Daily Mashriq


انتخابی نعرے

انتخابی نعرے

اگر ہم غور کرلیں تو پاکستان کی تا ریخ کے ہر دور میں ہر سیاسی پا رٹی کے انتخابات کے دوران کچھ نعرے ہو تے ہیں ۔ اور وہ ان نعروں کی بنیاد پر ووٹروں کو اپنی طر ف راغب کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔ اس میں بعض نعرے اور سلوگن تو امر ہو جاتے ہیں اور بعض سیاسی نعرے عوام میں خاطر خوا مقبولیت حا صل نہیں کرتے ۔ پاکستانی عام انتخابات کے دوران جو نعرہ عوام میں سب سے زیادہ مقبول رہا وہ 71 کے انتخا بات میں روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ تھا۔ یہ نعرہ ملک کی نئی سیاسی پا رٹی پا کستان پیپلز پا رٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے لگا یا اور اسی کی بدولت پاکستان پیپلز پا رٹی جو نئے لوگوں کی جماعت تھی 1971کے انتخابات میںعوامی لیگ کے بعد دوسری بڑی سیا سی جماعت ٹھہری حالانکہ 1971کے عام انتخابات میںجماعت اسلامی، جمعیت العلمائے اسلام ،جمعیت العلمائے پاکستان، عوامی نیشنل پا رٹی، پاکستان مسلم لیگ (کنونشن) ، پاکستان مسلم لیگ (کونسل)، مسلم لیگ قیوم گروپ اور اسکے علاوہ دیگر اور سیاسی پا رٹیاں جوپُرانی اور تجربہ کار سیاسی پا رٹیاں تھیں ۔ مگر 1971کے عام انتخابات میں یہ تمام سیاسی پا رٹیاں پاکستان پیپلز پا رٹی کے آگے ڈھیر ہو گئیں۔ کیونکہ پا رٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو نے جو نعرہ لگا یا تھا وہ عوام میں اتنا مقبول ہو گیا کہ امر ہو گیا۔ بھٹو بھی مسلم اُمہ کے اس صدی کے دور اندیش اور زیرک سیاست دان تھے جنہوں نے پا رٹی میں شخصیات، لوٹوں اور سیاست میں پہلے سے موجود لیڈروں کاسہارا نہیں لیا بلکہ عوام اور پا رٹی کی قیادت پر بھروسہ کیا۔ ان کی پا رٹی میں جتنے بھی صوبائی اور قومی اسمبلی کے نامزد اُمیدوار تھے وہ سیاست کے میدان میں نو وارد تھے اور عوام پہلے انکو نہیں جانتے تھے۔ مگر ان کاروٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ عوامی اُمنگوں، خواہشات ، نفسیات اور احساسات کے اتنے قریب تھا کہ امر ہو گیا اور ذوالفقار علی بھٹو قائد عوام بن گئے۔ اسکے بعد نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور دیگر جماعتوں نے اپنے انتخابی نعرے ترتیب دیئے مگر اُس میں کوئی بھی نعرہ عوام میں وہ مقبولیت حا صل نہ کر سکا جو ذولفقار علی بھٹو کے رو ٹی ، کپڑا اور مکان نے حا صل کیا تھا۔اب جبکہ 2018کے عام انتخابات کی آمد آمد ہے ما ضی کی طر ح ہر سیاسی پا رٹی اس کو شش میں ہے کہ کوئی ایسا منشور اور انتخابی نعرہ عوام کے سامنے رکھا جائے تاکہ عوام کے دل کی دھڑ کن بن سکے۔ چند دن پہلے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مینار پاکستان کے سائے میں ایک بڑے اجتماع کا اہتمام کیا تھا اور اس جلسے میں پی ٹی آئی نے آئندہ عام انتخابات کے لئے گیارہ نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے جماعت اسلامی نے اپنی انفرادی حیثیت میں بھی اپنے انتخابی ایجنڈے خوشحال پاکستان ۔۔ اسلامی پاکستان کا اعلان کیا تھا ۔ اے این پی تو اپنی سابقہ کا ر کر دگی کو عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے مگرجمعیت العلمائے اسلام اور جماعت اسلامی ، ایم ایم اے کی شکل میں عوام کے سامنے کسی نعرے کے لئے سوچ رہی ہے۔ ایم کیو ایم( لندن)، ایم کیو ایم ِ( پاک)، پاکستان مسلم لیگ (ن) پی پی پی تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔علاوہ ازیں کئی سیاسی پا ر ٹیوں کا کوئی خا ص ایجنڈا ، منشور اور انتخابی نعرہ سامنے نہیں آیا ۔ چونکہ وفاق میں آنے والی حکومت اسی پارٹی کی بنتی ہے جس میں پنجاب کے ایم این اے ،ایم پی اے اور پنجاب کی اشرافیہ شامل ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور اس وقت پنجاب کے زیادہ تر الیکٹیبل اور اشرافیہ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں تو اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ آئندہ الیکشن میں وفاق میں پی ٹی آئی کی پوزیشن مضبوط لگتی ہے۔ ما ضی میں یہی لوگ جب چو دھری برادران کے ساتھ ہوگئے تھے تو تاج چو دھری برادران کے سر سجا تھا۔ جب نواز شریف کے پاس گئے تو تاج نواز شریف کے سر سج گیا تھا اور اب جب یہی الیکٹیبل پی ٹی آئی کی طرف آرہے ہیں تو وفاق میں پی ٹی آئی جبکہ خیبر پختون خوا میں اے این پی ، ایم ایم اے اور شیر پائو کی کی پوزیشن مستحکم دکھائی دیتی ہے ۔ سندھ میں پاک سر زمین پا رٹی ، پی پی پی ، ایم کیو ایم پاکستان زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہیں۔ بلو چستان میں ما ضی کی طرح کسی سیاسی پا رٹی کی اکثریت نہیں ہوگی ۔ جبکہ پنجاب کی حکومت کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔ مگریہاں پر بھی تحریک انصاف کے چانسز زیادہ ہیں۔ یہ سب کچھ تب ممکن ہوگا کہ پانامہ کے 436 میں جو 435 بڑے بڑے مگر مچھ رہ گئے ہیں اگر انکا احتساب نہ ہوا۔

اگر انکا احتساب ہوگا تو پھر انتخابات کے نتائج کچھ اور ہونگے ، کیونکہ پانامہ کے باقی 435 لوگوں کے خلاف کیس عدالت میںہے ۔اگر ہم عمران خان کے گیارہ نکات پر غور کرلیں تو مندرجہ ان میں کچھ ایسے ہیں جیسے کرپشن کی روک تھا م کے سلسلے میں اقدامات، سرکاری خالی آسامیوں پر کو میرٹ اور قابلیت کے مطابق تعیناتی، پولیس ، تعلیمی نظام اور سیا حت میں کسی حد تک اقدامات دکھائی دیتے ہیں۔ مگر جہاں تک خیبر پختون خوا میں صحت، زراعت ، ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن کا تعلق ہے تو اس میں خاطر خوا ترقی نہیں ہوئی۔ عمران خان بین الاقوامی مقبولیت سے فا ئدہ اُٹھا کر خیبر پختون خوا کے جوانوں کو باہر بھیج سکتے تھے مگر اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں