Daily Mashriq

پولیس گردی یا بد اچھا بد نام برا 

پولیس گردی یا بد اچھا بد نام برا 

شاہ قبول پولیس سٹیشن میں دوران ڈیوٹی موٹر سائیکل سواروں کا کانسٹیبل پر تشدد اور دوسری جانب شاہ قبول پولیس کی طرف سے بیکری سے اشیاء نہ دینے پر تشدد کے دو طرفہ الزامات کی حقیقت تو انکو ائری کی تکمیل کے بعد ہی کھلے گی لیکن بیکری مالکان کی جانب سے پولیس پر الزام کے ثبوت کے طور پر تھانے کی مہر لگی فرمائشی پرچی پیش کرنا پولیس کے دامن پر داغ ہے۔ اسے جوابی الزام بھی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن بد اچھا بد نام بر ا کے مصداق پولیس اہلکاروں کی جانب سے ٹھیلے والوں پر چون فروشوں تندور والوں اور شیر فروشوں سے ''چنگا '' لینا اظہر من الشمس ہے۔ اس لئے بعید نہیں کہ تھانہ شاہ قبول کی جانب سے مہر لگی پرچی بھیجی گئی ہو۔ بہر حال الزامات کی صداقت کی چھان بین ضروری ہے جس کے بعد ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیئے۔ پولیس کی جانب سے اختیارات کا غلط استعمال اور مرضی کے موقع پر ڈھونڈ ڈھونڈ کر ضوابط نکالنا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پولیس اگر چاہے تو چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنا قانون کا تقاضا ہوگا اور اگر نہ چاہے تو کسی ایسے مسئلے کی نشاندہی پر پولیس کو چادر اور چاردیواری کے تقدس کا خیال ہوگا خواہ وہ فحاشی کا اڈہ ہی کیوں نہ ہو ۔

متعلقہ خبریں