Daily Mashriq

پی پی پی کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

پی پی پی کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

وطن عزیز سیا سی پارٹیوں کی سیاست علاقائی، مذہبی اور کسی خا ص گروہ کے لئے مخصوص ہو تی ہے ، تاہم ملک میں چند سیاسی پا رٹیاںجس میں پیپلز پا رٹی اور جماعت اسلامی شامل ہے کی سیا ست بلا رنگ ونسل اور بلا تعصب ملک کے سارے عوام کے لئے ہوتی ہے۔۔مُحترمہ بے نظیر بھٹو ایک ایسی سیاست دان تھی جو وفاق کی علامت اور ملک کی چاروں اکائیوں کی مقبول لیڈر تھیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کسی مخصوص سیاسی ، مذہبی لسانی گروہ کی لیڈر نہ تھیں بلکہ ملک کے مڈل اور اوسط 80 فی صد لوگوں کی نمائندہ لیڈر تھی۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف میں فرق یہ تھا کہ بے نظیر بھٹو نے جلا وطنی کے دوران پا رٹی ورکروں سے رابطہ رکھا جبکہ میاں نواز شریف پا رٹی ورکروں سے رابطہ رکھنے میں ناکام رہے ۔ اگر ملکی سیاست پر ٹھنڈے دماغ سے غور کیا جائے تو اس میدان میں بُہت پرانے گُرو چلے آرہے تھے ۔ مگر وہ گھاگ سیاستدان گُرو ملکی سیاست میں لمبا عرصہ گزارنے کے با وجود وہ مقام حاصل نہ کر سکے جو ذوالفقار علی بھٹو اورمحترمہ بے نظیر بھٹو نے بُہت قلیل عرصے میں حا صل کیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے لوگوں کے مزاج اور بنیادی مسائل کو صحیح طریقے سے سمجھتے ہوئے رو ٹی، کپڑا اور مکان اوران کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں کو جانچتے ہوئے 2007ئکے انتخابات کے لئے پانچ ای (5E )یعنی( Employment)روز گار، تعلیم (Education)،Energy توانائی ، ما حو لیات(Environment) اور مساوات (Equality)اور انصاف کے ایسے نعرے لگائے جو امر ہو گئے۔بی بی ایک ایسی ہمہ جہت سیاسی لیڈر تھیں جو بیک وقت مشرق اور مغرب دونوں میں یکساں مقبول تھیں۔پاکستان میں مختلف ادوار میں انتخابات منعقد ہوئے جس کے نتیجے میں اسمبلیاں وجود میں آئیں۔ اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو سب سے پہلی اسمبلی 1947-54 ، دوسری اسمبلی 1955-58 تیسری اسمبلی ،1962-66 چوتھی اسمبلی 1868-69 ، پانچویں اسمبلی 1972-77 چھٹی اسمبلی 1077 ساتویں اسمبلی 1985-88 ، آٹھویں اسمبلی 1990-93 نویں اسمبلی1993-97، دسویں اسمبلی 1997-02،اور گیارہویں الیکشن 2002-07 جبکہ آخری انتخابات 2013 میں ہوئے۔ اگر ان انتخابات کے نتائج کو دیکھا جائے جس میں پی پی پی نے حصہ لیا۔ تو اس سے ایک بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ان تمام انتخابات میں پی پی پی ہر دور میں تمام صوبوں میں مقبول جماعت رہی۔ اگر 1970 کے انتخابات کے نتائج کو دیکھا جائے جب مشرقی پاکستان ہم سے الگ نہیں ہوا تھا ، اُ س وقت پی پی پی ایک نئی سیاسی پا رٹی کے طور پر اُبھری تھی ۔ اُ س وقت مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی160جبکہ پی پی پی نے 81 نشستیں جیتی تھیں۔ 1977 کے انتخابات میں پی پی پی نے پاکستان کے چار صوبوں سے قومی اسمبلی کی173 نشستوں میں 136جبکہ پی این اے نے 36 نشستیں جیتیں۔1985 ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پا رٹی نے حصہ نہیں لیاجسکے نتیجے میں ضیاء الحق کی چھتری تلے جونیجو حکومت قائم کی گئی۔1988 کے عام انتخابات میں پی پی پی نے 92 نشستیں جبکہ اس کے نزدیک ترین حریف اسلامی جمہوری اتحاد نے 55 نشستیں جیتیں۔ 1990 کے عام انتخابات میں قاضی حسین احمد اور نواز شریف مُشترکہ طو ر پر 105، جبکہ پی ڈی ایف نے 45 نشستیں جیتیں جس میں پنجاب سے 14، سندھ 24، خیبر پختون خوا سے 5اور بلو چستان سے 2 نشستیں جیتیں۔1993 کے عام انتخابات میں پی پی پی نے قومی اسمبلی کی 86 نشستیں جیتیں ، جس میں پنجاب سے 47، سندھ سے 33، خیبر پختونخوا 5 اور بلو چستان سے ایک نشست جیتی۔ جبکہ پی پی پی کے نزدیک ترین حریف میاں نواز شریف نے 73 نشستیں جیتیں جو ساری کی ساری پنجاب سے تھیں باقی کسی اور صوبے سے نہیں تھی۔2002کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے 118 نشستیں ، پی پی پی نے 80 جبکہ ایم ایم اے نے 59 نشستیں جیتیں۔ اس الیکشن میں پی پی پی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی غیر موجود گی میں 30 فی صد، جبکہ مسلم لیگ (ق) نے 26 فی صدووٹ حا صل کئے، گوکہ اس الیکشن کے نتیجے حکومت مسلم لیگ (ق) کی بنی مگر ووٹ پی پی پی نے زیادہ حاصل کئے تھے۔2007کیء عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پا رٹی نے124 ، پاکستان مسلم لیگ نواز نے 91 نشستیں جیتیں۔ 2013کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے ایک کروڑ 48لاکھ ، تحریک انصاف نے 80لاکھ کے قریب اور پاکستان پیپلز پا رٹی نے 68 لاکھ ووٹ حاصل کیے ۔ اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو پاکستان مسلم لیگ نواز کے بعد تحریک انصاف دوسری بڑی سیاسی طاقت کے طور پر اُبھری ۔پاکستان پیپلز پا رٹی کی سیاست کی بنیاد نواز دشمنی پر ہے اور جس وقت آصف علی زرداری نے رائے ونڈ چل کر انواع واقسام کے کھانے نوش کئے تو پی پی پی کے کارکن پا رٹی سے بد دل ہوگئے۔آصف زر داری نے پچھلے دنوں اپنے فر زند بلاول کو آزمایا مگر وہ کوئی خا ص تا ثر نہیں دے سکے۔ ابھی زر داری صاحب خودمیدان میںاُترے ہیں مگر کوئی خا ص پذیرائی نہیں ملی۔بہرحال انتخابات میں ایک سال ہے اور اس دوران سیاسی پا رٹیوں کے اتحاد بنتے رہیں گے۔ابھی پی پی پی کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ مگر پنجاب میں پی پی پی کا جو ووٹ بینک تھا وہ تحریک انصاف لے گیا۔ اب یہ آصف زر داری کی حکمت عملی ہوگی کہ وہ پی پی پی کے روٹھے ہوئے کارکنوں کو کیسے ساتھ ملائیںگے۔ اگر آئین کی شق ٦٢ اور ٦٣ حقیقی معنوں میں لاگو ہو گئی تو سب کا صفایا ہوگا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی پی پی کی سندھ میں موجودہ حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں