Daily Mashriq

حلفاً کرپشن سے انکار، احسن تجویز

حلفاً کرپشن سے انکار، احسن تجویز

اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے ہم عصر سیاستدانوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قوم کے سامنے ٹی وی پر آکر میرے ساتھ قرآن پاک پر حلف اُٹھائیں اور اگر مجھ پر یا میرے بیٹے واہلیہ پر کرپشن ثابت ہو جائے تو میں پھانسی چڑھنے کو تیار ہوں اور اگر ان پر ثابت ہو جائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں۔ اے این پی کے مرکزی صدر کا ہم عصر سیاستدانوں کو حلف کا چیلنج بڑا چیلنج ہے۔ اسفندیار ولی خان نے جوش خطابت میں جو بات کہہ دی ہے اس پر عملدرآمد کا کوئی امکان نہیں لیکن اگر ایسا ہو جائے تو کم ازکم قرآن پر حلف اٹھانے کے بعدکہے ہوئے الفاظ پر لوگ یقین کرنے کو ضرور تیار ہوں گے اس سے کم پر کسی طور بھی یقین نہیں کیا جا سکتا اور کرنا بھی نہیں چاہئے۔ سینیٹ کے انتخابات میں جو کچھ ہوا اس نے تو بد اچھا بدنام برا کا محاورہ بھی غلط کر دکھایا ہے اب اس محاورے کو بدنام ہی اچھا ہونا چاہئے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں میں سبھی کے بدعنوان اور راشی ہونے کا امکان تو نہیں مگر عوام اقتدار میں رہنے والے کسی بھی سیاستدان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں سپریم کورٹ بھی ایک ہی شخص کے علاوہ سبھی کے صادق اور امین نہ ہونے کے بارے کسی شک وشبے کا شکار نہیں مگر کرپشن وبدعنوانی کا جادو جس طرح سر چڑھ کر بولتا ہے اس کے آگے بد باندھنے میں عدلیہ بھی بے بس دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے تئیں اسفندیار ولی خان کی اس تجویز کو عوامی سطح پر مقبولیت حاصل ہونی چاہئے اور عوام کو سیاسی عناصر کی حمایت سے قبل ان سے اس امر کا حلف اٹھانے پر زور دینا چاہئے جو اقتدار میں رہ چکے ہوں یا پھر انتخاب لڑنے کے خواہاں ہوں، اسفندیار ولی خان اگر دوسروں کو چیلنج دینے کی بجائے اگر خود کسی مناسب جگہ کا انتخاب کر کے حلف اُٹھائیں تو ان کی پوری جماعت پر لگا بدعنوانی کا داغ دھل جائے گا اور عوام دوسرے سیاستدانوں کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ اسفندیار ولی خان نے بال جن کے کورٹ میں پھینکا ہے ان کو اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے مثبت جواب دینے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے۔ قطع نظر اس کے ہمارے تئیں وطن عزیز میں بدعنوانی کا ناسور وہ واحد سنگین مسئلہ ہے جس پر اگر قوم قابو پاسکے تو ہمارے بہت سے مسائل کا خودبخود خاتمہ ہوجائے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بدعنوانی نہیں کی اور ان کے ہاتھ صاف ہیں ان کو عوام اور ملک و قوم کے مفاد میں حلف اُٹھا کر بیان دینے میں اعتراض نہیں ہونا چاہئے ایسا کرنا نیک مقصد اور نیک نیتی کے زمرے آئے گا اور یہ ملک وقوم پر احسان کے مترادف ہوگا۔
قانونی نہیں معاشرتی مسئلہ
سٹائلش داڑھی پر اختلاف کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے ہیئر ڈریسرز کے درمیان تنازعہ قانونی سے زیادہ معاشرتی معاملہ ہے۔ ہمارے تئیں سٹائلش داڑھی بنانے کے معاملے پر اس قدر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر بھی اگر دونوں گروپوں کو اس تنازعے کا حل درکار ہے تو وہ باہم جرگہ کر کے اور ثالثی کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔ ہمارے تئیں یہ ہیئر ڈریسر کے دو گروہوں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ دو متضاد سوچ رکھنے والوں کا تنازعہ ہے چونکہ اس بدعت نے پوری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اسلئے اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے، یقیناً حکومت وعدالتیں کسی کی ایسی آزادی پر قدغن نہیں لگا سکتیں جس سے کسی دوسرے کا حق متاثر ہوتا ہو لیکن دوسری جانب ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ہم کس مذہب کس دین اور کس تہذیب وتمدن کے امین ہیں۔ ہمارا دین اس طرح کے امور کی اجازت دیتا ہے کہ نہیں یا پھر اس کی گنجائش ہے یا نہیں، ہمارے معاشرے میں بھی اس طرح کے خرافات کی گنجائش نہیں اس طرح کے چونچلے چند ایک ماں باپ ہی برداشت کر سکتے ہیں۔ شہروں میں مختلف مذہب اور تہذیب وتمدن کے لوگ بستے ہیں اسلئے شہروں میں مسلم تہذیب کے برعکس تہذیب وتمدن والوں میں اس کا رواج دیکھا جاسکتا ہے جس سے ہمارے بعض سادہ لوح نوجوان بلاوجہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ہمارے تئیں اس طرح کی عجیب وغریب حرکات کا ارتکاب اگر کسی اہانت کے جذبے کے بغیر بھی ہے تب بھی اس کی گنجائش نہیں اور اگر برائے اہانت ہے تو پھر کسی طور بھی یہ قابل برداشت امر نہیں۔ ہیئر ڈریسرز کے دونوں گروپوں کے درمیان اس بات کا فیصلہ کیا ہوتا ہے اس سے قطع نظر یہ ہر مسلمان ماں باپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نہ صرف داڑھی کی شکل بگاڑنے سے اپنے بچوں کو منع کریں بلکہ بالوں کا بھی ایسا سٹائل بنانے سے منع کریں جو شرفاء کو معیوب لگے۔ ازروئے شرع محولہ دونوں افعال کی کوئی گنجائش نہیں اس کا سمجھانا علمائے کرام‘ آئمہ عظام‘ اساتذہ اور والدین سبھی کی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی پر جواب دینا ہوگا۔

اداریہ