Daily Mashriq


رمضان المبارک کا استقبال کیجئے

رمضان المبارک کا استقبال کیجئے

رمضان المبارک اپنے جلو میں بہت سی برکات سمیٹے تشریف لاچکا ہے۔ یہ برکتوں، دعاؤں، رحمتوں اور عبادات کا مہینہ ہے اس میں آتش دوزخ سے پناہ مانگنے کی ہدایت کی جاتی ہے، یہ برکتوں والا مہینہ تو ہر سال آتا ہے لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ نہیں ہوتے وہ اپنے حصے کی زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مہینے کی برکات سے مستفید ہوتے ہیں، گرمی کا موسم بھی آہستہ آہستہ اپنے جوبن کی طرف بڑھ رہا ہے فی الحال تو بارش کے آثار بھی نظر نہیں آتے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پشاور میں ذخیرہ اندوز بہت ہیں اس لئے یہاں بارش نہیں ہوتی، سودی کاروبار دھڑلے سے ہو رہا ہو تو بارش کب ہوتی ہے، لوگوں کی نیتیں ٹھیک نہیں ہیں، جعلی ادویات کا کاروبار پورے عروج پر ہے، لوگ مر رہے ہیں، انسان کو انسان کی پرواہ نہیں ہے۔ تاجر طبقہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے، ایسے میں دعائیں کب قبول ہوتی ہیں۔ رشوت کا بازار گرم ہے جائز کام کیلئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے لوگوں کے دل پتھر ہو چکے ہیں۔ دودھ میں ملاوٹ، مصالحہ جات میں ملاوٹ، چائے کی پتی میں ملاوٹ، مرچوں میں ملاوٹ، قیمے میں ملاوٹ، بازار میں طرح طرح کے مضر صحت مشروبات سستے داموں بک رہے ہیں۔ گھی میں ملاوٹ، معمولی درزی ایک سوٹ کی سلائی کے نوسو روپے وصول کر رہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اب تو انہوں نے اپنی یونین بھی بنا ڈالی ہے تاکہ کوئی غلطی سے انہیں اس دہشتگردی سے روکنے کی کوشش کرے تو یہ بازار بند کرکے ہڑتال کردیں۔ قصاب من مانی قیمتیں وصول کررہے ہیں، سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں کمزور اور بیمار جانوروں کی جان پر بنی ہوتی ہے انہیں دھڑا دھڑ حلال کیا جاتا ہے، بازار میں موجود کھانے پینے کی ہر چیز بکتی ہے تو پھر ہمارے مہربان دکاندار انسان کی اس کمزوری سے فائدہ کیوں نہ اٹھائیں۔ جب ایسی صورتحال ہو تو پھر بارش کہاں برستی ہے، رب کریم مہربان ہے خواتین شدید گرمی کے موسم میں گھروں کی چھتوں پر پانی سے بھر ے ہوئے کٹورے رکھ دیتی ہیں تاکہ پرندے اپنی پیاس بجھا سکیں، ہم نے ایک کوے کو دیکھا بیچارا گرمی سے پریشان تھا، اس نے پانی کے کٹورے میں اپنی چونچ رکھی اور غٹاغٹ پانی پینے لگا۔ ہمارے دل کو سکون محسوس ہوا اور دل میں یہ خیال بھی آیا کہ پرندوں اور جانوروں کی وجہ سے بھی اللہ پاک مہربانی فرماتا ہے اور بارشیں برستی ہیں۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں روزہ داروں کا دل چاہتا ہے کہ پھل بھی کھائیں لیکن رمضان کے شروع ہوتے ہی پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ معقول آمدنی والے حضرات تو ہوتے ہی معقول تعداد میں ہیں لیکن کم آمدنی والوں کی اکثریت فروٹ کی گاڑیوں کے سامنے سے سر جھکائے گزر جاتی ہے۔ ہر انسان کو اپنی عزت عزیز ہوتی ہے کون پھلوں کے نرخ پوچھ کر عزت سادات کو خطرے میں ڈالے۔ مرغیوں کی قیمتیں بھی رمضان میں بڑھ جاتی ہیں، رمضان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جو جی چاہے کھاتے جائیے بندہ بیماری سے بچا رہتا ہے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ یہ بھی رمضان کی برکت ہے اور ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ سحری سے افطار تک کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے بندہ بچ جاتا ہے۔ چند دن پہلے ہمیں ایک مہربان کہنے لگے کہ ہم آپ کو سحری کے حوالے سے چند مفید ٹوٹکے بتاتے ہیں، ہم ایسے موقعوں پر کب چوکتے ہیں، ہم ہمہ تن گوش ہوکر ان کی بات سننے لگے، ان کا کہنا تھا کہ اگر سحری کے بعد آپ کا پالا ناخوشگوار قسم کے ڈکاروں سے پڑتا ہو یا آپ سینے میں جلن محسوس کرتے ہوں، معدے میں گرانی محسوس ہوتی ہو یا آپ محسوس کرتے ہوں کہ آپ کا ہاضمہ آپ کیساتھ اٹکھیلیاں کر رہا ہے اور طبیعت دشمناں ناساز ہے تو ہمارے پاس ان تمام مسائل کا ایک زبردست حل موجود ہے۔ آپ کو کسی ڈاکٹر یا حکیم صاحب کے پاس بھی نہیں جانا پڑے گا اگر آپ ہمارے مشوروں پر کان دھریں تو بہت بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ جب ان کی تقریر ہماری قوت برداشت سے باہر ہونے لگی تو ہم نے ان کی منت کرتے ہوئے کہا بندہ خدا ہم آپ کی ہر بات سمجھ رہے ہیں اور انشاء اللہ مستقبل قریب میں آپ کی باتوں پر عمل بھی کریں گے لیکن اس وقت وہ ٹوٹکا بتا دیں جو ہمیں درج بالا بیماریوں اور ڈاکٹر حکیموں سے محفوظ رکھنے میں ممد ومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔ تو انہوں نے ہماری طرف بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا! بھائی وہ تو بڑا سادا سا ٹوٹکا ہے۔ اللہ کے واسطے کم کھایا کرو بات تو انہوں نے انتہائی سادگی سے ہمارے گوش گزار کردی لیکن انہیں کیا معلوم کہ کم کھانا تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، ہم لوگ تو رمضان المبارک میں کھانے پینے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیتے ہیں، مغرب کی اذان کیساتھ ہی ہاتھ اور منہ کی جنگ شروع ہو جاتی ہے، ہمیں جو ملتا ہے اسے اپنے معدے کی زینت بناتے چلے جاتے ہیں، طرح طرح کی چٹنیاں، کچالو پیڑا، مٹھائیاں، بیکری کا سامان کوئی حد نہیں ہے ہماری بسیار خوری کی، سب سے بڑا بہانہ ہمارے پاس یہ ہوتا ہے کہ جناب سارا دن روزہ تھا! ارے بندہ خدا روزہ تو تھا لیکن ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے دن بھر کے خالی معدے پر جب ایک دم سے دباؤ پڑتا ہے تو بیمار ہونا ایک فطری بات ہوتی ہے۔ بسیار خوری کا ایک روحانی نقصان بھی ہے، روزے کی برکات سے ہم محروم ہو جاتے ہیں، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں