Daily Mashriq

شام کے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا اور مسلم اُمہ

شام کے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا اور مسلم اُمہ

اسلامی تاریخ کے مطالعہ کے دوران متعدد واقعات‘ ادوار اور مقامات ایسے ہیں کہ جن کو پڑھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان عظیم سانحات کو پڑھتے ہوئے میرے دل سے ایک ہوک سی اُٹھتی تھی کہ ’اس کے مسلمان حکمرانوں نے ہوش کے ناخن کیوں نہیں لئے‘۔ انہوں نے آپس کے اختلافات بھلا کر مسلم اُمہ کے مفادات اور عزت وناموس کے تحفظ کی خاطر اتحاد کیوں نہیں کیا۔ یہ خونچکاں وخون ریز سانحات‘ جنگیں اور خانہ جنگیاں پڑھتے ہوئے ایک حساس مسلمان جو قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں مسلم اُمہ کی تشکیل‘ تعمیر، بقاء اور اس کے اصولوں پر ایمان ویقین رکھتا ہو‘ حیران وپریشان ہو کر سوچتا ہے کہ غالب نے اگرچہ دہلی کی بربادی کے بعد اپنے ہی حالات کے پیش نظر کہا تھا‘ لیکن آج بھی ہم جیسے بے بس انسان کے کام آتا ہے۔
حیراں ہو‘ دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
اگر بنی اُمیہ کیخلاف بنی عباس‘ ابو مسلم خراسانی کے ہاتھوں زچ نہ ہوتے اور اگر بنو عباس اس تاریخی ظلم وبربریت کا مظاہرہ نہ کرتے کہ بنی اُمیہ کے چیدہ وسرکردہ لوگوں کو دھوکہ دے کر کھانے کی دعوت پر بلایا اور پھر سب کو تہہ وتیغ کیا سوائے عبدالرحمن ابن معاویہ کے جو اندلس فرار ہونے میں کامیاب ہوا اور ان کی صلاحیت وقابلیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں اُمویوں نے سات صدیوں تک شاندار حکومت کی لیکن پھر دونوں خاندانوں یعنی بنی اُمیہ اور بنی عباس کو خانہ جنگیوں‘ خاندانی چپقلشوں‘ تخت وتاج کی لالچ اور عیاشیوں نے غیر مسلم اور حریف حکمرانوں کے سامنے بے دست وپا کر کے رکھ دیا۔ غرناطہ سے آخری مسلم حکمران عبداللہ (باب ڈیل) روتے ہوئے نکلا ، دوسری طرف ہلاکو خان نے جس طرح بغداد (جس کی بنیاد عباسی خلیفہ منصور نے بڑی شان سے رکھی تھی) کی اینٹ سے اینٹ بجا کر طویل عباسی خلافت کا بہت ظالمانہ انداز میں خاتمہ کر دیا۔پھر درمیان کے حالات وواقعات سے صرف نظر کرتے ہوئے جب عثمانی خلافت قائم ہوئی تو ایک دفعہ پھر اُمت مسلمہ کا تصور عملی صورت میں سامنے آیا لیکن اس کے زوال میں عرب‘ عجم تقسیم نے اُمت اسلامی کے تصور کو جو چرکے لگائے، اس کے داغ آج تک محسوس ہو رہے ہیں۔ خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ایک طویل مدت تک اُمت مسلمہ کا استعماری قوتوں کا غلام رہ کر زندگی گزارنا اسلامی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ بیسویں صدی کی نصف اول میں جنگ عظیم کے سبب مسلمان ممالک کہنے کو تو آزاد ہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ آج تک ذہنی غلام ہیں۔ جنگ عظیم کے بعد طرفہ تماشہ دیکھئے کہ وہ عرب ممالک جہاں سے ساری دنیا کے مسلمانوں کو اسلام اور اخوت کا پیغام ملا تھا قومیت (نیشنلزم) اور وہ بھی دور جاہلیت کی قومیت پرستی میں بری طرح پھنس گئے۔ ترکی میں کمال ازم نے ترک مسلمانوں کے جذبہ اخوت اور اسلامی افاقیت کو قوم پرستی اور جدیدیت کے نام پر اس حد تک ختم کرنے کی کوشش کی کہ ظالم نے عربی زبان ورسم الخط کا بائیکاٹ کرتے ہوئے رومن رسم الخط اپنایا جو آج تک جاری ہے۔ اللہ کی شان کہ اس زمانے میں ہندوستان کے محکوم مسلمانوں نے اسلام کا نعرہ بلند کیا اور اپنے لئے الگ ملک پاکستان لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم کیا لیکن وائے ناکامی کہ یہاں بھی صرف تئیس برس بعد قومیت کے پرستاروں نے وہی گل کھلائے جو ماضی قریب میں کھل کر مرجھا گئے تھے۔ اب جب کہنے کو ستاون اسلامی ممالک وجود میں آئے تو بیسویں صدی تو جیسے تیسے مغربی ومشرقی یا کیپٹل ازم اور سوشلزم کے خوشہ چین بن کر گزار لئے لیکن یہ بھی استعمار کو پسند نہ آیا کیونکہ اس دوران مسلمان ملکوں میں اسلامی روایات اور تہذیب وثقافت کی بازیافت کی بازگشت سنائی دینے لگی اور کئی ایک مسلمان ملکوں میں جب اس قسم کی تحریکیں کامیاب ہونے لگیں اور بعض کامیاب بھی ہوئیں (جیسے مصر اور تیونس اور افغانستان وترکی وغیرہ میں) تو ظالم استعمار نے وہی آزمودہ پرانی چال چلی اور مسلمان ایک دفعہ پھر اُس کے دام میں پھنس گئے۔ ہر مسلمان ملک کے اندر پہلے ایک گروپ کی مدد کر کے آگے بڑھایا، پھر اُس کے مخالف گروپ کو ہر لحاظ سے مدد پہنچا کر سامنے کھڑا کیا یوں شام جیسی صورتحال وجود میں آئی۔ شام میں امریکہ، روس، ایران، ترکی، سعودی عرب اور بعض دیگر اسلامی ممالک جس طرح ملوث ہوگئے ہیں۔ آخر شام کے معصوم عوام کا گناہ کیا ہے۔ پاکستان اپنی اندرونی سیاست، افغان مصیبت اور امریکہ ومغرب کی دوستی میں ایسا گھرا ہوا ہے کہ حکمرانوں کو شام کا نام بھی یاد نہیں۔ سعودی عرب کو جدیدیت اور یمن وقطر کی دشمنی نے اپنے اندرونی حالت کو قابو میں رکھنے پر بری طرح مصروف کئے رکھا ہے۔ مصر اخوان المسلمون کیخلاف لگا ہے اور اسرائیل کی بلائیں لے رہا ہے۔ ایران شام میں سارے اسلامی ملکوں سے زیادہ ملوث ہے لیکن رہ سہہ کر ایک ہی ملک کی طرف نگاہ اُٹھتی ہے ۔۔ترکی۔۔ طیب اردوان ۔۔ اگرچہ امریکہ بہادر اُس کے پیچھے بھی لگا ہے۔ گولینیوں کا خاتمہ ابھی ہوا ہے کہ شام میں کردوں کو اُن کیخلاف لاکھڑا کیا ہے۔ حالات بہت گمبھیر ہیں۔ مسلمان ممالک میں عوامی بے چینی عروج پر ہے۔ لوگ احادیث کے حوالے دینے لگے ہیں۔ 2023ء میں مغرب اور ترکی کا سو سالہ معاہدہ ختم ہونے والا ہے۔ پندرہویں صدی بھی ہے۔ کیا ترکی ایک دفعہ پھر اپنا پرانا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

اداریہ