مال مفت دل بے رحم

مال مفت دل بے رحم

ہمارے نمائندے کی خصوصی خبر کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزراء اور افسر شاہی نے صوبائی حکومت کو درپیش سنگین مالی بحران اور کفایت شعاری پالیسی کے باوجود پر تکلف اور شاہانہ اخراجات جاری رکھتے ہوئے صرف اعزازیہ کے نام پررواں سال کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران خزانے سے 5کروڑ روپے سے زائد نکلوالئے۔ صوبے میں سادگی اور کفایت شعاری کی دعویدار حکومت کے دور میں سرکاری خزانے کو مال مفت دل بے رحم کا مصداق بنانے والوں سے عوام کیا توقعات وابستہ کریں اور وہ ان توقعات پر کیسے پورا اتریں کہ ان کا دل سرکاری مال ہڑپ کرتے کرتے بچتا نہیں۔ دوسروں کو طنزاً بادشاہ اور شہنشاہ پکار کر عوام کو دھوکہ دینا تو آسان ہے مگر خود کو مال مفت پرہاتھ صاف کرنے سے روکنا آسان کام نہیں۔ صوبے کے سرکاری افسران کی گو شمالی اور احتساب کی ذمہ داری جن عناصر پر عائد ہوتی ہے جب وہ خود افسر شاہی سے مانگنے پر مجبور ہوں تو افسر شاہی کا بے لگام ہونا فطری امر ہے۔ کیا سرکاری خزانے پر ہاتھ صاف کرنا اور مقررہ مصارف سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ کرنا کسی احتساب کے زمرے میں نہیں آتا اور اس کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ خیبر پختونخوا بڑا پسماندہ صوبہ ہے اور یہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں مگر بیورو کریسی اور حکمرانوں کو اپنے مشاغل سے فرصت نہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس سے منصفی چاہی جائے اور کس سے فریاد کی جائے سوائے ایک ذات کے۔

اداریہ