Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک حرم شریف میں داخل ہوا تو اس کے ہمراہ وزراء و امراء اور حفاظتی دستے کے علاوہ بری فوج کے لوگ بھی تھے ۔ اس نے دریافت کیا کہ مکہ کے سب سے بڑے عالم کون ہیں ؟۔لوگوں نے بتایا : حضرت عطا بن ابی رباح ہیں ۔ سلیمان بن عبدالملک نے حکم دیا کہ مجھے عطا بن ابی ربا ح دکھلائو سلیمان بن عبدالملک کو بتلایا گیا کہ وہ سامنے بیٹھے ہوئے صاحب ، حضرت عطا بن ابی رباح ہیں ۔ خلیفہ نے دیکھا کہ وہ ایک معمولی آدمی لگ رہے ہیں ، جن کا بے حس و حرکت چھوٹا سا سر ، آنکھیں نیلی اور بال گھنگریالے ہیں ، دینار ودرہم کے مالک بھی نہیں معلوم ہوتے ۔

خلیفہ نے ان سے پوچھا : ''کیا آپ ہی عطا ء بن ابی رباح ہیں ، جن کے چرچے دنیا بھر میں ہیں ؟ '' ۔

حضرت عطابن ابی رباح : '' لوگ یہ کہتے ہیں ''۔

خلیفہ سلیمان : '' کس طرح آپ نے یہ علم حاصل کیا ؟ '' حضرت عطاء بن ابی رباح : '' میں نے اس علم کے حصول میں مسجد حرام میں 30برس تک اپنا بستر رکھ چھوڑا اور اس مدت میں مسجد حرام ہی میںمقیم رہا ''۔ پھر خلیفہ سلیمان نے یہ اعلان کردیا کہ '' اے حاجیو ! مناسک حج کا فتویٰ حضرت عطا بن ابی رباح کے علاوہ کوئی اور نہیں دے گا ''۔ یہ تھے ہمارے اسلاف ، جو علم دین ، تقویٰ و پرہیز گاری اور گمنامی کی زندگی اختیار کرنے کے باوجود بھی خلفا، سلاطین کے لیے قابل رشک بنے رہے !!

ابن قتیبہ بیان کرتے ہیں کہ حاتم طائی اور اوس بن حارثہ کے درمیان بڑی پکی اور خوشگوار دوستی تھی ۔ د و دوستوں کے مابین جس لطف و کرم اور اخوت اور بھائی چارے کا تصور کیا جا سکتا ہے ، وہ ان دونوں دوستوں میں بد رجہ اتم موجود تھا ۔

نعمان نامی ایک شخص نے اپنے ہم نشینوں سے کہا: میں ضرور بالضرور حاتم طائی اور اوس بن حارثہ کی اس دوستی میں رخنہ ڈال دوں گا ، چنانچہ پہلے وہ اوس کی خدمت میں حاضر ہوا اور یوں گویا ہوا : حاتم طائی تو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ خود کو آپ سے افضل سمجھ بیٹھا ہے ! او س بن حارثہ نے جواب دیا : اگر میں حاتم کی فضیلت تسلیم نہ کرو ں تو میری رات لعنت و ملامت میں بسر ہو ۔

اس نے سچ کہا ۔ بلا شبہ وہ مجھ سے افضل ہے ، اگر میں ، میرا بچہ اور میری بیوی حاتم پر قربان ہو جائیں تویہ ہماری خوش قسمتی ہوگی ۔

پھر نعمان وہاں سے حاتم طائی کے پاس آیا اور اس سے بھی وہی کہا جو اوس بن حارثہ سے کہا تھا ۔ حاتم طائی گویا ہوا : اوس بن حارثہ اپنی بات میں سو فیصد سچا ہے ، بھلا میں اوس کے درجے کو کب پہنچ سکتا ہوں ؟ اس کے 10لڑکوں میں سب سے ادنیٰ حیثیت والا بھی مجھ سے افضل ہے ۔ نعمان نے جب دونوں کی باتیں سن لیں تو پکار اٹھا : '' میں نے تم دونوں سے بہترکسی کو نہیں پایا ، عربوں کے فخر کے لیے تم دونوں کافی ہو ''۔ (تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں