Daily Mashriq

کچھ کتابوں کے بارے میں

کچھ کتابوں کے بارے میں

وقتاً فوقتاً ادباء و شعرا اپنی کتابیں ہمیں اس لئے ارسال کرتے رہتے ہیں تاکہ ہم ان پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ان کتابوں کے محاسن و معائب واضح کردیں ۔ بد قسمتی سے پاکستان کے اندر کتاب دوستی کے حوالے سے زیادہ حسن ظن نہیں ہے ۔ بلکہ عمومی طور پر یہ تصورکیاجاتا ہے کہ پہلے تو کتاب چھا پنا ہی ایک دشوار معاملہ ہے اور اگر کوئی کتاب شائع بھی ہو جاتی ہے تو اسے زیادہ توجہ نہیں ملتی۔ وہ لکھاری بہت ہی خوش قسمت ہوتے ہیں جن کی کتابیں لوگ خرید کر پڑھ لیتے ہیں ، باقی کی صورتحال تو یہ ہے کہ وہ اگر اپنی کتابیں مفت بھی بانٹ دیتے ہیں تو بھی انہیں گھروں اور ڈرائنگ رومز کی الماریوں میں سجا ضرور دیا جاتا ہے تاہم ان کی ورق گردانی کے مواقع کم کم ہی کسی کو ملتے ہیں ۔بہر حال آج کی نشست میں چند ایک کتابوں کا تذکرہ کرنا مقصود ہے ۔ پہلی کتاب جو میرے زیر مطالعہ رہی وہ برادر مسلمان ملک ترکی کا سفر نامہ ہے ،جعفر حسن مبارک کی تحریر کردہ کتاب کا نام بہت خوبصورت ہے ، '' اپنے استنبول میں '' کتاب کے اس نام میں لفظ اپنانے ترکی جیسے ملک کے ساتھ اپنائیت کا جو احساس دلایا ہے ، اس کے پیچھے بر صغیر کے مسلمانوں کی اس محبت کے سوئے پھوٹے دکھائی دیتے ہیں جو انگریز وں کی غلامی کے دور میں خلافت تحریک کے ذریعے ترک مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ذریعے زمزمہ آرا تھے ،سفر نامے آج کے ادب کا ایک خاص صنف بن چکے ہیں ،اور انہیں اکثر ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے ۔ ان سے قاری دوطرح سے حظ اٹھا تا ہے یعنی ایک تو لکھنے والے کی انشاء پردازی اور دوسرا یہ کہ بغیر کسی ملک کا سفر اختیار کئے ہوئے اس ملک کے بارے میں معلومات کا ذخیرہ بلکہ خزانہ قاری کے لئے دلچسپی کا سامان مہیا کر دیتا ہے ۔'' اپنے استنبو ل میں '' پاکستان اور ترکی کے مابین صدیوں کے خوشگوار تعلقات پر خوبصورت پیرا یہ میں لکھی ہوئی ایک ایسی دستاویز ہے۔ یقینا یہ کتاب سفر ناموں میں ایک اہم اور خوبصورت اضافہ ہے ۔ جسے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا ۔ زیر نظر دوسری کتاب پشتو میں فکا ہیہ انداز میں لکھے ہوئے مضامین کا مجموعہ ہے ۔

گڈ و کے اوخ ، تحریر سید فرید اللہ شاہ حساس کی ہے ، فرید اللہ شاہ حساس نسبتاً ایک تازہ کار لکھاری ہے جو اپنے فکا ہیہ انداز میں لکھی ہوئی تحریروں کے ذریعے پشتو ادب میں تیزی سے جگہ بنا رہا ہے ، اس نوجوان لکھاری سے میری ملاقات چند برس پہلے ریڈ یو پاکستان میں میر ی ملازمت کے دوران ہوئی تھی جب اسے ڈراموں میں کام کرنے کے شوق نے میرے سامنے لا بٹھا یا تھا ، وہ اس وقت ادب و فن کے میدان میں بقول مرزا غالب تازہ واردان بساط ہوا ئے دل ، کامرقع لگتا تھا اور ادبی میدان میں اپنے مقام کے تعین کیلئے جدوجہد کر رہا تھا ۔ گڈو کے اوخ دراصل پشتو زبان کے محاورے گڈو کے خر پر طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں لکھے گئے مضامین کا ایسا مجموعہ ہے جو پشتو ادب میں ایک اچھا اضافہ ہے ، خوبصورت کاٹ دار جملوں کے ذریعے حساس نے معاشرے کی کجیوں کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ، چونکہ حساس نہ صرف لکھاری بلکہ ریڈیواور ٹی وی آرٹسٹ بھی ہے اور ان دونوں شعبوں کیلئے بھی وہ مسلسل لکھ رہا ہے اس لئے ایک دن وہ ادب وفن کے شعبوں میں اپنی اہمیت کا بھر پور احساس دلانے میں ضرورکامیاب ہو جائے گا ۔تیسری کتاب اس لحاظ سے منفرد حیثیت کی حامل ہے کہ اس موضوع پر آج تک کسی نے قلم اٹھانے کی کوئی کوشش نہیں کی ، کتاب کا نام ہے ''آج کی تازہ خبر '' اور اسے تحریر کیا ہے محمد ایو ب اختر نے ۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ اس جدوجہد کی داستان ہے جو پاکستان میں اخبار فروش برادری نے اپنے حقوق کیلئے کی ، محمد ایوب اختر کوئی باضا بطہ لکھاری نہیں ہے ، تاہم نصف صدی سے بھی زیادہ اخباری دنیا میں بطور اخبار فروش شامل ہونے کے بعد اس نے نہ صرف پورے پاکستان کی اخبار فروش برادری کو ایک پلٹ فارم پر اکٹھا کر کے ان کو با عزت روز گار کے حصول اور مالکان اخبارات سے زیادہ سے زیادہ مراعات کے لئے جدوجہد کی ، بلکہ ترقی کر تے کرتے مختلف اخبارات میں سر کولیشن منیجر کے عہدوں پر کام کیا ،کتاب آپ بیتی ، جگ بیتی اور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کی مشترکہ داستان کے طور پر سامنے آئی ہے ، نہایت سادہ اور سلیس انداز میں لکھی ہوئی کتاب ایک لحاظ سے صحافتی تاریخ بن گئی ہے ۔ چوتھی کتاب منصف ہاشمی کی نثری نظموں کا مجموعہ '' مٹھی میں ستارے '' ہے ، انہوں نے اگرچہ ان نثری نظموں کو (نغمیں ) کا نام دیا ہے ، بد قسمتی سے میں نظم کو نثر کا تڑکہ لگانے کا سخت مخالف ہوں اور میرے نزدیک نثری نظم کسی بھی صورت میں نظم کے زمرے میں نہیں آتی ، تاہم یہ میرا ذاتی خیال ہے ، مٹھی میں ستارے میں بعض ٹکڑ ے تو بہت خوبصورت ہیں تاہم جیسا کہ عرض کر چکا ہوں مجھے یہ نثرانے زیادہ متاثر نہیں کرتے بلکہ نا مانوس الفاظ کے جال بن کر ان نثری نظموں کے ذریعے منصف ہاشمی نے قاری کو ایک عجیب وسوسے میں مبتلا کر دیا ہے ۔

دست عجم پہ پگھلتے پتھر وں کی داستان لکھ کر

درویش پیالے میں سرخ سبز نیلے راز چھپا رہے ہیں

تم راز کی شکل میں غزال خوشبو کا دلفریب لہجہ بن رہی ہو !

متعلقہ خبریں