Daily Mashriq


اگلی بار اور پشیمان چاہتیں اور عطا

اگلی بار اور پشیمان چاہتیں اور عطا

زندگی اب کے کچھ زیادہ ہی مصروفیت کا شکار ہے۔ کارزیست اتنے تجاوز کرگئے ہیں کہ انہیں نبھانے کیلئے چوبیس گھنٹے بھی کم پڑجاتے ہیں۔ کچھ منصبی امور اتنے کٹھن ہو چلے ہیں کہ انہیں دیکھنا مشکل سے مشکل تر ہوا جاتا ہے۔ اوپر سے گھر کی تعمیر کا عمل بھی جاری ہے جو بجائے خود کولمبس کی طرح امریکہ دریافت کرنے کے مترادف ہے۔ لکھنا سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے لیکن آج کل اپنے سب سے پیارے مشغلے سے کوسوں دور اسی بنا پر ہیںکہ لیپ ٹاپ طاق پر دھرا رہتا ہے اور اس کے کی بورڈ پر انگلیاں حرکت کریں تو وقت کہاں سے لائیں۔ اسی لئے مشرق کے ادارتی صفحے پر غیرحاضریاں زیادہ لگ رہی ہیں۔ مصروفیت میں بھی کچھ ایسی ناگزیر حوالے نکل ہی آتے ہیں کہ ترجیحات کو ادھرادھر کرکے وقت نکال ہی لیا جاتا ہے۔ سوال کہانی کا ہو تو اس سے دور رہنا مشکل ہی ہوتا ہے۔ میرے نزدیک کہانی تمام تر فنون میں بااثر قوت رکھتی ہے۔ کہانی اثاطیر کے مذہبی پہلوؤں سے لیکر الہامی کتب تک ایک فلاح اور سماجی سدھار کا حوالہ رکھتی ہیں، اسی لئے تقدیس کے درجے پر فائز ہیں۔ پھر داستانیں جو ماضی کے انسان کی واحد انٹرٹینمنٹ ہونے کیساتھ ساتھ انسانی سماج کی ارفع اقدار کے فروغ کا حوالہ رہی ہیں، انسان کہانی سے ہمیشہ جڑا رہا ہے اور جڑا رہے گا۔ جدید کہانیوں میں افسانہ اور ناول دو مستند حوالے ہیں کہ جو انسانی زندگی کی تشریح کرنے کیساتھ ساتھ انسان کے کرب اور اس کی نفسیات کا مطالعہ کرکے انسان کو زندگی سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ عزیز اعجاز نے حکم دیا کہ ان کے ناولوںکے مجموعہ ’’پشیمان چاہتوں‘‘ کی تقریب میں کچھ کہنا ہے۔ ناول پڑھنا ہر وقت میرے لئے ایک ضیافت سے کم نہیں رہا۔ وقت کی کمی میں بھی پشیمان چاہتیں پڑھ ہی لی۔ عزیز اعجاز

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

کا خالق شاعر ہے۔ شعر کے میدان میں عزیز اعجاز چوٹی کی شاعروں میں جگہ بناچکے ہیں۔ پھر ان کا دوسرا حوالہ ان کی منصبی زندگی یعنی ٹی وی کی پروڈیوسری رہا ہے۔ یہاں بھی عزیز اعجاز کمال پروڈکشن کر چکے ہیں۔ ناول ان کی نئی فنی شناخت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر تینوں ناول ان کے مطالعے، ان کی فنون لطیفہ سے گہری وابستگی اور کہانی کہنے کے فن سے آگہی پر دلالت کرتے ہیں۔ اباسین آرٹس کونسل کی منعقد کردہ تقریب میں جہاں پشاور کے جید عالموں نے ناول پر بات کی وہیں اسلام آباد سے آئے شاہد حمید کی گفتگو انتہائی عالمانہ تھی۔ شاہد حمید میرے خیال میں اس وقت فکش کی تنقید میں صف اول کے نقاد ہیں۔ میں حیران ہوں لوگ اتنا مطالعہ کیسے کر لیتے ہیں۔ میں نے اس تقریب میں عزیز اعجاز کا خاکہ پیش کیا جس میں اپنے جانی استاد نذیر تبسم پر بھی ایک آدھ طنز کا تیر برسایا لیکن استاد کی محبت کہ اسی تقریب کی کمپیرنگ کر رہے تھے لیکن ہماری گستاخیوں پر خود ہی کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔ اس پروقار تقریب میں پشاور شہر کی نابغہ شخصیات موجود تھیں لیکن عزیز اعجاز نے اپنی خطاب میں بڑے دکھ سے یہ بات کہی کہ اس تقریب میں طلبہ کو ضرور شرکت کرنی چاہئے تھی کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ تو اپنی اپنی فیلڈز میں اپنا اپنا نام کما چکے ہیں جبکہ ان تقریبات میں طلبہ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اسی تقریب میں ڈاکٹر اویس قرنی سے ملاقات ہوئی تو صاحب نے اپنا افسانوی مجموعہ ’’اگلی بار‘‘ تھما دیا۔ اویس قرنی حلئے، گفتگو اور ’’چال چلن‘‘ سب حوالوں سے پکا ادیب اور پکا شاعر ہے۔ اس کا بس چلے تو ادیبوں اور شاعروںکی منڈلی جمی رہے اور وہ اس میںگفتگو کرتا رہے۔ عمر میںچھوٹا ہونے کے باوجود اب تک ادب کے حوالے سے بڑے بڑے کام کر چکا ہے۔ کرشن چندر پر اس کی تحقیق جو بعد ازاں کتاب کی صورت چھپی وہ اعلیٰ ادبی حلقوں میں زیربحث رہی۔ مجھے ستائیس برس ہوگئے ہیں افسانہ، ڈرامہ، خاکہ، انشائیہ، کالم اور رپورتاژ لکھتے ہوئے لیکن میں اب تک اس اسلوب تک نہ پہنچ پایا جو اسلوب ڈاکٹر اویس قرنی کی نثر میں میسر ہے۔ اس کی ایک ایک لائن پر رکنا پڑتا ہے۔ اس کی ایک ایک لائن میں اساطیری، اسلامی اور تاریخی تلمیحات کا تانتا بندھا ہوتا ہے۔ ہفتہ ہو چکا ہے مگر میں اس کے دو ہی افسانے پڑھ سکا لیکن ادب کی قرأت کی جو لذت ہوتی ہے وہ مجھے ان افسانوںکو پڑھ کر ضرور ملی ہے۔ ابھی کل ہی یہ کتاب شائع ہوئی اور ایوارڈ ’’بٹورنے‘‘ کا سلسلہ شرورع کر دیا ہے۔ پروین شاکر ’’عکس خوشبو‘‘ ایوارڈ پاکستان کا بڑا ادبی ایوارڈ ہے جو ’’اگلی بار‘‘ کو پہلی بار ہی مل گیا۔ یہی ایوارڈ پشاور سے ناصر علی سید کی کتاب کو بھی مل چکا ہے۔ ادب اور کارادب خاص لوگوں کا کام ہے۔ ہمارے پیارے دوست انجنیئر ذکاء اللہ خان گنڈاپور 90 کی دہائی سے ایک ادبی رسالہ نکال رہے ہیں جو میرے خیال میں ادب میں سب سے مشکل کام تصور کیا جاتا ہے۔ ذکا خود تو انجینئر ہے لیکن ادب میں پی ایچ ڈی کرچکے ہیں۔ نجی چینل پر ناصر علی سید ذکا سے عطا کے حوالے سے بات کرکے ہم سے افسانے کے امکانات اور اہمیت کی بات کرنے لگے۔ میرا جواب یہی تھا کہ افسانہ کہانی کی ایک پھرپور قوت اظہار رکھتا ہے۔ ایک نشست میں قاری مصنف کا وژن، وزڈم اور زندگی کے بارے میں اس کا تصور سمجھ لیتا ہے۔ انسانی رویوں کی کجیوں اور کمیوں کو سنوارنے میں افسانہ ایک بہت بڑا کردار ادا کرسکتا ہے لیکن افسوس یہی ہے کہ ادب بس ادیبوںکا مسئلہ ہی رہ گیا ہے۔ وہ لکھنے پڑھنے والے کہاں ہیں؟ اس سوال کا جواب جب ہمیں مل گیا تو بہت سی گھتیاں سلجھ جائیںگی۔ قارئین! مصروفیت بھرے لمحوں میں بھی اپنے لئے وقت نکالاجاسکتا ہے چاہے قلیل ہی کیوں نہ ہو اور اس قلیل وقت کا بہترین مصرف کتاب یا مطالعے کی کوئی بھی صورت ہو سکتا ہے، چاہے ایک پیراگراف ہی کیوں نہ پڑھ لیا جائے سکون ضرور بخشتا ہے۔

متعلقہ خبریں