Daily Mashriq

انتخابی عمل کی بہتری کے تقاضے

انتخابی عمل کی بہتری کے تقاضے

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جولائی2017ء تک وفاقی حکومت نے انہیں مردم شماری کے تمام اعداد و شمار اور فہرستیں حوالہ کر دیئے تو2018ء کے عام انتخابات سے قبل ہی نئی حلقہ بندیاں کی جا سکتی ہیں جبکہ آنے والے انتخابات میں تجرباتی بنیادوں پر بائیومیٹرک یا الیکٹرانک ووٹنگ کیلئے جون میں مشینوں کی خریداری کی جائے گی اور اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو2018ء کے عام انتخابات بائیومیٹرک نظام کے تحت کرائے جائینگے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان میں شناختی کارڈ ہونے کے باوجود ایک کروڑدس لاکھ سے زائد خواتین بحیثیت ووٹررجسٹرڈ نہیں ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان2018ء کے انتخابات میں خواتین کی بھرپورنمائندگی چاہتاہے اور اس کیلئے18پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مراسلے بھی بھیجے گئے ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات میں مانیٹرنگ منصوبہ بندی ،عملے کی تربیت اور باہمی روابط کے فقدان کی نشاندہی کی گئی تھی ان عوامل پر قابوپانے کی بھی کوشش کی جائے گی الیکشن کمیشن کے عملے کی خواہش ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر متعلقہ ضلع کا سیشن جج ہو۔ریکارڈ ملنے کے بعد حلقہ بندیوں میں سات سے آٹھ مہینے لگ سکتے ہیں اوریہ عمل 2018کے انتخابات سے چار مہینے قبل مکمل کرلیاجاناچاہئے تاکہ امیدواروںکو اپناحلقہ نیابت کا پتہ ہو۔بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے ای ووٹنگ کے حوالے سے تاحال فیصلہ نہیں کیاگیا ہے ۔ سمندرپار پاکستانیوں کے ووٹنگ کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی میں بھی معاملہ اٹھایاگیاہے تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیاگیاہے ۔لیکن بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانی کسی ایک ملک میں نہیں بلکہ دنیاکے مختلف ممالک میں قیام پذیر ہیں جن میں سے بیشترممالک ایسے ہیں جہاں سرے سے انتخابی عمل ہوتاہی نہیں اسلئے یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے لئے الیکشن کمیشن نے انٹرنیٹ ووٹنگ کی تجویز دی ہے۔اگرچہ الیکشن کمیشن کا کام حلقہ بندیا ں کرنا ہے لیکن اس ضمن میں حکومتوں کی جانب سے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اکثر و بیشتر تاخیر ہی کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے جس کے باعث ہر وقت حلقہ بندیا ں نہیں ہو پاتیںاور اکثر و بیشتر پر ان انتخابی فہرستوں پر مجبوراً ہی انتخابات کرانے پڑتے ہیں جس کے باعث جہاں سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے تحفظات ہوتے ہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے عملے کو بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے اس مسئلے کے حل کیلئے نادرا سے شناختی کارڈ بننے پر ووٹروں کی رجسٹر یشن خود بخود ہونے کا جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اگر اسی طرز پر مردم شماری کے اعداد و شمار کا بھی انتظام کرایا جائے اور ایک خود کار نظام کے تحت الیکشن کمیشن کو متعلقہ ریکارڈ مہیا ہو تے رہیں تو کمیشن کو اپنے معاملات میں آسانی اور خود مختاری حاصل ہو گی ۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ابھی تک ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد خواتین بطورو وٹر رجسٹرڈ ہونی ہیں یہ معاملہ پہلے بھی سامنے آیا تھا مگر اس کے حوالے سے سرکاری محکموں ، سیاسی جماعتوں اور این جی اوز نے کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا تاکہ خواتین ووٹروں کی انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کویقینی بنایا جا سکتا خواتین ووٹروں کی ایک مخصوص تعداد کی شرکت کے بغیر تو انتخابی عمل قابل قبو ل ہی نہیں ہوتا لیکن ہماری سیاسی جماعتیں اس کے باوجود ملی بھگت اور گٹھ جوڑ کر کے خواتین کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں جس کی بڑی وجہ بعض علاقائی روایات ہیں جب تک اس سلسلے میں اقدامات کی کمی ہوگی خواتین ووٹروں کا اندراج اور ان کو انتخابی عمل کا حصہ بنانے کے عمل کی تکمیل مشکل امر ہی رہے گا ۔ اس بارے کسی شک کی گنجائش نہیں کہ انتخابی نظام جتنا بہتر اور شفاف ہوگا عوام کو اپنے نمائندوں کے شفاف چنائو کے اتنے بہتر مواقع ملیں گے ۔ اسے بد قسمتی ہی قراردیا جائے گا کہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلیاں اور سنگین بے ضابطگیاں معمول کا حصہ ہیں ۔انتخابی نظام اور انتخابی عمل میں خامیوں کے باعث ملک میں بے چینی کی فضا کا پیدا ہونا فطری امر ہے ۔ انتخابی نظام اپنا اعتماد کھو رہا ہے جسے درست کرنا اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انتخابی اصلاحات کی مد میں مختلف اوقات میں مختلف مساعی سامنے آتی رہی ہیں لیکن ان کا نتیجہ خیز ہونا اور قابل اعتماد انتخابی نظام وجود میں لا کر عملی طور پر انتخابات کو شفاف بنانا ابھی تک خواب ہی ہے ۔ الیکشن کمیشن کو اپنے عملے کی اس طرح تر بیت پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کے عملے کو ہر قسم کی صورتحال کی سوجھ بوجھ اور اس سے نمٹنے کی صلاحیت ہواور وہ اعتماد کے ساتھ ہر قسم کے حالات سے نمٹ سکے اور صورتحال کو مانیٹر کر کے بوقت ضرورت الیکشن کمیشن کے ذمہ دار عہد یداروں کے نوٹس میں لا سکے ۔ ہم سمجھتے ہیںکہ جس طرح کی تیاریاں اور صورتحال ہے اس میں بظاہر یہ نظر آتاہے کہ آئندہ بائیو میٹرک نظام کے تحت کرایا جا سکے الیکشن کمیشن اگر اس طریقہ کار کو متعارف کرانے کیلئے نادرا کو بطور شریک ادارہ انتخابی عمل میں شامل کرنے کے عمل کا جائزہ لے اور نادرا کے ڈیٹا بیس کو اس طرح سے پولنگ سٹیشنوں سے لنک کیا جا سکے کہ کوئی رکاوٹ نہ آئے بجلی کی مسلسل فراہمی اور لنک بر قرار رکھنے کو یقینی بنایا جا سکے تبھی اس طریقہ کار کے مطابق ووٹنگ ہو سکتی ہے بصورت دیگر یہ ایک ناکام تجربہ ہوگا جس سے اس وقت تک گریز کیا جائے جب تک اس کی کامیابی کا سوفیصد یقین نہ ہو جائے ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے ایسا انتخابی عمل تشکیل دینا چاہیئے کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں فنی بنیادوں پر ہی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کا ایک حلقہ بھی پوشیدہ و عیا ں اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہے شاید اس خیال کے باعث کہ ان کی دانست میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثر یت کسی ایک جماعت کی حامی ہے حالانکہ یہ ایک مفروضہ ہی ہو سکتا ہے خواہ کچھ بھی ہو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع ہر صورت ملنا چاہیئے اور اس کیلئے ہر سطح پر انتظامات کی ضرورت ہے انتخابات میں ووٹروں کی دلچسپی کی کمی اور ووٹ ڈالنے سے اعراض کی ریت کو توڑنے اور زیادہ سے زیادہ ٹرن آئوٹ کو یقینی بنانے پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کو امید واروں کی اہلیت دیکھنے کا روایتی اور سہل طرز عمل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ اہل امید وار ہی انتخابات میں حصہ لے سکیں اور بعد میں ایک طویل عمل کے بعد نااہل قرار دینے کی ناخوشگوار صورتحال سامنے نہ آئے ۔ انتخابی عملے اور خصوصاً پولنگ اور پریذائیڈ نگ افسران کو مناسب تحفظ فراہم کیا جائے ۔ الیکشن کمیشن کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری ملنی چاہیئے اور حکومت پر اس کا انحصار کم سے کم کیا جائے

متعلقہ خبریں