جج اپنا کام کریں ، ہمیں اپنا کام کرنے دیں

جج اپنا کام کریں ، ہمیں اپنا کام کرنے دیں

سینٹ کے الیکشن میں ن لیگ نے15، پیپلز پارٹی نے12، اورپی ٹی آئی نے 6سیٹیں جیتیں ، یہ تھی سینٹ کے الیکشن کے اگلے روز شائع ہونے والی بہت بڑی اور دلچسپ خبر
بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے
بعید از حقیقت نہیں یہ بات کہ ہر لحظہ دیکھنے کو ملتا ہے اک طرفہ تماشا۔ اب کے ہم نے جو سنا اور دیکھا کہ بک گئے سارے گھوڑے اور سوگئے گھوڑے بیچ کر سونے والے ۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق جس کی لگام اس کا گھوڑا۔ اب سرپٹ دوڑیں گے یہ گھوڑے لگام بدست شاہسواروں کے اشارے پر۔اور بیت جائے گی ان کی بھی جو گھوڑوں کی تجارت سے بے نیاز ہو کر کہتے پھرتے ہیں کہ
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
زندگی کا بے لگام گھوڑا سرپٹ دوڑے جارہا ہے۔ اور اس وقت تک دوڑتا رہے گا جب تک تماشا دیکھنے والی آنکھوں میں دیکھنے کا دم ہے ، اور پھر آجائے گا ایک دن وہ بھی جب ہوجائے گا کھیل ختم اورسارا پیسہ ہضم۔ مگر نہیں ابھی تو شروع ہوا ہے یہ کھیل۔ سینٹ کے بعد پارلیمنٹ کے الیکشن ہو نگے۔ وہاں بھی دھنوان اپنی برتری ثابت کرکے اقتدار کی کرسی پر قبضہ جمائیں گے اور اس طرح ان کو گھوڑے خریدنے پر صرف ہونے والا اصل زر بمعہ کئی گنا منافع ہاتھ آجائے گا۔تاجروں کی تجوریاں پھر بھر جائیں گی اور جمہوریت جمہوریت کھیلنے والے اہل وطن کی آنکھوں میں ایک بار پھر دھول جھونک کر قومی دولت بیرون ملک منتقل کرنے لگیں گے ۔ اور جب بزعم خود حق اور انصاف کا بول بالا کرنے والے قوم کی دولت لوٹنے والوں کو نااہل قرار دے دیں گے تووہ اپنے گریباں میں جھانکنے کی بجائے ’’مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا‘‘ کہتے عوام کے جم غفیر کو اکٹھا کرکے عدلیہ کی توہین کا ارتکاب کرتے ہوئے اس کی بال کی کھال ادھیڑنے لگیں گے ۔اندھا کیا جانے بسنت کی بہار، غریب، ان پڑھ اور سادہ لوح عوام کو کیا معلوم کہ آپ کو کس نے نکالا اور کیوں نکالا۔ وہ مہنگائی کی دلدل میں دھنسے اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ اس دلدل میں ان کو کس نے پھینکا اور کس جرم کی پاداش میں پھینکا۔ ہماری اس بات سے ملتی جلتی بات پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ایک حالیہ تقریر کے دوران کہی کہ ’’عوام کو مجھے کیوں نکالا سے کوئی غرض نہیں۔عوام کا مسئلہ بیروزگاری، غربت اور دہشتگردی ہے‘‘۔ جی ہاں عوام تو یہ بھی نہیں جانتے کہ سینٹ کس چڑیا کا نام ہے اور سینٹ کا الیکشن کیا ہوتا ہے ۔ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کی بدولت ورقی اور برقی ذرائع ابلاغ کے ذریعے صرف اتنا ہی جان پاتے ہیں کہ سینٹ کے الیکشن ہورہے ہیں اور ان کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اب کے بہت مہنگی بولی لگی ہے ووٹوں کی، صرف ایک ووٹ5کروڑ سے8کروڑ روپے تک میں نیلام ہوا ہے۔
ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے
خامہ انگشت بہ گریباں ہے اسے کیا لکھئے
شہنشاہ اور شہزادے ہی کھیل سکتے ہیں جمہوریت جمہوریت اور الیکشن الیکشن کا یہ کھیل ، کیونکہ جب اقتدار ان کے ہاتھ میں آتا ہے تو یہ عوام سے ان کی روزی روٹی تک چھین لیتے ہیں اور یوں غربت مارے عوام کا اگر احساس زندہ ہو تو وہ بے چارے پکار پکار کر کہتے رہ جاتے ہیں کہ
میرے حصے کی روٹی تو چرا لیتے ہیں زر والے
میں کاسہ ہاتھ میں لے کر سر بازار پھر تا ہوں
سینٹ کے الیکشن میں وہی لوگ میدان مار گئے جو گھوڑے خرید سکتے تھے۔ اور جو صادق اور امین بنے پھرنے کا شوق ادا کرنا چاہتے تھے وہ اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ ویسے مناسب نہیں لگتا ’صادق اور امین‘ ہونے کے اس تقدس مآب لقب یا خطاب کو آج کے سیاسی اکھاڑے کے پہلوانوں کے لئے استعمال کرنا۔ جو بندہ لنگوٹ کس کر سیاست کے میدان میں اترتا ہے وہ بھلا کب اور کیسے صادق اور امین کا لقب پانے کا اہل ہو سکتا ہے۔ اگر اس کے دل میں ذرہ برابر بھی حب رسول مقبول ﷺ کی رمق باقی ہے تو ہچکچانا چاہئیے اسے اس لقب کو اپنی ذات کا حوالہ بناتے وقت۔ سینٹ یا ایوان بالا کے الیکشن کے نتائج دیکھ کر کہنا پڑا کہ سینٹ کے لئے امیدوار نامزد کرنا اور پھر ان کو کامیاب کروانے کے لئے کرنسی نوٹوں کے بنڈل ہی نہیں بھری پُری تجوریاں اور بوریاں چاہئے ہوتی ہیں۔ اور جنہوں نے اپنے عہد اقتدار میں قوم کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر منی لانڈرنگ کرکے باہر کے ملکوں کے بینکوں کی تجوریاں بھری ہوں ملز ، فیکٹریاں، کارخانے ، پلازے اور محلات تعمیر کئے ہوں وہی لوگ ایوان بالا کا الیکشن لڑنے کے لئے اپنے زر خرید اعلیٰ نسل کے گھوڑے میدان میں اتار سکتے ہیں ،فتح و کامرانی کی دیوی ایسے ہی دھنوانوں کی قدم بوسی کرنے کی روایت پوری کر تی ہے ۔رہی بات ان کے چہروں پر سجے چہروں کو نوچنے کی تو کسی کو ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہئے ۔ حق اور انصاف کے داعیوں کو اپنی اوقات میں رہنا چاہئے قانون بنانے والی حکومت سے پنگہ لینا کہا ںکی دانش مندی ہے قانون دانوں کی۔’’جج اپنا کام کریں ، ہمیں اپنا کام کرنے دیں‘‘ یہ ہے سرخی اس خبر کی جو خبر کم، مگرحکومت وقت کی طرف سے جاری ہونے والا تنبیہہ آمیز بیان زیادہ ہے ، عدالتیں اور قانون بڑے لوگوں کے لئے نہیں ہوتا یہ غریب عوام کے لئے بنتا ہے ، لیکن کیا غریب عوام کو ان کا حق عدل و انصاف کی صورت مل پاتا ہے ؟۔

اداریہ