Daily Mashriq

ایونِ بالا میں سینیٹر پرویز رشید کا استقبال

ایونِ بالا میں سینیٹر پرویز رشید کا استقبال

اسلام آباد کے لاک ڈاؤن اورلاک آؤٹ اور سپریم کورٹ میں پاناما انکشافات کے حوالے سے سماعت شروع ہونے کی گہما گہمی میں جو اہم معاملہ میڈیا کی نظر سے اوجھل ہو گیا وہ سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کے سینیٹ میں پرتپاک استقبال کے باعث پھر پیش منظر میں آگیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ عہدہ یا وزارت آنی جانی چیز ہے۔ جو کہ ہے ۔ تو پھر ایوانِ بالا کے ارکان کی معلومات میں ایسی کیا بات تھی جس کی بنا پر ان کا ڈیسک بجا کر استقبال کیا گیا؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ سینیٹر پرویز رشید کے ساتھ کوئی زیادتی ہو گئی ہے؟ خود سینیٹر پرویز رشید نے حکومت کا ان سے وزارت اطلاعات کا قلمدان واپس لینے کا فیصلہ بڑی سعادت مندی سے بغیر کسی فوری تبصرے کے تسلیم کیا۔ البتہ چیئرمین سینیٹ نے کہا ہے کہ اگر… (یہ اگر قابلِ غور ہے) ان کے خلاف کوئی انکوائری ہو رہی ہے تو سینیٹ ان کے ساتھ ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے اگرچہ یہ وضاحت کر دی ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ آیا سینیٹر پرویز رشید سے کوئی انکوائری ہو رہی ہے یا نہیں۔ تاہم اس کا ذکر کرنے کی ضرورت انہوں نے کیوں محسوس کی وہ خود ہی بتا سکتے ہیں۔ انکوائری کے مفروضے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا ادارے اپنے ارکان کے بارے میں تحقیقات خود کرتے ہیں۔ فوج آرمی ایکٹ کے تحت انکوائری کرتی ہے اور ججوں کی تحقیقات آرٹیکل 209کے تحت ہوتی ہے۔ یہ حوالہ دینے کے بعد انہوں نے کہا کہ سینیٹر پرویز رشید کے خلاف تحقیقات سینیٹ کی کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہئیں۔ یہ استدلال محکمانہ انکوائریوں کی حمایت کی طرف جاتا ہے جس میںایسی مثالیں بھی ہیں کہ پولیس اہل کار کو زیر حراست ملزم پر تشدد ( بعض واقعات میں موت واقع ہونے تک) کے الزامات کے تحت معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا اور کچھ عرصہ بعد ہی پولیس اہل کار بحال ہو گیا۔ بلاول بھٹو بھی ایسی ہی بات کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ جمہوری احتساب ہونا چاہیے۔ یہی بات ن لیگ کے ٹی وی مذاکروں کے مبصرین بھی کہہ رہے ہیں کہ احتساب عوام عام انتخابات میں ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔ دعویٰ کیاگیا کہ پیٹ پھاڑ کر ناجائز دولت برآمد کی جائے گی۔ بیرون ملک جمع کیا ہوا پیسہ اگلوانے کے لیے سڑکوں پر گھسیٹا جائے گا۔ جن کے بارے میں یہ دعوے کیے گئے تھے ان کی پارٹی نے پانچ سال حکومت بھی کی اور ایوانِ صدر کو بھی زینت بخشی اور خود انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قاتل کون ہیں لیکن حکومت اور صدارت کے پانچ سال کے دوران قاتلوں کے خلاف انکوائری نظر نہیں آئی۔ چیئرمین سینیٹ اس بات سے لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں کہ سینیٹر پرویز رشید کے خلاف کوئی انکوائری ہو رہی ہے۔ میڈیا میں بھی ایسی کوئی سن گن نہیں ہے۔ وہ خود بھی کہہ رہے ہیں کہ کیا ہوا کسی مناسب وقت پر بتاؤں گا۔ وہ مناسب وقت جب آئے گا تب آئے گا تاہم ان کی اس بات سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے سردست ان سے کچھ پوچھا نہیں جارہا۔ جہاں تک وزیر اعظم کے فیصلے کی بات ہے یہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے سنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سینیٹر پرویز رشید کی وزارت اطلاعات سے سبکدوشی کی وجہ یہ تھی کہ وہ روزنامہ ڈان میں 6اکتوبر کو جو ''سٹوری'' شائع ہوئی اس کی اشاعت روکنے میں ناکام رہے۔ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ وزیر اطلاعات کسی خبر کی اشاعت کو رکوانے کے لیے کیا کرسکتے تھے جو انہوں نے نہیں کیا۔ شاید وزیر داخلہ جانتے ہوں کہ کسی خبر کی اشاعت کس طرح رکوائی جا سکتی ہے! البتہ روزنامہ ڈان کی زیرنظر سٹوری کے بارے میں ایک کنفیوژن دور ہونا ضروری ہے۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا والے کبھی اس سٹوری کو لیک (Leak)کہتے ہیں کبھی من گھڑت اور بے بنیاد کہتے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ڈان کی 6اکتوبر کی اشاعت میں جو مواد شائع ہوا ہے وہ افشا یعنی Leakتھا یا من گھڑت کہانی تھی۔ کیا کوئی ایسا مکالمہ وزیراعظم کے زیر صدارت قومی سلامتی سے متعلق اجلاس میں ہوا تھا جس کا ڈان کے خبر نگار نے ذکر کیا ہے اور وہ اس پر افشا ہوا تھا۔ یا کوئی ایسی گفتگو ہوئی ہی نہیں تھی جسے ڈان کے خبر نگار نے اشاعت کے لیے دے دیا۔ دونوں صورتوں میں ڈان کے خبر نگار کا ذریعہ کون تھا۔ اگر یہ اطلاع لیک ہوئی تھی تو یہ قومی سلامتی کے لیے ضرر رساں ہے اور اگر یہ مواد خبر نگار کو فراہم کیا گیا تو یہ اس سے بھی خراب بات ہے۔ خبر نگار نے لکھا ہے کہ اس نے اس اطلاع کی توثیق کے لیے متعلقہ اعلیٰ حکام سے رابطے کیے جنہوں نے اس اطلاع کی تردید کی۔ تو پھر خبر نگار کا ذریعہ کون تھا جس پر اس نے متعلقہ اعلیٰ حکام کی تردید کے باوجود انحصار کیا۔ وہ تردید کے باوجود کن وجوہ کی بنا پر قائل ہوا کہ اطلاع درست ہے اور اخبار کے ایڈیٹروں نے کن وجوہ کی بنا پر اس اطلاع کو قابلِ اشاعت سمجھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا سینیٹرپرویز رشید کے نزدیک یہ وقت مناسب نہیں ہے جب وہ حقیقت بتا دیں۔ وزیر داخلہ کے بیان سے کہ سینیٹر پرویز رشید بطور وزیر اطلاعات مذکورہ مواد کی اشاعت رکوانے میں ناکام رہے۔ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سینیٹر پرویز رشید کو مواد شائع ہونے سے قبل اس سے آگاہی تھی۔ اگر ڈان کے خبرنگار نے ان سے بھی اس مواد کی توثیق چاہی تھی تو لامحالہ انہوں نے پوچھا ہوگا کہ یہ مواد خبرنگار کو کہاں سے حاصل ہوا۔ خبر نگار نے اگر اپنا ذریعہ بتانے سے انکار کیا ہوگا تو انہیں خود فوری طور پر دوڑ دھوپ کرنی چاہیے تھی کہ وہ ذریعے تک پہنچیں اور اس مواد کی اشاعت کی تردید حاصل کریں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا اشارہ غالباً اسی طرف ہے۔ چودھری صاحب کا بیان یہاں تک محدود ہے کہ سینیٹر پرویز رشید نے بطور وزیر اطلاعات مواد کی اشاعت رکوانے کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ انہیں بتانا چاہیے کہ مواد کس نے فراہم کیا۔ یہ مواد من گھڑت ہے یا یہ افشاء ہے۔ 

اداریہ