یہ سب کیسے ہوگا یہ جاننے کے لیے ہم کہانی کے آخری حصے کی طرف بڑھتے ہیں!کچھوے نے ریس ہارنے کے بعد سوچا کہ وہ خرگوش سے ریس نہیں جیت سکتا مگر اس نے خرگوش کو ایک اور مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ ہم مختلف راستے پر بھاگیں گے خرگوش مان گیا یو ں ریس شروع ہوگئی خرگوش تیزی سے آگے بڑھا لیکن راستے میں ایک دریا پڑتا تھا جس کے کنارے خرگوش کو رکنا پڑا کیونکہ وہ تیرنا نہیں جانتا تھا کچھو١تھوڑی دیر بعد وہاں پہنچا اور دریا عبور کرکے اپنی منزل تک پہنچ گیا اور خرگوش بیچارا اسے دیکھتا رہ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنی صلاحیت کو پہچانو اور پھر اپنے لیے راستے کا انتخاب کرو تو یقینا کامیاب ہوجائو گے لیکن ایک مرتبہ پھر بڑی معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بھی پورا سچ نہیں ہے! اب ہم ایک مرتبہ پھر کہانی کی طرف رجوع کرتے ہیں تاکہ پورا سچ جان سکیں۔اس مرتبہ دونوں نے آپس میں معاہدہ کیا کہ وہ ایک ٹیم کی صورت آگے بڑھیں گے جب خرگوش دریا کے کنارے آکر رک گیا تو کچھوے نے اسے اپنی پیٹھ پر سوار کیا اور بڑے آرام سے دونوں دریا عبور کر گئے دریا پار کرنے کے بعد خرگوش نے کچھوے کو اپنی پشت پر بٹھایا اور تیزی سے دوڑتے ہوئے ریس مکمل کی اس طرح دونوں اپنی منزل تک بڑی آسانی سے پہنچ گئے کہانی کے اس آخری حصے سے ہمیں یہ اخلاقی سبق ملتا ہے کہ آپ کسی ایک شعبے میں تو مہارت رکھ سکتے ہیں لیکن ہر شعبے میں مہارت حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا آپ کی اپنی انفرادی صلاحیت ایک خوبی ہے لیکن جب تک آپ ٹیم ورک کی صورت آگے نہیں بڑھتے اپنی منزل کو نہیں پاسکتے !آج اس سبق کو سیکھنا ہم سب کے لیے بہت ضروری ہے بات سیاستدانوں کی ہورہی تھی اگر ہمارے سیاستدان ایک ٹیم کی صورت آگے بڑھیں وطن عزیز کی فلاح و بہبود ان کی پہلی ترجیح ہوجائے تو یقین کیجیے ہمارے سارے مسائل ختم ہوسکتے ہیں اور ہم دنیا میں عزت کے ساتھ جینے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

اداریہ