خیبر پختونخوا کو قرضہ لینے کی ضرورت کیوں

خیبر پختونخوا کو قرضہ لینے کی ضرورت کیوں

اگر ہم خیبر پختونخوا کے وسائل پر نظر ڈالیں تو اللہ تعالیٰ نے خیبر پختونخوا کو بہت سارے قدرتی وسائل نے نوازا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہر دور کے حکمران ان قدرتی وسا ئل سے استفادہ نہ کر سکے۔ نتیجتاً یہ صوبہ پسماندگی، غربت اور بیروزگاری کا شکار ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت دریائے سوات پر پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 20 ہزار میگا واٹ اور دریائے سندھ پر پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت30 ہزار میگا واٹ ہے۔ اس کے علاوہ شمسی توانائی، انرجی کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہاں پرسال میں 300 دن دھوپ پڑتی ہے اور ایک مربع میٹر پر ایک کلو واٹ توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اگر حکومت کوشش کرے اور سرمایہ کاروں کی مدد سے چین سے سستے سولر سیلز منگوائے اور یہ سولر سیلز 5 مربع کلو میٹر رقبے پر لگائیں جائیں تو ان سولر سیلز اور پینلزسے خیبر پختونخوا کی توانائی کی ضروریا ت پوری کی جا سکتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں جانور پالے جاتے ہیں، لہٰذا کے پی کی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان دوردراز علاقوں میں جہاں پر حکومت کبھی بھی قدرتی گیس نہیں پہنچا سکتی ان دیہاتی علاقوں کو بائیو گیس پہنچائی جائے۔ ایک اندازے کے مطابق خیبر پختونخوا میں17 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں لہٰذا کوشش کرنی چاہئے کہ فرنیچر کی ایسی عالمی سطح کی صنعتیں لگائی جائیں جن سے ہم صوبے میں تیار کردہ فرنیچر کو اندرون اور بیرون ملک بھیج سکیں۔ ماہراقتصادیات رؤف احمد کے مطابق اگر اس اقدام پر عمل کیا گیا تو اس سے صوبے کی حکومت کو سالانہ 50 ارب تک کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے اقدام سے لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقعے بھی فراہم ہوںگے۔ خیبر پختونخوا کا کل رقبہ 74521 مربع کلومیٹر ہے۔ جس کے 70 فیصد رقبے پر پہاڑ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں کو بے تحاشا قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ ان قدرتی معدنیات میں کرومائیٹ، کوئلہ، جپسم، ماربل ، آئرن، فاسفیٹ، کوارٹز، ریڈ آکسائیڈ، لیتھیم یورینم، گیس اور تیل وغیرہ کے ذخائر موجود ہیں مگر اس پر کام نہیں ہو سکا۔ قدرت نے پاکستان کو سیاحت کے بڑے خوبصورت مقامات سے نوازا ہے مگر ماضی کی کے پی حکومتیں ان سیاحتی جگہوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکیں۔ ہمارے ملک میں، ہندو مت، سکھوں اور دیگر مذاہب کے مقدس مقامات ہیں جن کیلئے پوری دنیا سے سیاح آتے ہیں مگر یہ کام ایک خاص سائنسی دا ئرہ کار میں نہیں ہوتا۔ سوات، چترال، ہزارہ ڈویژن میں ایسی بہت ساری جگہیں ہیں جن کو ترقی دے دی گئی تو اس سے سیاحت کی مد میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ کے پی کے میں سیاحت کے باعث ہوٹلوں کی تعداد جو 2000 ہے اس کو دس ہزار تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سیاحت کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی مد میں بھی بہت ترقی کی جاسکتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کے پی کو دنیا کا گیٹ وے کہا جاتا ہے، ایک طرف اگر کے پی کی ایران، افغانستان اور چین کیساتھ سرحدیں ہیں تو دوسری طرف ہم جلال آباد اور طورخم کے راستے وسطی ایشیائی ریا ستوں تک جا سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اُٹھائے اور اپنے وسائل بڑھانے کی کوشش کرے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا میں 1848 صنعتی یونٹوں میں 1145 بند پڑے ہیں، کوشش کرنی چاہئے کہ ان یونٹوں کو دوبارہ چلایا جائے۔ گدون امازئی انڈسٹریل ایریا کو ختم کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کے پی کے میں گنے، تمباکو کے علاوہ مکئی کی فصل ہوتی ہے اور ایک وقت تھا کہ جہانگیرہ میں کارن کمپلیکس ہوا کرتا تھا جو بدقسمتی سے بند کیا گیا جس سے نہ صرف بہت سارے لوگ بیروزگار ہو گئے بلکہ ایک پوری صنعت ختم ہوگئی۔لہٰذا مکئی، تمباکو اور گنے کی بڑی صنعتیں لگانی چاہئیں تاکہ چھوٹے کسانوں کی حوصلہ افزائی ہو اور لوگوں کو ملازمت اور اپنی آمدن بڑھانے کے مزید مواقع میسر ہوں۔ حکومت سے یہ بھی استدعا ہے کہ وہ صوبے میں عالمی سطح پر ایسی یونیورسٹیوں اور میڈیکل اداروں کا جال بچھائے جہاں پر دوسرے ممالک سے لوگ تعلیم حاصل کر سکیںاور علاج سے بھی مستفید ہوں۔ کہتے ہیں کہ پوری دنیا کو پختونوں نے آباد اور تعمیر کیا مگر بدقسمتی سے یہاں پر اس افرادی قوت کی مناسب اور سائنسی بنیادوں پر تربیت نہیں، لہٰذا عالمی مارکیٹ میں ہماری افرادی قوت کو جو کردار ادا کرنا چاہئے وہ نہیں ادا کر سکتی۔ لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کم پڑھے لکھوں کیلئے مختلف ٹیکنیکل ادارے قائم کرنے چاہئیں جو عالمی مارکیٹ کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اس سے تربیت لے سکیں اور اپنی صلاحیتوں کا جوہر یورپی اور خلیجی ممالک میں منوا سکیں۔ یورپ کے جوانوں کی آبادی خاندانی منصوبہ بندی کی وجہ سے کم ہو رہی ہے، لہٰذا وہاں پر افرادی قوت کی بڑی قلت ہے۔ کے پی کی کافی زمین بنجر پڑی ہے اگر اس زمین کو کارآمد بنایا گیا تو اس سے بھی زرعی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی 30 سے 40 فیصد سبزیاں اور فروٹ صوبہ خیبر پختونخوا میں پیدا ہوتی ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ان لوگوں کے پاس کوئی ایسا طریقہ کار نہیں جو ان پھلوں اور سبزیوںکو سائنسی طریقوں سے محفوظ رکھ سکیں، لہٰذا ایسے علاقوں میں جہاں پر سبزیوں اور پھلوں کی کاشت کی جاتی ہے وہاں پر زمینداروں کیلئے ایسے کولڈ سٹوریج کا انتظام کیا جانا چاہئے جہاں طویل عرصے کیلئے ان سبزیوں اور پھلوں کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اداریہ