Daily Mashriq


انتخابات کا بروقت انعقاد یقینی بنانے کی ضرورت

انتخابات کا بروقت انعقاد یقینی بنانے کی ضرورت

پاکستان مسلم لیگ (ن)کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے خبردار کیا ہے کہ ان کی پارٹی انتخابات میں معمولی سی تاخیر بھی برداشت نہیں کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ انتخابات میں تاخیر کی باتیں گردش کررہی ہیں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے سربراہ عمران خان سمیت دیگر سیاستدان بھی انتخابات کے انعقاد میں ایک سے ڈیرھ ماہ کی تاخیر کی باتیں کررہے ہیں لیکن واضح کردوں کہ ہم انتخابات میں ایک منٹ کی تاخیر برداشت نہیں کریںگے۔مسلم لیگ (ن)کے قائد نے کہا کہ ان کا مقابلہ عمران خان یا پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے نہیں بلکہ کسی اور سے ہے، ایک وقت تھا جب ہمارا مقابلہ روایتی سیاسی حریفوں سے ہوتا تھا، ہم ایسے سیاسی محاذ میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں۔سینیٹ انتخابات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نومنتخب سینیٹ چیئرمین کا کوئی وجود نہیں، ان کو کس نے منتخب کیا، کون سی طاقتیں پس پردہ تھیں؟وطن عزیز میں ایک عرصے تک ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے قیام کی باز گشت آتی رہی جبکہ مختصر عرصے کے لئے جوڈیشل مارشل لاء کی باز گشت سنائی دی مگر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملے میں لگی لپٹی رکھے بغیر واضح پیغام دے کر عدالتی مارشل لاء کے امکان کو نہ صرف رد کیا بلکہ مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے عزم کا بھی واضح اظہار کیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے ایسے امکانات کو بھی شرح صدر کے ساتھ رد کیا جس سے انتخابات کے انعقاد میں ممکنہ رخنہ یا رخنہ ڈالنے کا تاثر ممکن تھا۔ اس کے بعد یہ معاملہ تقریباً طے شدہ نظر آرہا تھا کہ انتخابات کاانعقاد مقررہ وقت پر ہوگا۔ اس ضمن میں وزیر اعظم کی سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ وہ مقررہ مدت اقتدار میں سے ایک دن کی قربانی دے کرایک ماہ مزید انتخابات کو دستور کے مطابق موخر کرنے کے حق میں بھی نہ تھے۔ حکومت انتخابات کا مقررہ وقت پر ہر قیمت پر انعقاد چاہتی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے۔ حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کے مطالبے پر مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد کے لئے جو ضروری معاملات تھے وہ بھی طے کردئیے گئے تھے ایسے میں ممکنہ طور پر حلقہ بندیوں کے معاملے کو انتخابات کے بروقت انعقاد میں تاخیر ی حربہ کے طور پر اختیار کئے جانے کاعندیہ دیا جا رہا ہے۔ جہاں تک حکومتی ذمہ داریوں کا تعلق ہے موجودہ حکومت کو اس بناء پر مطعون کرنے کی گنجائش نہیں اور دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کے پاس بھی حیلے بہانے اورجواز کا امکان کم ہی ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے اس قسم کا کوئی عندیہ دیا ہے جس سے انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقاد بارے شکوک و شبہات پیدا ہوں ایسے میں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی جانب سے انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کاعندیہ معنی خیز ہے لیکن چونکہ ان کے بعض محیر العقول بیانات کے تانے بانے بالآخر حقیقت سے جڑ جانے کا ریکارڈ ہے لہٰذا اس کو امکان کی حد تک لیا جاسکتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کو اس قسم کی سن گن دینے والے وہ کونسے ذرائع ہیں جن کو الیکشن کمیشن پر ہی بھاری نہ گردانا جائے بلکہ چیف جسٹس کے واضح اعلان پر بھی فوقیت کاحامل سمجھا جائے۔ بظاہر ایسا ممکن نہیں لیکن اگر بباطن کی مساعی کے باعث اگر انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو جاتی ہے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف مقدمات کے فیصلے کے ممکنہ تاخیر سے اس کا تعلق ثابت ہو جاتا ہے اور مقدمات کا فیصلہ پہلے اور انتخابات کا انعقاد بعد میں ہو جاتا ہے تو پھر نواز شریف کا وہ سارا بیانیہ درست ثابت ہوگا جس کا اظہار وہ مختلف طریقوں سے کرتے آئے ہیں۔ اب اس کے لئے وہ خلائی مخلوق کی اصطلاح استعمال کرنے لگے ہیں جبکہ بلوچستان حکومت کی تبدیلی اور سینیٹ کے انتخابات جیسے اچانک رونما ہونے والے معجزات سے ویسے بھی عوام کے کان کھڑے ہو چکے ہیں اور ان کو اشاروں کنایوں کی زبان سمجھنے میں اب مشکل پیش نہیں آتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے جو یقین دہانی کرائی ہے اور جو ضمانت دی ہے یہ ان کے عہدے کے وقار کا آخری امتحان ہوگا کہ وہ انتخابات کے بروقت انعقاد کی یقین دہانی پر عملدرآمد کروائیں اور کسی ایسی کوشش کو کامیاب نہ ہونے میں اپنا کردار ادا کریں جو انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کا باعث بنے۔ ایک ممکنہ صورتحال کے طور پر اگر جائزہ لیا جائے تو انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کا سب سے زیادہ نقصان خود تحریک انصاف کو ہوگا جبکہ عوام کی ہمدردیاں اس جماعت کے لئے ہوں گی جو اس التواء کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی۔ انتخابات کے التواء کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی متوقع توڑ پھوڑ ملکی سیاسی فضاء کے لئے من حیث المجموع تباہ کن ثابت ہوگی جس سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ جہا ں تک سیاست کے امکانات اور وفاداریاں تبدیل کرنے کا سوال ہے باوجود اس کے کہ یہ سیاست میں کردار کی کمزوری کا مظاہرہ ہے اس کو روکا نہیں جاسکتا۔ وفا داریاں تبدیل کی جائیں یا کروائی جائیں سیاسی افق پر یہ دامن پر داغ لگانے کا حامل فیصلہ ہوگا۔ تیز تر میڈیا اور شعور و آگہی کے ان بے ہنگام مواقع کے ہوتے ہوئے اب کردار اور اقدار کی سیاست ہی بہتر فیصلہ بنتا جارہا ہے جس کا سیاسی جغادریوں کو ادراک ہو چکا ہے۔ مگر مرغان بادنما کو سمجھنے میں شاید وقت لگے۔ انتخابات کا بروقت انعقاد آئینی و قومی ذمہ داری اور ملکی وحدت و اتحاد کا ضامن ہے۔ جتنا وقت آئین میں درج ہے اسی مدت کے دوران انتخابات کے انعقاد پر سیاسی جماعتوں کو کلی طور پر متفق ہونا چاہئے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت اس کے برعکس کردار کا مظاہرہ کرتی نظر آئے تو عوام کو اپنے فیصلے میں اس کو مسترد کرنے کا حق استعمال کرنا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وطن عزیز میں بروقت انتخابات کاانعقاد اور منتقلی اقتدار مقررہ وقت کے اندر دستور کے مطابق انجام پا جائے گا اور افواہیں امکانات میں تبدیل نہیں ہوگی۔ تمام آئینی اداروں کو اپنے دائرہ اختیارمیں رہ کر اس اہم قومی فریضے کو ممکن بنانے کی ذمہ داری میں بھرپور معاونت کرنے کی قومی ذمہ داری پوری کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرنا چاہئے۔ اسی سے ملک میں استحکام آئے گا اور جمہوریت مضبوط ہوگی۔

متعلقہ خبریں