Daily Mashriq


بجلی بقایاجات ادائیگی کا معاملہ

بجلی بقایاجات ادائیگی کا معاملہ

صوبائی حکومت نے بجلی خالص منافع اور بقایاجات کی مد میں مرکزی حکومت سے واجب الادا 36ارب روپے کی ادائیگی کیلئے رابطہ کر کے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے بقایاجات وفاقی بجٹ پیش کئے جانے سے پہلے ادا کر دے، جو 27مئی کو پیش کئے جانے کا امکان ہے، امر واقعہ یہ ہے کہ جاری مالی سال کے دوران صوبائی حکومت نے بجلی منافع اور بقایاجات کی مد میں مرکز سے 65ارب روپے کی ادائیگی اپنی بجٹ دستاویزات میں ظاہر کی تھی جس سے تاحال صوبے کو صرف 20ارب ہی ادا کئے گئے ہیں، اس طرح مرکز کے ذمے مزید 45ارب روپے واجب الادا ہیں تاہم بجلی کی پیداوار کم ہونے کے باعث سالانہ منافع کی مد میں مرکز اور صوبے کے مابین ثالثی کے بعد 9ارب روپے کم ہوچکے ہیں اور بقایاجات کی رقم 45ارب کی بجائے صرف 36ارب روپے رہ گئی ہے، صوبائی حکومت نے مذکورہ رقم کے حصول کیلئے مرکزی حکومت سے رابطہ کر کے بقایاجات کی مد میں مزید 36ارب روپے آئندہ مالی سال کے بجٹ سے پہلے پہلے ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے، صوبائی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اور صوبائی حکومت کی خواہش ہے کہ مرکز فوری طور پر صوبے کے بقایاجات ادا کرکے نہ صرف اسے موجودہ مالی سال کے جاری اخراجات سے نمٹنے میں آسانی فراہم کرے بلکہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں بھی سہولت دے، صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق جاری سال کی طرح آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی فاضل ہی پیش کرنا چاہتی ہے، یاد رہے کہ جاری مالی سال کیلئے صوبہ خیبر پختونخوا کی جانب سے 648ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا تھا جس میں آمدنی کا تخمینہ 648ارب اور اخراجات کا تخمینہ 618ارب روپے لگایا گیا تھا اسی طرح صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی 20سے25ارب روپے فاضل ہی ہو۔ تاہم اس حوالے سے مرکز کا تعاون لازم ہے جبکہ ماضی کے تلخ تجربات اس کے برعکس صورتحال کی نشاندہی کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور اگر مرکز نے صوبے کے بقایاجات کی 36ارب کی رقم آنے والے مالی سال کے بجٹ سے پہلے ادا نہ کئے تو صوبے کی جانب سے فاضل بجٹ پیش کئے جانے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ مرکز اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مابین بجلی کے خالص منافع اور بقایاجات کے معاملات کوئی نئے نہیں ہیں بلکہ یہ سلسلہ بجلی کے خالص منافع کے حصول کے حوالے سے برسوں پہلے اس ضمن میں قائم کئے جانے والے اے جی این قاضی کمیشن کی ثالثی اور ایک فارمولے پر اتفاق رائے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر صوبے کو 6ارب روپے سالانہ ادائیگی کا فیصلہ کرنے کیساتھ ہر سال ڈالر کی مناسبت سے اضافہ بھی تسلیم کیا گیا تھا مگر واپڈا حکام نے صوبے کا منافع کئی سال تک 6ارب پر منجمد کر کے صوبہ خیبر پختونخوا کا حق مارنے کی پالیسی اختیار کی جبکہ خود بجلی ٹیرف پر مختلف قسم کے ٹیکسز اور دیگر مدات میں رقم بڑھانے کا عمل اختیار کئے رکھا۔ صوبائی حکومت یہ معاملہ عدالت میں لے گئی جہاں صوبے کے حق میں فیصلہ کیا گیا اور اس فیصلے کو اس وقت صدرمملکت کے ذریعے تحفظ بھی فراہم کر دیا گیا مگر واپڈا حکام ٹس سے مس نہیں ہوئے یوں نہ صرف توہین عدالت کے مرتکب ہوتے رہے بلکہ صدر مملکت کی دی ہوئی ضمانت کا بھی مذاق اُڑاتے رہے، پہلی بار ایم ایم اے کے دور میں اس حوالے سے سخت موقف اختیار کیا گیا جس پر سالانہ منافع 6ارب سے 8ارب کرنے کا عندیہ دیدیا گیا مگر عین اس موقع پر جب اس وقت کی صوبائی حکومت نے صوبائی بجٹ میں بجلی منافع کی مد میں8ارب روپے ظاہر کئے، اسی پرانی شرح یعنی 6ارب روپے سے ایک پائی زیادہ ادا نہ کر کے صوبائی حکومت کو مالی مشکلات سے دوچار کیا گیا، اُلٹا صوبائی حکومت کو اپوزیشن کی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا، بعد میں ایک کل جماعتی جرگہ کے ذریعے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھایا گیا تو اگلے برس بقایاجات کی مد میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق کچھ رقم ادا کر دی گئی، آنے والے برسوں میں اے این پی حکومت نے بھی یہ معاملہ بڑھانے کی کوششیں جاری رکھیں، اب جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے وزیراعظم عمران خان نے صوبے کے وزیراعلیٰ محمود خان کیساتھ ذاتی طور پر پن بجلی کے بقایاجات کی ادائیگی کا بار بار وعدہ کیا مگر کچھ حلقے اس معاملے کو ایک بار پھر التواء میں ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کی مساعی جاری ہے اور اس کی کوشش ہے کہ وفاقی بجٹ پیش ہونے سے پہلے ہی صوبے کے بقایاجات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ نہ صرف جاری مالی سال کے اخراجات سے نمٹنے میں آسانی ہو بلکہ آنے والے مالی سال کے بجٹ میں رکھے جانے والے اہداف بھی حاصل کئے جا سکیں، امید ہے وزیراعظم عمران خان اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے احکامات صادر کر کے صوبے کو مشکل حالات سے نکالنے میں مدد کریں گے۔

متعلقہ خبریں