Daily Mashriq


نواز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ کی قدرمشترک

نواز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ کی قدرمشترک

میں سمجھتی تھی کہ آج کل پاکستان اور امریکہ میں ایک معمولی قدر مشترک ہے ۔ دونوں ہی تبدیلی کے دور سے گزررہے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں امریکہ کو اس وقت ایک ایسے رہنما ایک ایسے صدر کا سامنا ہے جس نے ان کی تاریخ کے اکثر رہنمائوں کے مقابلے میں امریکہ کو ایک عجیب صورتحال سے دوچار کردیا ہے ۔ امریکہ کے صدور ، بہت منجھے ہوئے سیاست دان ہوا کرتے تھے جو مثبت رویوں کے مظہر تصور کیئے جاتے تھے ۔ ان کی پالیسیاں باقی دنیا کے حوالے سے کیسی بھی ہو تیں وہ انہیں ہمیشہ ہی اثبات کا لبادہ اوڑھا تے اور انتہائی قابلیت کا مظاہرہ کرتے ۔ امریکہ نے ہمیشہ دنیا کے اکثر ملکوں کو اس غلط فہمی کا شکار رکھا کہ امریکہ ان کا دوست ہے اور یہ ممالک امریکہ کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ اب معاملات ایسے نہیں رہے ۔ امریکہ میں جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدارسنبھالا ہے حالات میں عجب منفی رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں سے لوگوں کو ہٹلر کے خیالات کی بو آتی ہے ۔ موازنہ کرنے والے کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ میں ہٹلر کی شخصیت کے کئی رنگ ملتے ہیں ۔ ہٹلر نے بھی ایک منفی خیال کو بنیاد بنا کر جرمنی میں اقتدار سنبھالا تھا ، ٹرمپ کی کیفیت اس سے مختلف نہیں ۔ ہٹلر کے جو جذبات یہودیوں کے حوالے سے تھے اور وہ جس طور انہیں مورد الزام ٹھہراتاتھا ، ٹرمپ کے ایسے ہی جذبات مسلمانوں کے حوالے سے ہیں ۔ جس طور ہٹلر مذہبی تعصب کو دوسری قومیتوں کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کرتا تھا ٹرمپ کے حالا ت اس سے قطعی مختلف نہیں ۔ امریکہ کے زوال کا آغاز ہوچکا ہے ۔ امریکیوں نے اپنے لیے جو راستہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت منتخب کیا ہے اس کا اختتام امریکہ کی تنزلی ہے جس کی جانب ٹرمپ امریکہ کوبگٹٹ دوڑائے جارہے ہیں ۔ جس نفرت اور تعصب کی آگ کو اس نے ہوا دی ہے وہ اس کو خود ہی جلا کر بھسم کر دے گی ۔ امریکہ کے اس داخلی زوال کو دیکھ کر دنیا کے دوسرے کئی ممالک ، اپنی اپنی طاقت مجتمع کررہے ہیں ۔ ان میں نہ صرف اب ایک نئی توانائی دیکھنے کو ملتی ہے بلکہ وہ امریکہ کے خلاف نئے بلاک بنانے کی تیاریوں میں بھی مصروف ہیں ، روس ، ترکی اور چین کے درمیان ۔۔۔ہم آہنگی ایسے ہی کسی بلاک کی نشاندہی بھی کرتی ہے ۔ ابھی وقت پوری طرح نہیں بدلا لیکن ہم اپنی نگاہوں کے سامنے تبدیلی ہوتے دیکھ رہے ہیں ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے بچے وہ وقت دیکھیں جب امریکہ اس دنیا میں سپر پاور نہ ہو ۔ پاکستان اور امریکہ میں جو قدر مشترک مجھے دکھائی دیتی ہے وہ اسی تبدیلی کے حوالے سے ہے ۔ پاکستان بھی تبدیلی کے ایک دور سے گزر رہا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان میں تبدیلی مثبت سمت میں دکھائی دیتی ہے ۔ بد عنوانی کی سیاست لگتا ہے کہ دم توڑنے والی ہے اور احتساب کا ایک نیا دور شروع ہورہا ہے ۔ امید میں ایک کمال بات یہ ہے کہ یہ انسان کو حقائق سے ذرا دور ، ایک نیا راستہ دکھاتی ہے ۔کئی بار یہ راستہ موجود بھی نہیں ہوتا ۔ کئی بار امید کی ڈور سے بندھے لوگ یہ راستہ خود ہی تراش لیتے ہیں اور پھر ایک نئے مستقبل کی جانب روا ں دواں ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں ایک نئی امید تو جنم لے رہی ہے کون جانے ہم ایک روشن مستقبل کی جانب واقعی عازم سفر ہوجائیں ۔ جہاں تک نواز شریف کا سوال ہے توان میں اور ڈونلڈ ٹرمپ میں کئی قدر مشترک دکھائی دیتی ہیں ۔ جس طور ڈونلڈ ٹرمپ میں اپنے ملک کی عزت ووقار کے حوالے سے کوئی نرم گوشہ دکھائی نہیںدیتا اسی طرح کی کیفیت میاں نواز شریف کی بھی لگتی ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مانند میاں نواز شریف بھی صرف خود نمائی اور مفادات کے حوالے سے سنجید ہ دکھائی دیتے ہیں ۔ انہیں کبھی عدالت اور فوج پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی خیال نہیں آیا کہ انہیں بد عنوانی کے الزام میں عہدے سے فارغ کیا گیا اور یہ بھی کہ وہ اس ملک کے تین بار وزیراعظم رہے ہیں ، انہیں اس ملک کے اداروں کی عزت کا احساس ہونا چاہیئے ۔ وہ ایک پرانے سیاست دان بھی ہیں ، انکے لہجے میں کم از کم اپنے سیاسی دور اور اپنی گزشتہ وزارت عظمیٰ کا احساس ہی باقی ہونا چاہیئے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح انہیںنہ تو کسی ادارے کے وقار کا خیال ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں اپنے سیاسی قد کا ادراک ستاتا ہے ۔ وہ دونوں ہی بنا کسی جھجھک کے ایسی باتیں کرتے ہیں کہ سُننے والے ایک بار تو دھک سے رہ جاتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں دونوں ہی لیڈران کی جانب سے ایسی بات ہوئی ہے کہ سمجھ نہیں آتا وہ بات سن کر رویا جائے یا ہنسا جائے یا پھر افسوس سے منہ پھیر لیا جائے ۔

ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکہ کو ایک خلائی فوج بنانی چاہیئے کیونکہ مستقبل کی جنگیں اب خلا میں ہی ہونگی ۔ ادھر میاں نواز شریف مسلسل انتخابات کے حوالے سے خلائی مخلوق کا ذکر کر رہے ہیں ، نہ جانے ڈونلڈ ٹرمپ اور میاں نواز شریف نے اپنے نوٹس ملا رکھے ہیں یا پھر ان کی سوچ ایک ہی جیسی ہے ایک ہی سمت میںکام کرتی ہے ۔ ہو سکتا ہے یہ مشابہت اس لیے بھی ہو کہ دونوں ہی کامیاب کاروباری شخصیات ہیں ، اسی لیے ان کی ذہنی رو ملتی ہو ۔ کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔ ہاں یہ ضرور دکھائی دیتا ہے کہ دونوں ہی اپنے اپنے ملک کی بین الاقوامی سطح پر کوئی عزت اور وقار باقی نہیں رہنے دینا چاہتے اور اس میں دونوں ہی کسی حد تک کامیاب ہیں ۔ دونوں اپنے اپنے ملک کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں اور دونوں کو ہی اس بات کا قطعی احساس نہیں ۔ انکے ارد گرد ، انکی مدح سرائی میں مشغول لوگ انہیں کبھی یہ احساس نہ ہونے دینگے اور کبھی یہ خود سمجھ نہ پائینگے ۔ پاکستان اور امریکہ دوست نہیں لیکن اپنی اپنی جگہ ایسے لیڈران کو بھگت رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ امریکہ زوال کی جانب سفر کر رہا ہے جبکہ پاکستان میں ہم بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔

متعلقہ خبریں