Daily Mashriq


پاک بھارت امن' ایک تصوراتی جائزہ و خاکہ

پاک بھارت امن' ایک تصوراتی جائزہ و خاکہ

قیام پاکستان سے پہلے ایک عشرہ قبل 1936-37ء کے انتخابات کے نتیجے میں کانگریس کی ڈیڑھ سالہ حکومت نے ہندوستان کے سارے با شعور مسلمانوں کو اپنے دینی و ملی تشخص کو درپیش خطرات کے حوالے سے شدید پریشانی میں مبتلا کرکے تحریک پاکستان کو مہمیز لگانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ورنہ علامہ محمد اقبال کے خطبات آلہ آباد سے لے کر 1940ء قرار داد پاکستان کے عشرہ میں مسلمانان ہند' ہندوستان کے اندر اپنے دینی و معاشی مسائل کے حل اور تحفظ و سلامتی کے لئے اندرونی یا صوبائی و علاقائی خود مختاری کے مطالبہ کے علمبردار تھے۔ یہی وجہ تھی کہ قائد اعظم نے کیبنٹ مشن پلان کو قبول کیا جس میں صوبائی خود مختاری کے ساتھ متحدہ ہندوستان کی بات کی گئی تھی۔ لیکن یہ تو مشیت ایزدی تھی کہ نہرو نے اسے مسترد کردیا۔ یوں قیام پاکستان کے لئے راہ ہموار ہوئی۔ یہاں دو باتوں کا ذکر بہت ضروری ہے۔ ایک یہ کہ بعض لوگ اسی کیبنٹ مشن پلان کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر نہرو بھی اسے قبول کرلیتا تو پھر پاکستان کہاں ہوتا۔ اس بات کی آڑ میں یہ جسارت کرتے ہیں کہ پاکستان تو گویا انگریز کی سازش کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ دوسری بات یہ کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے شاید اپنی کتاب ''انڈیا ونز فریڈم'' میں اپنے سیاسی کیرئیر کا سب سے افسوسناک واقعہ یہ قرار دیا ہے کہ کیبنٹ مشن کے ہندوستان وارد ہونے سے ذرا قبل انہوں نے کانگریس کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر میں اس وقت کانگریس کا صدر ہوتا تو میں کیبنٹ مشن پلان کی تجاویز منظور کرلیتا اور یوں پاکستان کا قیام نا ممکنات میں شامل ہو جاتا اور ہندوستان تقسیم ہونے سے بچ جاتا۔'' دوسری طرف یہ بات کہ قائد اعظم نے اتنی جدوجہد کے بعد اس پلان کو کیوں قبول کیا؟ تو اس کا جواب قائد اعظم نے خود دیا ہے کہ میں نے اس سٹریٹجی کے طور پر اس پلان کو قبول کیا کہ اس میں یہ بات تسلیم کی گئی تھی کہ متحدہ ہندوستان میں دس برس بعد اگر حالات و واقعات کے نتیجے میں کوئی یونٹ الگ ہونا چاہتا ہے تو اسے یہ حق حاصل ہوگا اور قبول نہ کرنے کی صورت میں دوسری جنگ میں لگے گہرے زخموں کے نتیجے میں عین ممکن تھا کہ برطانوی حکومت جلد بازی میں جان چھڑاتے ہوئے ہندوستان کی بڑی سیاسی پارٹی کی حیثیت سے کانگریس کو پورے ہندوستان کا اقتدار سونپ کر چلتی بنتی''۔یہ تمہیدی جملے اس لئے لکھنے پڑے کہ ستر برس گزرنے کے باوجود پاک بھارت تعلقات تین جنگیں لڑنے کے بعد بھی معمول پر کیوں نہیں آتے۔ جبکہ قائد اعظم سے قیام پاکستان کے بعد جب پاک بھارت کے مستقبل میں تعلقات بارے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیاکہ میری خواہش ہے کہ ان دو پڑوسی ملکوں کے تعلقات امریکہ اور کینیڈا کی طرح دوستانہ رہیں لیکن ''اے بسا آرزو کہ خاک شد''۔ستر برس جامع مذاکرات کی رٹ اور میزیں سجانے اور میٹنگیں و ملاقاتیں کرکرکے عوام امن کی راہ تکتے تکتے تھک گئے اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ بھارت آخر اس خطے میں چاہتا کیا ہے؟ پاکستان کا مشرقی حصہ الگ کرکے بھی اس کا دل ٹھنڈا نہیں ہوا۔ بھارت باقی ماندہ پاکستان کو بھی زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اور اس بات کے پیچھے بھارت کے پالیسی ساز برہمنوں کی وہ منفی سوچ ہے جو ان کی مذہبی کتب میں موجود ہے۔ تقسیم ہندوستان کو وہ ماتا کی تقسیم سمجھتے ہیں اور اس کو نا قابل تلافی گناہ قرار دیتے ہیں۔لیکن ان ساری باتوںکے باوجود اس وقت پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سب سے بڑی وجہ نزاع مقبوضہ کشمیر ہے۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہ ہوگا سوال پیدا نہیں ہوتا کہ ان دو پڑوسی ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوسکیں۔ اور اس مسئلے کا آسان ترین' منطقی اور بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے حل یہ ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دیا جائے۔پچھلے دنوں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف نے بہت خوش آئند بات کی ہے کہ پاک بھارت کے تمام مسائل کا حل جامع مذاکرات میں ہے۔ دوسری طرف بھارتی چیف نے بھی پہلی دفعہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر بندوق کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہونے کا متقاضی ہے۔ایک ہی وقت میں تاریخی طور پر دو متقابل و متحارب افواج کے چیفس کی ایک ہی سوچ پاک بھارت امن کے لئے دیر پا حل کے در وا کرسکتی ہے۔ اور شواہد بتاتے ہیں کہ مقابلتاً اس میں بھارت کا نفع زیادہ ہوگا کیونکہ بھارت تجارت میں اس خطے کی بہت بڑی مارکیٹ کا حامل ہے۔ پھر اگر بھارت سی پیک میں بھی شامل ہوگیا پھر تو بس بھلے بھلے! لیکن اس کے لئے بھارت کو یہ بات یاد رکھنا ہوگی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بارڈرز بہت مضبوط ہیں۔ کیونکہ واہگہ بارڈر کی لکیرمیں لاکھوں شہداء کا خون شامل ہے۔ لہٰذا کشمیر کا مسئلہ حل کرکے پاکستان اور اس کی سرحدوں کو احترام کے ساتھ تسلیم کرکے باقی بھارت عیش کرے۔ تجارت کرے' اپنی فلمیں اور ثقافت بیچے اور سی پیک کے ذریعے سنٹرل ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ تجارت کرے کہ ہندو بنیا ان چیزوں کا بہت شوقین ہے اور ''شوق دا کوئی مول نئی وندا''۔ لہٰذا بھارت کو ہمت کرنا ہوگی اور مہا بھارت کی تعلیمات کو اب جدید تقاضوں کے پیش نظر مندر سے باہر نہ آنے دیں تو دونوں ملک بہتر اور سکھی رہیں گے۔

متعلقہ خبریں