Daily Mashriq


ان کے خلاف کارروائی کون کرے؟

ان کے خلاف کارروائی کون کرے؟

اب یہ بات راز اور الزام کے زمرے سے نکل کر سند قبولیت پا چکی ہے کہ سینٹ کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔ ہمارے میرانشاہ بیورو کی رپورٹ کے مطابق سینٹ انتخابات میں فاٹا کا فی ووٹ چالیس کروڑ روپے تک میں بکا ہے اور ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے مبینہ طور پر چھ اراکین اسمبلی کی تجوریوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ چونکہ من حیث المجموع اس امر کو پوری طرح تسلیم کیا جا رہا ہے کہ سینٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے اس لئے اس حد تک ہی معاملے کو حقیقت جانتے ہیں جبکہ فاٹا اراکین کے حوالے سے معاملے کو الزام کی حد تک رہنے دیتے ہیں گو کہ یہ بھی نوشتہ دیوار کے زمرے میں آتا ہے لیکن بہر حال اس ضمن میں قیمت فروخت اور اعداد وشمار کی بڑی حد تک موجودگی کے باوجود شک کا فائدہ دینا ہی احتیاط کا تقاضا ہے لیکن بہر حال من حیث المجموع خواہ وہ فاٹا کے اراکین ہوں‘ خیبر پختونخوا اسمبلی کے ہوں کسی حد تک پنجاب اسمبلی میں بھی بلوچستان اور سندھ اسمبلیوں کے بعض اراکین کی قیمت لگنا اور فروخت ہونا کوئی پوشیدہ امر ہے اور نہ ہی کسی الزام کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو پنجاب اسمبلی میں ہارس ٹریڈنگ کی شرح کم رہی یا پھر وہاں پر اگر پیسہ پھینک تماشا دیکھ والا معاملہ شاید ہوا ہو یا نہ ہوا ہو کیونکہ پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار نے پہلے ہی تعلقات اور دوستی کے طور پر مخالف جماعت کے ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہونے کا عندیہ دیا تھا جو سچ ثابت ہوا جبکہ ایک اور عنصر خود مسلم لیگ کی برادرانہ قیادت کے درمیان امیدوار کے انتخاب میں پسند و نا پسند کا معاملہ بھی تھا۔ بہر حال پنجاب اسمبلی میں محولہ کامیاب امیدوار کی کامیابی کو مسلم لیگ(ن) میں بغاوت یا پارٹی فیصلے سے انحراف قرار دینا اس لئے بھی درست نہ ہوگا کہ یہاں اس مخالفت میں بھی پارٹی قیادت ہی حصہ دار تھی۔ اس سے مماثل معاملہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی تلاش کرنا مشکل نہیں۔ سندھ میں ایم کیو ایم اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے والی کیفیت کا شکار ہوئی۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت کی رخصتی سے ہی سینٹ انتخابات کے نتائج کا اندازہ تھا۔ ان تمام معاملات سے قطع نظر خیبر پختونخوا اسمبلی میں اسی جماعت ہی کے اراکین کا دغا دے جانا جو ہارس ٹریڈنگ اور بد عنوانی کی سب سے بڑی مخالف رہی ہے المیہ ہے۔ المیہ صرف یہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ یہاں سے سب سے بڑی منڈی سجی۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک معترف ہیں اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان آستین کے سانپوں کے خلاف احتجاج اور دھرنا کی سوچ رکھتے ہیں۔ اس طرز سیاست سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا بلکہ بہتر صورت یہ ہوگی کہ اپنوں کے اپنوں کے خلاف مظاہرہ اور احتجاج کی جگ ہنسائی کی بجائے جو ہوا سو ہوا کے مصداق اس داغ کو سہ لیا جائے۔ البتہ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اس امر کی پوری تحقیقات ضرور کروائیں کہ ان عناصر کی ناراضگی ‘ لالچ اور وہ وجوہات کیا تھیں جبکہ خصوصی طور پر اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ ان افراد کو پارٹی ٹکٹ کیسے جاری ہوئے اور نامزدگی کی سفارشات کس کس نے کیں‘ جس پس منظر کے لوگوں کو آگے لایا گیا اور پس پردہ یا واضح مقاصد کیا تھے۔ ان کے خلاف اب ان آخری تین ماہ میں جو بھی کارروائی ہو بے معنی ہوگی۔ ہمارے تئیں اس سیاسی قیادت جن جن کے ارکان نے خواہ جن وجوہات کی بنا پر بھی وفاداریاں تبدیل کیں اور جماعت کے نامزد امیدواروں کو ووٹ نہ دیا اگر ایسا سیاسی وجوہات کی بناء پر ہوا ہے تو انتخابی قوانین کے مطابق اس کاجائزہ لیا جائے لیکن جہاں جہاں کروڑوں میں ووٹ بکنے کی صورتحال سامنے آئی وہاں ملک میں بد عنوانی کے خاتمے اور احتساب کی خواہشمند قوتوں عدالت عظمیٰ اور نیب کو اس امر کا ضرور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس نیم واضح لگی منڈی کے سوداگروں اور بکنے والوں کے خلاف کیا کارروائی ممکن ہے۔ ہمارے تئیں اب یہ منڈی بند نہیں ہوئی کیونکہ جو آدمی کروڑوں روپے لگا کر آئے گا اس نے اپنے کروڑوں روپے اچھی شرح منافع کے ساتھ وصول کرنے ہی ہیں ۔ فطری امر ہے کہ اچھا کاروباری شخص ایسی جگہ سرمایہ کاری کرتا ہے جہاں سے اسے سرمایہ کا دوگنا تین گنا ہونے کا امکان نظر آرہا ہو۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کرکٹ میں پانچ لاکھ روپے لے کر سپاٹ فکسنگ پر کھلاڑی کو پانچ سالہ پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جرمانہ الگ سے ہوتا ہے۔ سینٹ کے انتخابات میں کروڑوں روپے میں ووٹ فروخت کرنے میں کوئی شبہ نہیں مگر ان کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟سینٹ انتخابات کی صورت میں رچائے جانے والے اس مضحکہ خیز تماشے نے آج بہت سے اخلاقی سوالات کو جنم دیا ہے۔ایک سینئر صحافی کا یہ تبصرہ برجستہ و حق گوئی ہے کہ ’’اس طرح آصف زرداری کی بلے بلے تو ہو گئی ہے لیکن کسی جماعت کے مینڈیٹ کو چوری کرنا کوئی قابلِ فخر اقدام نہیں ہے۔‘‘حالیہ سینیٹ انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے پارٹی کے نظم و ضبط اور اخلاقیات کے بجائے زیادہ توجہ سینیٹ میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے پر دی لیکن سیاسی مبصرین کے خیال میں جمہوریت میں کامیابی کا پیمانہ عوام میں مقبولیت ہے نہ کہ سیاسی جوڑ توڑ۔سینٹ کے انتخابات میں جیتنے والوں کے بھی ہارنے کا گمان ہوتا ہے کیونکہ جن کی جیت ہوئی ہے وہ اپنی جیت کو ثابت نہیں کرسکتے ان کی نمائندگی قانونی طور پر مکمل ہونے کے باوجود ادھورے پن کا شکار ہے اور ادھورے پن کا یہ احساس ہر فورم پر اور تا مدت تکمیل رہے گا۔

متعلقہ خبریں