Daily Mashriq

پشاور طورخم ریلوے ٹریک کی بحالی

پشاور طورخم ریلوے ٹریک کی بحالی

خیبر پختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے مابین اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں پشاور سے طورخم تک موجود ریلوے ٹریک کی مرمت اور بحالی کے حوالے سے بات چیت میں اتفاق رائے خوش آئند امر ہے کہ اس سے نہ صرف یہ تاریخی ریلوے ٹریک ایک بار پھر فعال ہو جائے گا بلکہ اس سے کئی مقاصد کی تکمیل بھی ہوسکے گی۔ انگریزوں کے دور میں بچھائی جانے والی اس ریلوے لائن کا مقصد تو انگریز حکومت کی اپنی تزویراتی حکمت عملی تھی جس کا مقصد طورخم بارڈر تک انگریز فوج کیلئے جنگی ساز وسامان اور گولہ بارود کی بروقت اور نسبتاً محفوظ ترسیل تھا‘ تاہم آزادی کے بعد اسے نہ صرف تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا اور افغانستان کیلئے تجارت کی غرض سے مختلف اشیاء کی ترسیل اسی ذریعے سے ممکن بنائی جاتی رہی‘ خصوصاً مغربی ممالک سے درآمد شدہ سامان جو کراچی کی بندرگاہ تک آتا تھا‘ کراچی سے پشاور اور ازاں بعد وہاں کلیئرنس کے بعد طورخم تک لے جائی جاتیں‘ اسی طرح بھارت سے بھی اٹاری‘ لاہور مغلپورہ اور پشاور کینٹ سے طورخم تک لائی لے جائی جاتی رہیں تاہم 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد جب سرحدیں کھولی گئیں تو یہ تجارت پشاور تک ہی ریلوے کے ذریعے جاری رکھی گئی‘ البتہ لنڈی کوتل تک ریلوے سروس ہر اتوار کو تفریحی مقاصد کیلئے جاری رکھی گئی۔ کچھ عرصہ پہلے خیبر سفاری کے نام سے یہ ٹریک سیاحوں کیلئے بحال کیا گیا مگر افغان جنگ کی وجہ سے پھر معطل کر دیاگیا‘ اب ایک عرصے سے زیراستعمال نہ رہنے کی وجہ سے یہ ٹریک ٹوٹ پھوٹ اور بربادی کا شکار ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان کی وژن کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ پر صوبائی حکومت جو توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اس میں پشاور طورخم ریلوے ٹریک کی بحالی بطور خاص شامل ہے جس سے نہ صرف صوبے میں سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ اگر یہ سروس بحال کردی جاتی ہے تو اس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور اس تاریخی ٹریک پر سفر کرنے والوں کیلئے ٹورآپریٹرز‘ ٹورگائیڈز اور دیگر متعلقہ شعبوں میں روزگار میں اضافہ ہوگا جبکہ ریلوے کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اگرچہ ریلوے ٹریک کی بحالی کیلئے فنڈز کی ضرورت پڑے گی تاہم اچھے مستقبل کے حوالے سے اس پر توجہ دینا لازمی ہے۔ اُمید ہے یہ منصوبہ صوبے میں سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یورپی پارلیمنٹرین کا دھمکی آمیز خط

مذہبی اقلیتوں کو آزادی نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے 51یورپی اراکین پارلیمان نے وزیراعظم عمران خان کو ایک دھمکی آمیز خط تحریر کیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اگر مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بند نہ کی گئی تو پاکستان کیساتھ تجارتی معاہدے ختم کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا جہاں مسلم اکثریت اور مذہبی اقلیتوں کیساتھ مساوی سلوک کیا جائے گا تاہم پچھلی سات دہائیوں کے دوران مرحلہ وار ایک ایسا نظام قائم ہوا جس میں اقلیتوں کیساتھ سماجی‘ سیاسی اور معاشی سطح پر امتیازی سلوک کو تقویت دی گئی اور نتیجتاً انتہاپسند گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوئی‘ خط میں مذہبی اقلیتوں کیساتھ امتیازی سلوک اور ان کے حقوق کی پامالی کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ جہاں تک مذہبی اقلیتوں کیساتھ امتیازی سلوک کے الزامات کا تعلق ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم جس شد ومد سے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے الزامات عائد کئے ہیں اس کے پیچھے وہ خاص ذہن اور منفی پروپیگنڈہ کام کرتا دکھائی دیتا ہے جو دنیا بھر میں جہاں بھی انتہاپسندانہ واقعات رونما ہوتے ہیں ایک خاص لابی اس کے ڈانڈے اولاً مسلمانوں اور پھر بطور خاص پاکستان کیساتھ جوڑنے کی مذموم کوششیں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں صیہونی اور بھارتی لابی کا گٹھ جوڑ کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے‘ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اکادکا واقعات کو بڑھ چڑھ کر بیان کرنے کا بیانیہ کامیابی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے حالانکہ بھارت کے اندر اقلیتوں جن میں مسلمان سرفہرست ہیں پھر ہندوؤں کی نچلی جاتی دلتوں اور شودروں کیساتھ روا رکھے جانے والے مظالم‘ بھارتی عیسائیوں اور ان کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی‘ سکھ اقلیت کیساتھ ہوئے مظالم کسی سے پوشیدہ نہیں جبکہ اب مغربی ممالک میں مسلمانوں کیخلاف تشدد کی جو لہر چل پڑی ہے اس پر تو یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ نے کبھی توجہ ہی نہیں دی اور صرف پاکستان ہی ایک سافٹ ٹارگٹ دکھائی دے رہا ہے حالانکہ پاکستان میں اقلیتوں پر جب بھی افتاد پڑی پورا ملک ان کیساتھ یکجہتی کیلئے کھڑا ہوگیا جبکہ مٹھی بھر گمراہ افراد کی کارستانی کو قائداعظم کے آدرشوں کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ حکومت ہر موقع پر اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدام اُٹھاتی ہے جسے سراہا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں