Daily Mashriq


نرسوں کا دوبارہ امتحان لینے پر آمادگی کا احسن فیصلہ

نرسوں کا دوبارہ امتحان لینے پر آمادگی کا احسن فیصلہ

محکمہ صحت کی جانب سے صوبے کے نرسنگ سکولوں میں تعینات نرسنگ ٹیوٹرز کی تدریسی صلاحیت پر اعتراضات کے بعد تمام نرسنگ ٹیوٹرز سے تحریری ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیاہے جس میں فیل ہونیوالی ٹیوٹرز کو ان کے عہدوں سے ہٹاکر ان کی جگہ بی ایس سی اور ایم ایس سی ڈگری ہولڈرز نرسز کو ٹیوٹرز کے عہدوں پر لگایا جائے گا۔محکمہ تعلیم کی جانب سے اساتذہ سے دوبارہ ٹیسٹ لینے کے سوال پر جو طوفان برپا ہوا تھا خوش آئند امر یہ ہے کہ نرسوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ نرسنگ ایسوسی ایشن نے بھی رضامندی ظاہر کردی ہے جو خوش آئند اور قابل تعریف رویہ اور ا قدام ہے۔محکمہ صحت کی جانب سے نرسنگ کی تعلیم کو بہتر اور جدید تقاضوں کے برابر لانے کے سلسلے میں صوبے کے نرسنگ سکولوں میں تعینات نرسز ٹیوٹرز کی اہلیت جانچنے کا فیصلہ احسن ہے۔ مقام اطمینان امر یہ ہے کہ اس ٹیسٹ میں ناکام ہونے والے امیدوار متاثر نہیں ہوں گے بلکہ ٹیسٹ میں فیل ہونیوالی ٹیوٹرز کو جنرل ڈیوٹی میں لگا کر ان سکولوں میں نرسنگ کی اعلیٰ تعلیم کی حامل ٹیوٹرز کی تعیناتی کی جائے گی۔اسے بدقسمتی ہی گردانا جائے گا کہ ہمارے نظام میں ایسی خامیاں موجود ہیں جس کے باعث ہر ان اہم جگہوں اور مقامات پر جہاں اہلیت اور استعداد کے مطابق تقرریاں ضروری ہوں سفارشی اور بد عنوان عناصر پہلی ترجیح کے طورپر مقرر ہو جاتے ہیں جن سے اہلیت اور ایمانداری و دیانتداری کی توقع ہی عبث ہے۔ محکمہ صحت اور تعلیم دو ایسے شعبے ہیں جن کا تعلق انسان کی صحت اور مستقبل سے ہے مگر بد قسمتی سے یہ دونوں ادارے بھی روایتی بدعنوانی ' بد معاملگی اور نا انصافیوں پر مبنی اقدامات سے خالی نہیں۔ نرسنگ کے شعبے کو صحت کی بنیادی اکائی قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہاں تربیت پر مامور افراد کی قابلیت پر سوال اٹھنا اس لئے بھی خصوصی تشویش کا باعث ہے کہ نا اہل افراد کے ہاتھوں تربیت یافتہ نرسوں کا مریضوں کے لئے صحت کی بجائے موت کا پیامبر ہونا عجب نہیں ۔ویسے بھی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی غفلت کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور لواحقین کا احتجاج معمول بن چکا ہے مگر قانون کے مطابق شکایت نہ ہونے سے اس کی روک تھام نہیں ہو پاتی اور ڈاکٹر احتیاط کا دامن تھامنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔ بہر حال یہ ایک مستحسن فیصلہ ہے جس پر نرسوں کی جانب سے اتفاق کے بعد اس پر عملدرآمد میں کوئی امر مانع نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ شفاف طریقے سے امتحان کا انعقاد کرکے تدریس کی قابلیت کے حامل نرسوں کو تدریس کا فریضہ سونپا جائے گا اور ناکام ہونے والے امیدواروں سے ان کی اہلیت و استعداد کے مطابق کام لیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں