Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے دور میں ایک پادری نے عیسائیت کی تبلیغ کا ایک عجیب انداز اختیار کیا کہ دلی کے ایک چوک میں کھڑے ہو کر لوگوں کے ہجوم میں یہ اعلان کیا کہ اے مسلمانوں ! تم یہ کہتے ہو کہ ہمارے مذہب کی کتاب قرآن مجید سچی کتاب ہے ۔ جبکہ میرا یہ دعویٰ ہے کہ سچی کتاب تو انجیل ہے ، جو ہمارے نبی پر نازل ہوئی ۔ آئو آج اس چوک پر بھرے ہجوم میں آگ جلاتے ہیں ، تم بھی اپنی کتاب اس میں ڈالو اور میں بھی اپنی کتاب اس میں ڈالتا ہوں ، جو کتاب سچی ہوگی ، وہ محفوظ رہے گی اور جو کتاب ناحق ہوگی، وہ آگ میں جل جائے گی ۔ مسلمان پادری کا یہ چیلنج سن کر بہت پریشان ہوئے اوروہ دوڑے دوڑے آئے، حضرت شاہ عبدالعزیز کی خدمت میں سارا ماجرا کہہ کر سنایا ، آپ ان لوگوں کے ساتھ اس ہجوم میں تشریف لائے ۔

اولیائے کرام کی فراست کا کیا کہنا ، آپ نے فرمایا : میں اپنی اس کتاب ہدایت سے محبت کرتاہوں ، اس وجہ سے اسے آگ میں ڈالنے پررضا مند نہیں ہوں ۔ لیکن آئو ! ہم یوں کرلیتے ہیں کہ آگ کے اس الائو میں تم بھی اپنی کتاب سینے سے لگا کر کود جائو اور میں بھی اپنی کتاب اپنے سینے سے چمٹا کر آگ میں کود جاتا ہوں ، جو شخص آگ میں زندہ سلامت رہا ، وہ سچا اور اس کی کتاب بھی سچی ۔ یہ سنا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور پریشان و لاجواب ہو گیا اور پھر شرمندہ ہو کر کہنے لگا : شاہ صاحب ! آپ سچے ہیں اور آپ کا قرآن بھی سچا ہے ۔ میں نے اس کتاب پر کچھ مسالہ وغیرہ لگایاتھا ، تاکہ یہ آگ میں جل نہ سکے اور یوں میں عیسائیت کا پرچار کر سکوں ، لیکن آپ نے تو میری ساری تدابیر خاک میں ملادیں ۔ اور آج سے یہ اعلان بھی کرتاہوں کہ میں اس سچے دین اور اس سچی کتاب پرایمان لاتا ہوں ۔ آپ میرے لئے دعا فرما دیجئے کہ حق تعالیٰ مجھے دین اسلام کا سچا پیرو کار بنائے ۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز جنہیں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے ، انتہائی خوف خدا رکھنے والے انسان تھے ۔ حکومت اور سلطنت دلوں کو سخت اور مواخذ سے بے خوف بنادیتی ہے ، لیکن حضرت عمر بن عبدلعزیز کے دل کو اس نیخشیت الہٰی سے لبریز کردیا تھا ۔ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے ان پر عجب کیفیت طاری ہوجاتی تھی ، خصوصاً ایسی آیات جن میں قیامت کے مناظر اور اخروی محاسبہ کا ذکر ہوتا ، پڑھ کر بے حال ہوجاتے ، ایک شب یہ آیت پڑھی : ترجمہ :''جس دن لوگ بکھرے ہوئے پر وانوں کی مثل ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کے مثل ہوں گے ''۔ پڑھتے ہی زور سے چیخے'' واسئو صباحاہُ''اور اچھل کر اس طرح ساکن ہوگئے کہ معلوم ہوتا تھا ختم ہوگئے ہیں، پھر ہوش میں آگئے ۔ (تذکرة الحفاظ : 105/1، سیرت عمر بن عبدلعزیز : 154)

نوٹ : گزشتہ روز کے مشرقیات میں تین مقامات پر صحابہ کرام کے نام کے ساتھ سہواً صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ چھپ گیا ہے اس سہو پر معذرت خواہ ہیں ۔

متعلقہ خبریں