گھر میںبکھر ی ہو ئی چیزوں کو سجا یا جا ئے

گھر میںبکھر ی ہو ئی چیزوں کو سجا یا جا ئے

اپنے قیا م کے سال سے ہی پاکستان بڑی طاقتو ں کی سازشوں کا شکا ر ہوا پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قتل اور اس کے شواہد بتا تے ہیں کہ انتہا ئی منظم طور پر قتل کی منصو بہ بندی کی گئی تھی ، اور سازشی طور پر گھیر اؤ کا عمل پاکستان کے سات سال گزر نے کے ساتھ ہی شروع کر دیا گیا تھا جب پا کستان کو بغداد پیکٹ میں شامل کیا گیا یا کر ایا گیا ، گو اس معاہد ہ کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اس کے ارکان کو دفاعی تعا ون فراہم کیا جا ئے گا مگر پاکستان کو 65ء کی جنگ میں کوئی تعا و ن فراہم کر نے کی بجا ئے الٹا اس پر پابندیا ں لگادی گئیں جو مشرقی پا کستان کے سقو ط کے بعد بھی حائل رہی ہیں ۔ تاہم امریکا نے اس وقت یہ مہر بانی کی کہ پاکستان کو ایر ان کے ذریعے کچھ اسلحہ فر اہم کیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب سقو ط مشرقی پاکستان ہو گیا تو بھٹو مرحوم نے عنا ن حکو مت سنبھا لنے کے بعد غلام مصطفٰی کو امر یکا کے دورے پر بھیجا تاکہ پا کستان کے لیے کچھ نہ کچھ اسلحہ حاصل کیا جا سکے ، پہلے تو امریکا نے شفا ف انکا ر کر دیا کہ پاکستان کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی ہے تاہم بعد ازاں کہا گیا کہ وہ ایر ان سے رجوع کریں کا م بنا دیا جائے گا۔ ایر ان ما ضی میں پاکستان کو صیح مو نس ثابت ہو ا ہے مگر یہ سب امریکا کی رضا سے مشروط رہا ہے جبکہ ماضی سے افغانستان ہر قدم پر پاکستان کی مخالفت پر کمر بستہ رہا ہے ۔ چنا نچہ پاکستان اور ترکی کو قریب تر رکھنے کے لیے آر سی ڈی کی تنظیم وجو د میں لائی گئی جس میں پاکستان ، ایر ان اور ترکی شامل تھے جس کا مر کزی مقصد رکن ممالک کے ما بین اقتصادی ، سماجی ، تجا رتی ترقی کے تعاو ن کو فر وغ دینا تھا ۔ اس تنظیم کی جانب سے باہمی ترقی کے لیے شاہر اہ آر سی ڈی اور ریلو ے کے قیام کا اعلا ن کیا گیا جو تنظیم کے اپنے انجا م تک پہنچنے تک صرف کا غذی منصوبہ ہی بنا رہا ، اگر ایسے تما م منصوبے کا جا ئز ہ لیاجائے تو پاکستان کو ان منصوبو ں کا حصہ تو بنا یا گیا مگر عملا ًکوئی کارکر دگی سامنے نہیں آئی ، یہ سا ر ا کھیل پاکستان اور رو س کے درمیا ن خلیج حائل کر نے کے لیے جا ری رہا تاکہ رو س کو گر م پانی تک رسائی ممکن نہ ہوسکے ، لیکن اب حالا ت ویسے نہیںرہے ہیں ، سی پیک نے پو ری دنیا کو ایک بہترین مو قعہ فر اہم کر دیا ہے ، چنا نچہ علا قائی اقتصادی کو نسل اب اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان میں کونسل کا جو اجلا س ہو ا وہ پاکستان سمیت تما م رکن ممالک کے لیے حوصلہ افز ا تھا اگر چہ اس اجلا س سے افغانستان نے خو د کو باہر رکھا ، افغانستان نے اجلا س میںشرکت سے انکا ر کا جو جو از پیش کیا ہے اس میںقبولیت کا کوئی عنصر نہیں پا یا جا تا ہے ماسوائے اس کے کہ بھارت کے دباؤ یا اس کی خوشنودی کی خا طر ایسا کیا گیا ، بھارت نے سارک کانفر نس کا بھی ایسا ہی بائیکا ٹ کیا ، جس کا نقصان پاکستان کی بجا ئے سا رک تنظیم کو ہو ا ہے ، اب یہ سوال پید ا ہوتا ہے کہ کیا افغانستان اپنی پا لیسی پر گامزن رہے گا اور علا قائی تعاون کو نسل سے دور ہی خود کو رکھے گا۔ اگریہ رویہ رہا تو نہ صر ف تنظیم کے لیے مشکلا ت کا باعث ہو سکتا ہے بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی نیک فعل قر ار نہ پا ئے گا ۔علا قائی اقتصادی کو نسل کے اس اجلا س میں سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ ایر ان اور ترکی کے صدور نے آپس میں براہ راست ملا قا ت کی اور ان کی خندہ پیشانی گواہی دے رہی تھی کہ ملا قات سے دنو ں رہنمائوں کو مسرت ہوئی ہے ، شام اور داعش کے مسئلے پر ترکی اور ایر ان کے درمیا ن تعلقات میں گہر ے اختلا فا ت رونما ہو ئے ہیں تو قع ہے کہ اس ملاقا ت سے اختلا فات کو پاٹنے میں مد د ملے گی ، اگر افغانستان کے صدر بھی شریک ہوجا تے تو ممکن ہے کہ پاکستان کے رہنما ؤں سے ملا قات کر کے گلے شکو ے دور کرلیے جا تے ۔
بھارت نے اپنی سیا ست اور رویو ں کی وجہ سے سارک کا نفرنس کی اہمیت کو ختم کر کے رکھ دیا ہے اس کے علا وہ یہ بھی دیکھنے میںآیا کہ وہ پاکستان کو ہر قدم پر تنہا کر نے پر تلا ہو ا ہے جو خود اس کے لیے سود مند نہیںہے ، ایکو کانفرنس کے اسلا م آباد میںانعقاد اور اس کی کا میابی نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کی ایسی تما م کوششیں بہہ گئیں ، افغانستا ن کی عدم شرکت سے ایکو کا نفرنس پر کوئی منفی اثرات نہیںپڑ ے ، علا وہ اس امر کی بھی نگارش واضح ہو گئی ہے کہ امر یکا جو پہلے بھی سپر پا ور کا گھمنڈ رکھتا تھا اور اب وہ واحد سپر پا ور کے زعم میں ہے کہ دنیا میں جو ہو وہ سب اسی ہی کی مر ضی ومنشا سے ہو۔ ایکو کانفر نس نے دنیا کو پیغام دے دیا ہے کہ علا قائی فیصلے کر انا صرف علا قے کے مما لک کا حق ہے۔ روس ، چین اور ترکی خاص طورپر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بنے کے بعد ایر ان کے رویوں میںنمایاں تبدیلی نظر آرہی ہے ، ترکی کے صدر طیب اردگان نے جب پا کستان کا دورہ کیا تھا اس وقت وہ ایک سچے پا کستان دوست کی حیثیت سے اہل پاکستان کو ایک اہم ترین پیغام دے گئے تھے کہ گولن جیسی سازشو ں سے خو د کو بچائے رکھنا ، چنا نچہ افغانستان کی عدم شرکت اس امر کی نشان دہی کر تی ہے کہ وہا ں غیر ملکی فو جو ں کا جو تسلط ہے اس کی بنا ء پر ایک دباؤ کا بو جھ اس پر پڑ ا ہو ا ہے چنا نچہ اس کو جو بھی قدم بڑھانا پڑ تا ہے اس میں اس دباؤ کی خوشنودی کو بھی شامل رکھنا ہو تا ہے ۔بہرحال ایکو کے بارے میںیہ کہاجا سکتا ہے کہ وہ علا قائی ترقی وتعاون میں اہم کر دا ر کی حامل تنظیم ہو گی اور اس کا یہ نقطہ نظر بقول ندا فاضلی
اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جا یا جا ئے
گھر میں بکھر ی ہو ئی چیزوں کو سجا یا جا ئے

متعلقہ خبریں