Daily Mashriq

ایم کیو ایم کی انگشت نمائی' باعث حیرت امر

ایم کیو ایم کی انگشت نمائی' باعث حیرت امر

متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی قرارداد جمع کرانے کا مقصد جو بھی ہو لیکن اس کا ممکنہ رد عمل خود ایم کیو ایم کے لئے بہتر نہ ہوگا اور نہ ہی اس قرار داد کا کچھ حاصل نظر آتا ہے۔ سوائے اس کے کہ کشیدگی میں اضافہ ہو۔ گو کہ ایم کیو ایم اپنے قائد سے لا تعلقی کا اعلان کرچکی ہے لیکن دامن کے پختہ داغ اتنی جلدی نہیں دھلتے اور نہ ہی دوسروں پر انگشت نمائی کرکے ایم کیو ایم اپنے ماضی سے بری الذمہ ہو سکتی ہے۔ بہر حال قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے غیرذمہ دارانہ بیانات دیے، ان بیانات سے صوبائیت اوربین الصوبائی نفرتیں بڑھانے کی کوشش کی گئی، انہوں نے ملکی سا لمیت اورسیکورٹی کے خلاف قابل مذمت دھمکیاں دیں، اس لئے ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ پرویزخٹک کو وزارت اعلیٰ اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل کیا جائے اوران کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے پرویزخٹک کے خلاف سندھ اسمبلی میں بھی قرارداد جمع کرائی گئی ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے جواب آں غزل کے طور پر کہا ہے کہ متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین کی وطن دشمنی اور بھارت یاترا سے پوری دُنیا واقف ہے ۔یہ عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کی وطن سے غداری ، دشمن سے دوستی ، ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور لاشوں کی سیاست سے بچہ بچہ واقف ہے جو اپنی ملک دشمن اور انسانیت سوز کارروائیوں کی وجہ سے اب قانون کے نرغے میں ہیںوہ بھی جمہوری آواز کو دبانے کی حمایت اور بنیادی حقوق کے خلاف لایعنی باتیں اور قراردادیں پیش کررہے ہیں۔اُن کی گو مگو کی حالت قابل فہم اور قابل رحم ہے ۔ان کواپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ متحدہ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اب معصوم شکلیں بنا کر ڈرامہ بازی کرکے عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ تحریک انصاف ہی ایسی قوت ہے جس نے ان کے گھنائونے کردار کو چیلنج کیا ہے۔اس حوالے سے دوسری رائے نہیں کہ کراچی میں ایم کیو ایم کو پوری قوت سے للکارنے میں تحریک انصاف ہی نے پہل کی ۔عسکری ونگ رکھنے والی کسی جماعت کا مقابلہ کرنا یقینا ہمت کا کام تھا مگر ''جنوں'' نے یہ چیلنج قبول کرکے نہ صرف سیاسی اور عوامی طور پر فضا میں ارتعاش پیدا کیا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو تقویت اور اعتماد دینے کا باعث ثابت ہوا۔ ایم کیو ایم کے حوالے سے فی الوقت یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ اس نے جو لیبل اتار پھینکا ہے اس میں صداقت کا عنصر کس حد تک ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں ہی اس کا اندازہ ہو سکے گا کہ ان کی حکمت عملی غداری کے لیبل سے بچنے کے لئے تھی یا پھر حقیقتاً وہ اپنے قائد کو عاق کرچکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنے سیاسی سفر میں کبھی انتہا پسندی کی جانب مائل نہیں ہوئے اور ان کا جس جماعت سے دیرینہ تعلق رہا وہ وفاق کی علامت متصور ہوتی ہے جبکہ تحریک انصاف سے قبل وہ جس جماعت میں تھے وہ پختونوں کے حقوق کی بات ضرور کرتی ہے مگر اس کی قیادت کا مجموعی رجحان کسی تعصب پر مبنی نہیں۔ اس وقت پرویز خٹک تحریک انصاف میں عمران خان کے مساوی نہیں تو ان کے عملی نائب کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں جن کے بارے میں کوئی ایسی سوچ ہی غلط ہے کجا کہ ان پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی قرار داد پیش کی جائے ۔ستم بالائے ستم یہ کہ جو ایم کیو ایم ایک سیاسی جدوجہد کی بناء پر پرویز خٹک پر آرٹیکل 6 لگانے کی قرارداد جمع کر رہی ہے ا س کے مربی پر عدالت میں اسی آرٹیکل کے تحت کارروائی ہوتی رہی تو ایم کیو ایم نے پرانے احسانات چکانے کی پوری کوشش کی۔ تحریک انصاف کو چاہئے کہ وہ سانحہ بارہ مئی سمیت کراچی میں پختونوں کی ٹارگٹ کلنگ اور ایم کیو ایم کے ماضی کو بھرپور طور پر عوام کے سامنے لائے اور سیاسی و عوامی طور پر اس کا مقابلہ مزید تیز کرے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے جمع شدہ قرار داد کی قومی اسمبلی میں کسی بھی جماعت کی طرف سے حمایت ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ سندھ اسمبلی میں بھی اس کے منظور ہونے کا امکان نہیں۔ تحریک انصاف قبل ازیں خیبر پختوا اسمبلی سے ایم کیو ایم کے قائد کے خطاب اور بیانات کے تناظر میں جو قرارداد یں منظور کرا چکی ہے ان پر عملدرآمد کا سنجیدگی سے مطالبہ کیا جائے۔ اگر دیکھا جائے تو ایم کیو ایم کی قرار داد چور کی داڑھی میں تنکا کے مترادف ہے جس کا مقصد اپنے اوپر لگے الزامات اور لیبل کو دھندلانا ہے۔ بلا شبہ جب تک عدالت میں کسی امر کو ثابت نہیں کیا جاتا وہ محض الزام ہی رہتا ہے۔ ایم کیو ایم پر بھی ماضی میں اس طرح کے الزامات لگائے گئے مگر بالآخر واپس لئے گئے ۔ ایم کیو ایم کی قراردادوں سے ملک میں انگشت نمائی کا جو ایک اور باب کھلے گا اس میں خود ان کے گھاٹے میں رہنے کا گمان غالب ہے۔ بہتر ہوگا کہ سیاسی معاملات کو اس نہج پر نہ لے جایا جائے جہاں سے واپسی مشکل ہو۔

اداریہ