Daily Mashriq


عدل کو ترستا پاکستانی سماج

عدل کو ترستا پاکستانی سماج

دوسری جنگ عظیم میں اتحادی اور نازی افواج برسر پیکار تھے، برطانیہ کے وزیراعظم سے کسی نے پوچھا کہ کیا ہم یہ جنگ جیت لیں گے؟ چرچل نے سوال کا جواب دینے کی بجائے مخاطب کی طرف غور سے دیکھا اور پوچھا کہ برطانیہ کے لوگوں کو انصاف مل رہا ہے؟ اثبات میں جواب ملا تو چرچل نے کہا، اگر عوام کو انصاف مل رہا ہے تو پھر دنیا کی کوئی قوت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔عدل اور انصاف کی فراوانی ہو تو مشکلات کے بالمقابل قومیں سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہیں اور ناانصافی کا دور دورہ ہو تو ریت کا ڈھیر بن کر رہ جاتی ہیں۔ انسانی تاریخ کا سب سے دلچسپ پہلو ہی یہ ہے کہ جس قوم میں انصاف رہا اسی نے دنیا پر راج کیا اور جو ناانصافی کے راستے پر چلی اللہ نے اسے زمین بوس کر کے اس پر دوسری قوم کو مسلط کر دیا۔ اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو عدل فاروقی کی چھاؤں بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی نظر آتی ہے۔خلیفہ دوم کسی عامل کو قیمتی پوشاک پہننے پر معزول کرتے نظر آتے ہیں تو کسی عامل کی بنائی ہوئی ڈیوڑھی گرا کر اسے منصب سے الگ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ رات بھر سونے کی بجائے گلیوں میں اس خیال سے گشت کرتے ہیں کہ کوئی تکلیف میں ہو تو اس کی مدد ہو جائے، کوئی بھوکا ہو تو اسے کھانا مل جائے۔ کہا گیا اے عمرؓ یہ بے آرامی ہلاک کر دے گی، فرمایا ہاں مگر میری شامت اعمال سے اگر محمدﷺ کی امت کو کچھ ہوا تو کل روز محشر انہیں کیا جواب دوں گا؟عرب میں قحط پڑتا ہے۔ بلا کی خشک سالی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، رعایا کے غم میں ہلکان نظر آتے ہیں۔ چہرہ زرد پڑ جاتا ہے۔ چاہیں تو کھانے کو سب کچھ مل سکتا ہے کہ وقت کے جلیل القدر حکمران ہیں، بائیس لاکھ مربع میل تک حکمرانی کا دائرہ پھیلا ہوا ہے لیکن جسم اور سانس کے رشتے کو برقرار رکھنے کیلئے تھوڑا سا زیتون لیتے ہیں اور چپہ بھر روٹی۔ رو رو کر اللہ سے فریاد کرتے ہیں، مالک کہیں عمرؓ کی شامت اعمال سے محمدﷺ کی امت ہلاک نہ ہو جائے۔ داڑھی آنسوؤں سے تر ہے، بے چینی میں ادھر ادھر گھوم رہے ہیں، ابرکرم کی تلاش میں باربار نظریں آسمان کی طرف اُٹھتی ہیں۔ پھر جب طویل خشک سالی کے بعد ابرکرم برستا ہے تو چہرے کی رونق بحال ہوتی ہے۔عمرؓ ہوں یا علیؓ قاضی کی عدالت میں یوں عاجزی سے پیش ہوتے ہیں کہ جیسے وقت کے حکمران نہیں عام لوگ ہوں۔ قاضی تعظیم کیلئے اُٹھتا ہے تو یہ عمل ناگوار گزرتا ہے کہ ادب کا یہ انداز کہیں بے لاگ انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہ بن جائے۔عدل جہانگیری ابھی کل کی بات ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر نے ایک طویل زنجیر تیار کرائی جس کا ایک سرا محل کے باہر اس مقام پر تھا جہاں ہر خاص وعام کو رسائی تھی اور دوسرا سرا محل کے اندر۔ زنجیر کا یہ سرا پیتل کی ایک بہت بڑی گھنٹی کیساتھ منسلک تھا۔ جہانگیر کی یہ زنجیر، زنجیر عدل کہلائی۔ جونہی کوئی سائل یا فریادی محل کے باہر سے اس زنجیر کو کھینچتا تو محل کے اندر گھنٹی بجنے لگتی اور شہنشاہ کو پتہ چل جاتا کہ کوئی سائل یا فریادی اسے پکار رہا ہے۔ کوتوال اور اس کے ہرکارے فوری طور پر حرکت میں آتے اور اس شخص کی دادرسی کرتے۔دور حاضر میں یورپ عدل وانصاف میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ کیا مجال کہ کوئی بھی شخص قانون ہاتھ میں لے اور قانون کے رکھوالوںکی پکڑ سے بچ سکے۔ کیا مجال کہ کوئی ٹریفک قوانین کو اپنی گاڑی کے پہیوں تلے روندے اور انصاف کے نظام کی پکڑ میں نہ آئے۔ حتیٰ کہ اس سسٹم میں کسی خاتون کو گھورنا بھی جرم ہے۔ خاتون شکایت کر دے تو ایسا کرنیوالا جیل کی سلاخوں کے پیچھے نظر آتا ہے۔ انصاف کو خریدنا قریب قریب ناممکن ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کو انصاف کیلئے دھکے نہیں کھانے پڑتے۔ رشوت دے کر پولیس کی مار سے بچنا نہیں پڑتا۔ لوگوں کو تاریخوں پر تاریخیں نہیں ملتیں اور دادے کا مقدمہ پوتے کو نہیں لڑنا پڑتا۔ یورپ کے کسی گئے گزرے ملک میں بھی اس طرح کا شرمناک جملہ نہیں بولا جاتا کہ وکیل کو چھوڑو جج کر لو۔ ادھر پاکستان میں نہ سماجی انصاف ہے نہ سیاسی، معاشی انصاف ہے نہ عدالتی، سماج کی حالت یہ ہے کہ جو غریب اور بے زبان ہے اسے طاقتور اور صاحب حیثیت ٹھوکر پر رکھتا ہے۔

سیاست صرف پیسے والے کا حق ہے۔ جس کے پاس الیکشن میں خرچ کرنے کیلئے پانچ دس کروڑ ہے وہی قومی اسمبلی اور سینیٹ کا رخ کرتا ہے۔عدالتی انصاف کا حال یہ ہے کہ جن مقدمات کا فیصلہ تین ماہ میں ہو جانا چاہئے ان میں تین تین سال لگ جاتے ہیں۔ ملزم پیسے والا ہو تو اس کیلئے پیشی بھی آسان اور بریت کے امکانات بھی زیادہ اور اگر غریب ونادار ہو تو پولیس کی مار بھی کھائے اور جیل بھی جائے۔غریبوں، بے نواؤں پر ظلم کی بازگشت عدالت عظمیٰ کے کسی جج کے کان میں پڑ جائے تو شاید اس کی دادرسی ہو جائے اور جن کی فریادیں دیواروں سے ٹکرا کر واپس انہی کے کانوں سے جا ٹکراتی ہیں، وہ ناانصافی کی سولی پہ لٹکے ایک روز اپنی سانسیں ختم کر لیتا ہے۔نہ کوئی جہانگیر، نہ کوئی زنجیر عدل۔ نہ کوئی دلیل نہ کوئی وکیل اور نتیجہ معاشرتی تباہی، اداروں کی بربادی کہ جہاں عدل نہ ہو اور انصاف کسی بیوہ کی طرح بال کھولے بین کر رہا ہو وہاں پوری قوم پر بے برکتی اور نفسا نفسی کے تازیانے نہ برسیں تو کیا آسمانوں سے پھول برسیں؟۔

متعلقہ خبریں