Daily Mashriq

طیب اردوان کا ترکی

طیب اردوان کا ترکی

عظیم ترکی کے نام کے ساتھ ہی مسلمانان عالم کی ایک طویل اور شاندار تاریخ آنکھوںکے سامنے فلم کی طرح چلنے لگتی ہے ۔ عثمانی خلافت اُن دنوں قائم ہوئی جہاں عباسی خلافت اور صلا ح الدین ایوبی کی فتوحات کی دھمک کمزور پڑنے لگی تھی ۔ چارصدیوں تک دنیا کے براعظموں پر اسلام کا پرچم لہرائے رکھنے کا سہرا ترکوں کے سر پر سجارہا ہے ۔ لیکن پھر اسی ترکی پر ایک وقت ایسا آیا کہ خود اُسے جان کے لالے پڑے ۔ بہرحال ، خلافت توگئی ۔ لیکن شکر ہے کہ ترکی ٹکڑوں میں تقسیم ہونے سے محفوظ رہا ۔ البتہ خلافت کے خاتمے پر بیسویں صدی کا جو سب سے بڑا المیہ ، سانحہ اور حادثہ رونما ہوا وہ یہ تھا کہ کمال اتاترک کی قیادت میں ترکی کی کایا پلٹ گئی ۔ وہ ترکی جو کبھی مسلمانان کے سیاہ و سفید کا مالک اور خیر و شر کا نگران ہوتا تھا ، صرف قومی ریاست میں تبدیل ہوکر سمٹ گیا ۔ کمال ازم کے تحت ترکی پر جدید و قدیم کی کشمکش میں کیا گزری یہ داستان طویل بھی ہے اور دلخراش بھی ، لیکن اس میں عرب ریاستوں کا بھی بڑا کردار ہے ، خلافت سے نکلنے کے بعد وہ عرب ریاستیں جہاں سے کبھی پوری دنیا کے انسانوں کو خاتم النبیینۖ کی خوبصورت تعلیمات کے طفیل اُخوت اور انسانیت کا درس ملا تھا ، سمٹ کر عرب قومیت کی تنگنائیوں میں محدودہو کر رہ گئے اور اسی دور میں بر صغیر کے مسلمانوں کا یہ بہت بڑا کارنامہ اور اُن کی قیادت کا کمال ہے کہ عرب اور ترک قومی ریاستوں کی تشکیل میں مصروف تھے اور یہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر انگریزوں اور ہندوئوں سے الگ وطن کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ترکی میں اسلام اور سیکولر ازم کی داستان اس لحاظ سے بہت تکلیف دہ ہے کہ کمال اتا ترک کے طویل دور اقتدار میں ترک عوام کو اسلام کے شعائر پر عمل پیرا ہونے میں بڑی دشوار یاں در پیش تھیں اور اس حوالے سے عوام ریاستی جبر کے شکار رہے ، اتا ترک اور اُس کے مشیر وں کا خیال تھا جو یقینا غلط تھا کہ نعوذباللہ اسلام کے سبب ترکی ترقی نہ کر سکا ۔ اُن کے سامنے یورپ کی مثال تھی کہ وہاں مذہب کو ریاست سے نکالا گیا تو ترقی ہوئی ۔لیکن ترکی کے عوام کے دلوں میں اسلام کے حوالے سے جو عقیدت و محبت تھی اور ترکی کا شاندار ماضی تھا ، وہ اُن کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے پایا ، اسی بناء پر وہاں کے علماء اور مذہبی دانشوروں نے نجی طور پر دینی سر گر میوں کی شمع جلائے رکھنے کے لئے اپنا خون جگر جلایا اور یوں اُس طویل تحریک سے رجب طیب اردوان اور عبداللہ گل جیسے لوگ برآمد ہوئے ۔ طیب اردوان اور آپ کے ساتھیوں کی کامیابی سے یورپ اور امریکہ کو یہ خدشات لاحق ہونے لگے کہ کہیں ترکی عالم اسلام کے اتحاد کا دوبارہ نقیب نہ بن جائے ۔ اسی وجہ سے ترکی کے خلاف ملک کے اندر سے اتنی گہری منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی کرائی گئی کہ قرآن کریم کے الفاظ میں ، اُن کی تدابیر (Designs) سے پہاڑ ہل جائیں ۔ ترکی آج تک اُس بغاوت کے مضر اثرات سے سنبھلا نہیں ہے ۔طیب اردوان نے پچھلے دنوں ریفرنڈم کے ذریعے جو کامیابی حاصل کی ہے ۔ اُس پر پوری دنیا میں تبصرے ہوئے ، امریکہ اور مغرب میں یہ بات شدومد سے کی گئی کہ اردوان کی شخصیت میں خلافت عثمانیہ کے جراثیم پائے جاتے ہیں ۔ اس لئے اُس نے جہوریت کے لبادے میں اپنے آپ کو آمر کی راہ پر ڈالنے کے انتظامات کر لئے ہیں ۔ حالانکہ ایسی بات کوئی نہیں ہے ۔ خود مغرب میں ریفرنڈم ، جمہوری نظام کی بنیاد ہے ۔اور ان ممالک میں بڑے بڑے فیصلے ریفرنڈم کے ذریعے ہوتے ہیں ۔

اگر ترکی کے عوام نے طیب اردوان کو 2029ء تک صدارتی عہدے پر فائز رہنے کا حق دے دیا ہے تو اس پر آمریت کے فتوے لگانا کہاں کا انصاف ہے ۔ ترکی کے موجودہ حالات میںکہ وہاں گولن تحریک کے بہت ساے سویلین اور حکومت کے شعبوں سے نکالے گئے افراد سے کئی خطرات لاحق ہیں ، ایک مستحکم حکومت کی ضرورت ہے تاکہ ناکام بغاوت کے اثرات کو حکمت اور دانائی کے ساتھ عوام کی طاقت زائل کردے ۔ اگرچہ اردوان کی شخصیت اور نظر یا ت و افکار اور طرز حکومت سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس بات میں دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ بڑے عرصے بعد عالم اسلام میں ایک ایسا سربراہ مملکت سامنے آیا ہے جس کے دل میں اسلام اور امت کا درد ہے ۔ جو پاکستان کا مخلص ترین دوست ہے ۔ اس لئے پچھلے دنوں بھارت کے دوروزہ دور ے پر انہوں نے اپنے ایک انٹر ویو میں کھل کر پیش کش کی کہ ترکی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لئے تیا ر ہے اور یہ دیرینہ مسئلہ حل ہونا چاہیئے اور اس مسئلے کے حل ہونے سے اس خطے میںامن ، سلامتی اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی ۔ بھارت جیسا ضدی اور ہٹ دھرم اور بر ھمنیت شیو سینا کے سائے میں پلنے والا ملک اس قسم کی باتوں پر کم ہی توجہ دیتا ہے لیکن اگر طیب اردوان کے ساتھ سعودی عرب ، ایران ، روس اور چین کی آوازیں شامل ہو جائیں تو بھارت مسئلہ کشمیر پر معقول حل کے لئے ضرور دبائو میں آئیگا ۔ ترکی ، اردوان کی قیادت میں اس وقت روس، چین ،پاکستان پر مشتمل بلاک بنانے میں بھی اہم کردار اد ا کر رہا ہے لیکن اگر اس کے ساتھ سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمیاں اور اختلافات بھی ختم کرانے کے لئے کردار ادا کرے تو اس کے ذریعے عالم اسلام کے یہ پانچ چھ چوٹی کے مسلمان ممالک امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی اور سلامتی و حفاظت کے لئے بھی ضروری اقدامات کر سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں