Daily Mashriq

کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں

کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں

عوام بے چارے تو پہلے ہی سابقہ کئی ادوار کے تلخ تجربات سے گزر کر ’’لکڑ ہضم پتھر ہضم‘‘ بن چکے ہیں۔ اب فیصل واوڈا نے یہ جو کہا ہے کہ ملکی بہتری کیلئے عوام پیٹ پر پتھر باندھنے کو تیار ہیں تو پوٹاپر رئیس زادے ایسے ہی مشورے دیتے ہوئے اپنے ذہن میں فرانس کی اس ’’معصوم‘‘ شہزادی ہی کا کردار نبھاتے ہیں جس نے عوام کے احتجاج پر یہ تاریخی جملہ کہہ کر کمال مشورہ دیا تھا کہ اگر انہیں روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک پیسٹری کیوں نہیں کھاتے؟ مشورہ شہزادی کا بھی برا نہیں تھا مگر مشورہ دینے کا وقت وہ وقت نہیں تھا اس لئے بے چاری کو اس گلوٹین کا شکار بننا پڑا تھا جو فرانس میں احتجاج کرنے والوں یا دوسرے جرائم میں ملوث افراد کا مقدر ہوتا تھا‘ یہ تو شکر ہے کہ اب دنیا میں گلوٹین کا وجود ختم ہوچکا ہے اور اہل مغرب نے سزائے موت ختم کرکے وہاں کے جرائم پیشہ افراد کو بھی سلامتی کی ضمانت دیدی ہے۔ بات کہیں اور جا رہی ہے اس لئے واپس آتے ہیں اور ایک مشہور شعر سے استفادہ کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے کہ

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

فیصل واوڈا نے گزشتہ روز قوم کی قوت برداشت کے حوالے سے جن خیالات عالیہ کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ قوم دو سو روپے کا پٹرول بھی برداشت کرلے گی‘ ساتھ ہی ملکی بہتری کیلئے پیٹ پر پتھر باندھنے کے جن عزائم (صرف عوام کیلئے) کا ذکر کیا تھا تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ آج سے کئی برس پہلے ایک رہنماء نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے تو اس کے بعد قوم کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ دراصل ان کی بات محاورے کے لحاظ سے بالکل درست تھی کیونکہ سیاسی زبان میں عوام کو کالانعام یعنی چوپائے کہا اور سمجھا جاتا ہے اور چوپایوں کی اکثریت گھاس ہی کھاتی ہے البتہ جو چوپائے گھاس نہیں گوشت وغیرہ کھاتے ہیں وہ ’’کالانعام‘‘ کے اندر بھی ’’رائل فیملیز‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے اس اصول کا ان پر اطلاق نہیں ہوتا چونکہ ہمارے ہاں بھی ’’پوٹاپر‘‘ لوگ گھاس کھانے کا شغف نہیں کرتے بلکہ یہ کام عوام کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے اور اسی کیفیت کو میر تقی میر نے یوں واضح کیا ہے کہ

امیرزادوں سے دلی کے مت ملا کر میر

کہ ہم غریب ہوئے ہیں انہی کی دولت سے

تو صرف ایک روز پہلے غلنئی کے مقام پر مہمند ڈیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے جو کہا تھا کہ عوام200 کا پٹرول بھی برداشت کرلے گی تو گویا یہ اسی پیغام کے حوالے سے پیشگوئی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرول کی قیمت میں 9روپے لیٹر اضافہ کرتے ہوئے اس کی قیمت 108روپے کر دی ہے اسی طرح ڈیزل4روپے 89پیسے، مٹی کا تیل7روپے46 پیسے اور لائٹ ڈیزل6روپے 40پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی بھی اجازت دیدی گئی گویا بات وہی ابتدائے عشق والی ہے، اور یہ ابتداء بھی انتہا تک نہیں پہنچی دبے پاؤں چل رہی ہے کہ ادھر نیپرا نے بجلی کے ٹیرف میں بھی 30سے40فیصد نرخ بڑھانے کا حکم دے دیا ہے اور وہ جو پہلے صرف سردی کے دنوں میں بجلی کے بلوں میں اضافہ ہوتا تھا اور سردیوں میں گیس کے نرخ بڑھ جاتے تھے تو اب ایسی کوئی تخصیص بھی نہیں رہی، یعنی اس لطیفے کی مانند کہ ’’شیرجنگل کا بادشاہ ہے، چاہے انڈے دے چاہے بچے دے‘‘ اب نرخوں میں اضافے کیلئے گرمی سردی کی ضرورت نہیں رہی بس عوام کی چیخیں نکلوانی ہیں اور اس کیلئے وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔ بس عوام صرف اتنا کریں کہ پہلے گھاس کھاتے کھاتے وہ ایک عرصے سے پیٹ پر پتھر باندھنے کی جس کیفیت سے دوچار ہیں، اب اپنے لئے مزید پتھر تلاش کریں اور پہلے سے پیٹ پر بندھے ہوئے پتھروں کے اوپر مزید پتھر بھی باندھ لیں کیونکہ ابھی بقول شاعر چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی یعنی ابھی دو سو روپے پٹرول کا ٹارگٹ 92روپے کی دوری پر ہے۔

کیا قیامت ہے کہ خاطر کشتہ شب تھے بھی ہم

صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے

گھاس کھانے کے مشورے سے لیکر آج تک عوام کالاانعام جن حالات سے گزرے وہ تو وہی جانتے ہیں جن پہ گزرتی رہی ہے یعنی جس تن لا گے، سو تن جانے، مگر جس نئی صبح کی نوید سن کر لوگ تبدیلی کی امید میں خوش ہورہے تھے، وہ تبدیلی آئی بھی تو اب لوگ ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں ’’ٹینگ شہ ورتہ‘‘۔ کیونکہ جو وعدے اور دعوے کئے گئے تھے اب اسے نئے بیانئے یعنی ’’یوٹرن‘‘ میں لپیٹ دیا گیا ہے اور ہر بات پر یوٹرن لیتے ہوئے ’’گھڑے کی چکناہٹ‘‘ مزید چکنی ہوتی جا رہی ہے۔ داغ دہلوی نے اسی لئے تو کہا تھا

کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا

کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں

متعلقہ خبریں