Daily Mashriq


سی پیک کا دوسرا مرحلہ

سی پیک کا دوسرا مرحلہ

بے شک اُمید پہ دنیا قائم ہے اور اللہ پاک کی ذات مسبب الاسباب ہے۔ وطنِ عزیز میں جہاں اس وقت بے امنی اور کرپشن کا دور دورہ ہے، کچھ اچھے مستقبل کی اُمید بھی سانسیں لیتی ہوئی اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے کے دوران وزیراعظم پاکستان کے دورۂ چین پہ روشنی ڈالنا خوشی اور امید کا باعث ہے۔ ان کا چار روزہ دورۂ چین، دوطرفہ تعلقات، خاص طور پر پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک جو دوملکوں کے مابین ہی نہیں بلکہ دنیا کے دو حصوں کے درمیان اقتصادی رابطوں کا ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آرہا ہے، اب عملی طور پر دوسرے مرحلے میں داخل ہوا چاہتا ہے۔ پہلا مرحلہ جو انفراسٹرکچر اور توانائی کے وسائل کی تعمیر پر مبنی تھا، تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے اور خوش قسمتی یہ ہے کہ دنیا کے اس حصے میں اقتصادی رابطوں کا یہ اہم ترین منصوبہ مقررہ وقت اور منصوبہ بندی کے عین مطابق مکمل ہورہا ہے۔ پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے انفراسٹرکچر کے ان بڑے بڑے منصوبوں کا ٹائم فریم کے مطابق مکمل ہونا بذات خود سی پیک کی کامیابی اور اس کے کلیدی شراکت داروں کی سنجیدگی کا ثبوت ہے۔ یہ سنجیدگی سی پیک کے ثمرات کو نمایاں کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے امید پیدا ہورہی ہے کہ اس خطے کے دیگر کئی ممالک پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بن کر مستقبل کے ان اقتصادی مواقع سے فائدہ اُٹھانے کی دوڑ میں شامل ہوچکے ہیں۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ صنعتی اور اقتصادی زونز پر مبنی ہے اور اب اس کی شروعات کا وقت ہے۔ ان سپیشل اکنامک زونز کیلئے ملک کے مختلف حصوں میں نو مقامات منتخب کئے گئے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ سی پیک سے منسلک سپیشل اکنامک زونز پاکستان میں صنعت کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے۔ عملی طور پر سی پیک کے ثمرات ان اکنامک زونز کی تعمیر پر منحصر ہیں کیونکہ شاہراہوں، پلوں اور انفراسٹرکچر کے دیگر منصوبوں کی تکمیل اس وقت تک اقتصادی طور پر بارآور نہیں ہوسکتی جب تک کہ ان کیساتھ وسیع پیمانے کے صنعتی ڈھانچوں کو نہ جوڑا جائے۔ چین کی جانب سے اقتصادی راہداری سے جڑے سماجی ترقی کے منصوبوں میں پہلی ترجیح بلوچستان اور سندھ کے محروم علاقوں کو دینا ہوگی۔ بلوچستان کے محروم علاقے ان ترقیاتی منصوبوں کے سب سے بڑے حقدار ہیں کہ گوادر جو اس گراں بہا منصوبے کا مرکز ہے آج بھی اس شہر کی آبادی پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے، دوسری سہولیات کا بھی یہی حال ہے چنانچہ اس قسم کے حالات دشمنوں کو افواہیں پھیلانے اور پروپیگنڈا کرنے کا موقع دیتے ہیں جن کی اقتصادی سرگرمیاں تاب نہیں لا سکتیں۔ جہاں تک چین کیساتھ تجارتی توازن کا تعلق ہے تو چینی صنعت کے حجم کے مقابلے میں پاکستانی ، صنعت کا حجم نہ ہونے کے برابر ہے، اس لئے چین سے درآمدات کے برابر برآمدات تو موجودہ پاکستانی صنعتی پیداوار کیساتھ ممکن نہیں البتہ اس عدم توازن کو جس قدر کم کیا جاسکے دونوں ملکوں کے مفاد میں ہوگا۔ ہمارے وزیراعظم نے بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے سی پیک کے تحت تعاون کے 5نکات پیش کئے جو یہ ہیں: درخت لگانے کے منصوبوں کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی روک تھام، بی آر آئی سیاحتی راہداری کا قیام، بدعنوانی کیخلاف تعاون کیلئے شعبے کا قیام، غربت مٹاؤ فنڈ کی تشکیل اور تجارتی آزادی اور نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی۔ جناب وزیراعظم کا یہ پانچ نکاتی فارمولا اس حوالے سے صائب ہے کہ اس پر کام کرنے کے مثبت اثرات ونتائج سامنے آنے کی توقع کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ مندرجہ بالا تمام نکات پر ٹھیک طریقے سے کام کیا گیا تو ہماری قومی معیشت کا گراف خودبخود بلند ہونا شروع ہو جائے گا۔ دنیا بھر میں پچھلے کچھ عرصے سے جاری غیر یقینی جیو پولیٹکل صورتحال اور تجارت میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور رکاوٹوں کی موجودگی میں یہ منصوبہ تعاون، اشتراکیت، روابط اور مشترکہ خوشحالی کا باعث بن سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان نکات کو بروئے کار کیسے لایا جائے گا جبکہ حکومت گزشتہ آٹھ نو ماہ میں معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی ایک ہدف بھی پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے؟ وزیراعظم کا یہ کہنا تو خوش آئند ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کا نقشہ اور اپنے عوام کی زندگیاں بدلنے والے ہیں لیکن حالات کا جائزہ لیں تو اس سوال کا کوئی جواب کہیں نظر نہیں آتا کہ کیسے؟ ممکن ہے وزیراعظم کے ذہن میں اس کا کوئی خاکہ ہو۔ اگر ہے تو انہیں عوام کیساتھ شیئر کرنا چاہئے۔ اس حقیقت سے کون ذی شعور انکار کرسکتا ہے کہ معاشی ترقی اور اقتصادی بڑھوتری کیلئے سب سے پہلے اس ملک اور پھر اس خطے میں پائیدار امن قائم ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں تو مسلح آپریشنوں کے ذریعے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی جاچکی ہے اور امن وامان کی صورتحال چند سال پہلے کی نسبت بہت بہتر اور اطمینان بخش ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے پڑوسی ممالک کیساتھ تعلقات بھی بہتر اور پُرامن رہیں اور مستقلاً رہیں۔ اس سلسلے میں دواطراف سے تو کچھ ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں لیکن تیسری جانب ایک نئی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ وزیراعظم نے توقع ظاہر کی ہے کہ بھارت میں الیکشن کی تکمیل کے بعد اس پڑوسی ملک کیساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع ہو جائیگا۔ اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو یہ سونے پہ سہاگہ وا لی بات ثابت ہوگی۔

متعلقہ خبریں