Daily Mashriq

پرائیویٹ سکولزریگولیٹری اتھارٹی بل اور احتجاج

حکومتیں عوامی فلاح کے لیے ہوتی ہیں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومتیں ہی قانون سازی کرکے مسائل سے نجات کا ذریعہ بنتی ہیں ۔آج کے دور میں عام آدمی کی بنیادی ضرورتوں میں روزگار، علاج ، امن وغیرہ کے علاوہ بھی کچھ حوالے موجود ہیں ۔ ان میں ایک تعلیم بھی ہے ۔ تعلیم کے حوالے سے ہمارے یہاں بھی شعور موجود ہے کہ تعلیم بچوں کوضرور دلوانی ہے اور جووالدین بچوں کو تعلیم نہیںدلواسکتے ان کی سب سے بڑی مجبوری ان کی مالی حیثیت ہوتی ہے ۔اگرچہ حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر بہت کچھ کیا جاتا ہے جس سے عوام کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کیا جاتا ہے ۔ ہمارے یہاں تعلیم کے شعبہ میں پرائمری سے لے کر یونیورسٹی سطح تک سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر کام کررہے ہیں ۔ بعض سرکاری شعبوں کی حالت اچھی نہیں تو انہی میں بعض کی شاندار ہے ۔

اسی طرح پرائیویٹ سیکٹر میں ایسی ہی صورتحال ہے کہ بعض ایسے معیاری کہ اس میں داخلہ لینا اعزاز کی بات ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ تعلیم کے نام پر ہی دھبہ ۔دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر بالخصوص جوتعلیم کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرتا ہے اپنا آؤٹ پُٹ بھی دیتا ہے لیکن بہت کم آپ دیکھیں گے کہ کس ملک میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ اور مانیٹر کرنے کے لیے حکومتی سطح پر قانون سازی نہ کی گئی ہو۔ہمارے یہاں تعلیم کے شعبے میں پرائیویٹ سیکٹرکاسکولز میں زیادہ حجم ہے ۔پرائیویٹ سکولز کے پھیلنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن پر فی الحال بحث نہیں کرتے بحث ان سکولوںکے ان اقدامات کی ہے کہ جن سے والدین شدید تکلیف میں مبتلا ہیں ۔میں اس موضوع پر بہت لکھ چکا ہوں ،شاید اس کی وجہ بچوں کی ماہانہ فیسیں بھی ہوں کہ جن کا خوف ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو محسوس ہوتاہے اور ان فیسوں کو جمع کروانے کے بعد جیب کا وزن کم ہوجاتا ہے ۔اے این پی کی گزشتہ صوبائی حکومت نے بھی پرائیویٹ سکو لز کو ریگولیٹ اور مانیٹر کرنے کے لیے ایک بل پر کام کیا تھا لیکن اس بل کو اسمبلی میں پیش ہونے کی نوبت نہیں آئی تھی ۔پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی حکومت نے اس مسئلے کو ایک بار اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔ اور''پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ''کے قیام پر کام شروع کیا ہے ۔ صوبے میں ٹریفک ، چینی سرمایہ کاری اور دیگر حوالوں سے صوبائی کابینہ کے فیصلوں پر مبنی ایک میڈیا بریفنگ میں یہ بات سامنے آئی ہے ۔اس بریفنگ میں خود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا موجود ہونا یقینا ان موضو عات پر حکومت کی سنجیدگی کا عکاس ہے ۔ اس بریفنگ کے دیگر موضو عات پر تو اس ایک کالم میں بات نہیں ہوسکتی البتہ حکومت کی جانب سے مشتاق غنی نے اس اتھارٹی کے حوالے سے جو کہا وہ کچھ یوں ہے کہ ''صوبائی وزیرابتدائی و ثانوی تعلیم ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ہوں گے ریگولیٹری اتھارٹی کا کام سکولوں کو رجسٹرڈ اور ریگولیٹ کرنا، ان کے نصاب کی نگرانی کرنا، تعلیم کی فراہمی کا طریقہ کار، ہر سکول کی کیٹگری کے مطابق فیس ڈھانچے کا تعین کرنا، تعلیم کی فراہمی کا شیڈول، ہم نصابی سرگرمیاں اور سکولوں میں موسم گرما، سرما اور بہار کی چھٹیوں کو گورنمنٹ کے سکولوں کے مطابق یقینی بنانے کے علاوہ اتھارٹی کی یہ بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس سلسلے میں پالیسی ترتیب دے اور پبلک سیکٹر کو تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرے اور تعلیمی اداروں کی ر ہنمائی اور قیام کیلئے اصول اور طریقہ کار وضع کرے اتھارٹی ہر سکول کی کیٹیگری کے مطابق اساتذہ کی تعلیم اور تربیت سمیت معاوضوں کا تعین بھی کرے گی اتھارٹی وہ شرائط بھی بنائے گی جس کے تحت کوئی سکول کھولا اور چلایا جا سکے اتھارٹی سکولوں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال بھی کرے گی۔ اتھارٹی کا یہ بھی کام ہوگا کہ وہ تعلیم کی فراہمی کے معیار اور سہولیات کے مطابق سکولوں کی درجہ بندی کرے اور اس کے مطابق فیس ڈھانچے کا تعین بھی کرے۔اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ سکولوں کی فیس میں مناسب اضافے کی درخواست کو قبول یا رد کرے''اس بریفنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بل عوام کے ان مسائل کومدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے کہ جن مسائل کا پرائیویٹ سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کو سامنا ہے ۔میرے اپنے بچے تعلیم کے مختلف گریڈزمیں ہیں لیکن میرا دعویٰ ہے کہ سکول کی تعلیم کے اخراجات کالج اوریونیورسٹی کی تعلیم سے کئی گنا زیادہ ہیں ۔ اصل میں جب بھی حکومتیں ایک بات کو ذہن میں رکھ لیں کہ ہم نے عوام کے مسائل کو حل کرنا ہے تو مسائل خود بخود حل ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔اس ضمن میں کل کی خبر ہے کہ اس اتھارٹی بل کے خلاف پرائیویٹ سکول والے احتجاج کریں گے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب میں والد کی حیثیت سے ہر سال سکول کوپروموشن فیس دینے ، اور ہر سال فیسوں میں من مانے اضافے ، امتحان کی سٹیشنری کے نام پر ہزاروں روپے دینے ایک صارف کی حیثیت سے احتجا ج نہیں کرتا تو سکول والے کیوں کرتے ہیں ۔اللہ کرے کہ یہ اتھارٹی بل پہلے کی طرح پھر کہیںمصلحتوں کی دھول میں کہیں چھپ نہ جائے اور بہت جلد یہ بل ایک قانون کی شکل میںدکھائی دے ۔ ایک مشورہ بھی دینا چاہتا ہوں کہ جب پرائیویٹ سکول والے ایکا کرسکتے ہیں ہم والدین بھی ''متاثرین پرائیویٹ سکول '' کے نام پر ایک انجمن بنا کر سڑکوں پر احتجاج کرنے کے لیے تیار ہیں۔

متعلقہ خبریں