Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک بار خلیفہ معتز باللہ نے فوجی اخراجات کے لئے لشکر کے خزانچی کو درہم کی دس تھیلیاں دیں جن میں ایک لاکھ درہم تھے۔ خزانچی ان تھیلیوں کو اپنے گھر لے گیا۔ رات کو کسی نے نقب لگا کر ساری تھیلیاں چوری کرلیں۔ صبح جب خزانچی نے دیکھا تو سٹپٹا گیا۔ پھر کیا تھا' سارے مشکوک لوگوں سے تفتیش شروع کردی گئی۔ آخر ایک لاغر اور نحیف جسم والے پراگندہ حالت اور بکھرے بالوں والے شخص کو لاکر پیش کردیاگیا جو وہاں کا باشندہ بھی نہ تھا۔ چوکیداروں کے سربراہ نے اس ملزم سے کہا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ تو اکیلا اتنا زیادہ وزن تو اٹھا نہیں سکتا' یہ بتا دے تیرے ساتھ کون تھے؟ اس نے کہا' نہ میں نے چوری کی اور نہ ہی مجھے اس کا پتہ ہے۔ اس لئے انہوں نے اس پر اتنا تشددکیا کہ اس کے دماغ پر بھی اثر ہوگیا۔ اب وہ الٹی سیدھی باتیں کرنے لگا' ناک اور منہ سے خون جاری ہو چکا تھا تاہم چوری کا اعتراف نہیں کیا۔ جب اس کی اطلاع خلیفہ معتز باللہ کو ہوئی توخلیفہ نے پہلے نرمی اور پھر لالچ دے کراور پھر سختی کر کے پوچھا مگر وہ پھربولا' محترم خلیفہ!خدا آپ کو سلامت رکھے' مجھے اس مال کا بالکل پتہ نہیں۔ خلیفہ نے کہا' اچھا پھر قسم اٹھالو۔ اس نے فوراً حلف اٹھا لیا۔ خلیفہ نے کہا: '' اگر اس کے بعد تجھ سے مال برآمد ہوگیا تو میراوعدہ ہے کہ تجھے زندہ نہ چھوڑوں گا''۔ اس نے کہا کہ مجھے منظور ہے۔خلیفہ کہنے لگا کہ اب مجھے شک پڑنے لگا ہے کہ شاید یہ آدمی بے گناہ ہو۔ مگر آج ایک طریقہ آزماتا ہوں اور پھر اس کے لئے اعلیٰ قسم کا کھانا اور ٹھنڈا پانی منگوایا گیا جو اس نے پیٹ بھر کر کھایا۔ اسکا پیٹ اتنا بھر گیا کہ ایک لقمے کی گنجائش نہ رہی۔ پھر اسے عمدہ قسم کی خوشبو لگائی گئی اور اگر بتیاں سلگائی گئیں۔ ایک نہایت نرم و نازک بستر اس کے لئے بچھایاگیا اور اسے اس پر لٹادیا۔ وہ جلد ہی گہری نیند میں چلاگیا۔ اچانک اسے انتہائی گہری نیند سے اٹھا کر فوراً خلیفہ نے اپنے پاس بلایا۔ اس کی آنکھوں میں سخت غنودگی تھی۔ خلیفہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیسے مال لوٹا' کیسے نقب لگائی اور کیسے نکال کر لے گیا۔ تو وہ کہنے لگا:''میں اکیلاہی تھا' میں نے خود ہی نقب لگائی' مال اٹھایا اور اس مکان کے سامنے حمام ہے جس میں جلانے کے لئے کانٹے دار لکڑیاں پڑی ہیں' ان کو اٹھا کراس کے نیچے گڑھا کھود کراس میں دفن کرکے ان لکڑیوں کو دوبارہ اوپر رکھ دیا ہے۔ وہ مال اب بھی وہیں ہے''۔ خلیفہ نے اسے دوبارہ لے جا کر سلانے کا حکم دیا اور حمام کے پاس دفن شدہ مال لانے کاحکم دے دیا۔خلیفہ نے کافی دیر بعد اس چور کو لانے کاحکم دیا۔ خلیفہ نے ان سب کی موجودگی میں اس سے دوبارہ پوچھا تو فوراً منکر ہوگیا کہ مجھے تو اس کا پتہ ہی نہیں۔ خلیفہ نے فوراًاس مال سے پردہ ہٹانے کا حکم دیا اور اسے دکھا کر پوچھا کہ کیا یہی مال نہیں'کیا تو نے اسطرح چوری نہیں کی؟ یہ سن کر اسکا رنگ اڑ گیا اور وہ ہکا بکا رہ گیا۔ مگر اب تو خود اس نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کردئیے تھے۔ خلیفہ نے اسے عبرت ناک سزا کا حکم دے دیا۔
حوالہ: (موسوعة القصص الواقعیہ 718 تا720)

اداریہ