Daily Mashriq


ٹرمپ کا نشانہ ’ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط گڑھ

ٹرمپ کا نشانہ ’ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط گڑھ

امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انتخاب سے دو روز قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں کو نشانہ بنائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق مسٹر ٹرمپ پنسیلوینیا، مشی گن اور مینیسوٹا کا دورہ کریں گے جہاں سنہ 19972 کے بعد سے رپبلکن پارٹی کو کامیابی نہیں ملی۔

جوں جوں امریکہ کے صدراتی انتخاب کی تاریخ نزدیک آتی جا رہی ہے اور انتخابی جائزوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے مابین فرق کم ہو رہا ہے، انتخابی مہم میں تیزی آ رہی ہے۔

٭ امریکی انتخاب میں برابری کا مقابلہ متوقع، ہلیری اور ٹرمپ کی شدید بیان بازی

٭ جارج بُش بھی ہلیری کے حامی ہیں؟

سنیچر کو دونوں امیدواروں کی ساری توجہ ریاست فلوریڈا پررہی۔

خیال رہے کہ امریکہ میں آٹھ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے مہم آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے اور اب تک تین کروڑ 30 لاکھ افراد عام ووٹنگ کے دن سے قبل ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔

حالیہ دونوں میں لیے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہلیری کلنٹن کو برتری تو حاصل ہے لیکن ان کے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دونوں امیدواروں کی ٹیم اب ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ اپنے حامی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن امریکی تاریخ کے سب سے غیر مقبول صدارتی امیدوار ہوں لیکن ایک ایسی شخصیت ہیں جو کہ جہاں بھی جاتی ہیں عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما اس وقت صدراتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے حق میں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف میدان میں آگئی ہیں اور انھیں ہلیری کلنٹن کا سب سے موثر ہتھیار تصور کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا لاطینی امریکیوں کی بڑی تعداد آباد جن میں کئی ریپلکن پارٹی کے حامی بھی ہیں۔

ممتاز امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جنرل‘ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی اخبار نیشنل انکوائرر نے ڈونلڈ کے سابق پلے بوائے ماڈل سے 2006 میں معاشقے کی خبر کو ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر کے عوض حاصل کی لیکن پھر اسے شائع نہیں کیا۔ نیشنل انکوائرر کو ڈونلڈ ٹرمپ کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے تفتیشی ادارے ایف بی آئی اور نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے مطابق القاعدہ امریکہ میں الیکشن سے ایک روز قبل دہشت گرد کارروائی کر سکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے تفتیشی افسران ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل نیو یارک، ٹیکسس اور ورجینیا کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ اطلاع حکام کو کس طرح ملی۔

ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ان اطلاعات کی تفتیش کر رہی ہے اور تمام انٹیلیجنس رپورٹس شیئر کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آٹھ نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخاب ہے اور رپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ جماعت کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن دونوں ہی نیو یارک میں ہوں گے۔

شدت پسند کارروائی کے خطرے کے حوالے سے سب سے پہلے خبر سی بی ایس نیوز نے چلائی۔

دوسری جانب دونوں صدارتی امیدوار مہم کے آحری مراحل میں ہیں۔

فوکس نیوز نے جو تازہ پول جاری کیا ہے جس میں ہلیری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر دو پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فوکس نیوز کی جانب سے کیے جانے والے پول میں ہلیری کو تین پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ہلیری کلنٹن صدر منتخب ہوتی ہیں تو وہ دہشت گردی کے لیے دروازے کھول دیں گی۔

نیو ہیمپشائر میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہلیری چاہتی ہیں کہ امریکہ میں آنے والے شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں 550 فیصد اضافہ ہو۔

'ہلیری کے منصوبے کا مطلب ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی ہمارے سکولوں اور کمیونٹیز میں پھیلے۔'

انھوں نے کہا کہ بطور صدر وہ شامی پناہ گزینوں کے پروگرام کے معطل کر دیں گے۔

متعلقہ خبریں