Daily Mashriq


سیاسی غلطیاں

سیاسی غلطیاں

آج جب کہ دھرنا پروگرام ختم اور پانامہ پیپرز کا معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت ہے تو میرے خیال میں نواز شریف کیمپ میں یہ احساس قوی ہوگا کہ ان سے ماضی قریب میں دو بنیادی غلطیاں سرزد ہوئیں۔ اگر سیاسی بصیرت سے کام لیا جاتا اور دونوں ایشوز کو ایڈریس کر لیا جاتا تو شاید آج نہ یہ سیاسی دھینگا مشتی ہوتی اور نہ ہی ماضی میں کی گئی اپنی غلطیاں چھپانے کے لیے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور نظام کو تباہی کی جانب لے جانے کی کوشش کی جاتی۔ پہلی غلطی میاں نواز شریف سے یہ ہوئی کہ انہوں نے میثاقِ جمہوریت میں طے شدہ ''ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن '' کے قیام میں پس و پیش سے کام لیا' حالانکہ 2008ء میں آصف علی زرداری کے تعاون سے یہ کام بہ آسانی کیا جا سکتا تھا۔ عدلیہ بحالی تحریک میں اگرچہ وقتی طور پر کچھ ٹینشن ضرور پیدا ہوئی لیکن بعد ازاں جب اٹھارھویں ترمیم کے لیے پارلیمان کی 26رکنی کمیٹی قائم ہوئی اور اُس نے آئین کی اوور ہالنگ کے کام کا آغاز کیا تو یہ ایک ایسا موقع تھا جب باہمی رضامندی سے سچائی جان کر مفاہمت پیدا کرنے کا کام ہو سکتا تھا۔مگر افسوس جمہوریت کی بحالی کے بعد جب کہ اقتدار آمریت کے ہاتھوں سے جمہوری قوتوں کو منتقل ہو چکا تھا اس اہم کام کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر شخص زندگی میں ''گرے ایریا'' موجود ہے۔ وہاں اہل سیاست کے تو کیا کہنے! یہ الگ بات ہے کہ آصف علی زرداری بدنام بہت تھے اورمیاں نواز شریف نسبتاً کرپشن کے الزامات سے بچے ہوئے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس اہم کام کو لائق توجہ نہ سمجھا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ کبھی پاناما لیکس سامنے آئیں گی اور وہ خود بھی دولت کی غیر قانونی منتقلی کے الزامات کی زد میں ہوں گے۔ میرے نزدیک دوسری غلطی جو میاں نواز شریف اورآصف علی زرداری سے سرزد ہوئی وہ تحریک انصاف کی سیاسی اہمیت کا اعتراف اور اس بنیاد پر نئی ابھرتی ہوئی سیاسی جماعت کو متفقہ میثاق جمہوریت کی قید میں لانا تھا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیاد ت ایک عرصہ ''سٹیٹ آف ڈینائل'' میں رہی۔ 30اکتوبر 2011ء کو عظیم جلسہ عام کے بعد تحریک انصاف ایک مسلمہ سیاسی حقیقت بن چکی تھی لیکن اس کے باوجود اس کو انگیج کرنے کی کوشش نہ کی گئی حالانکہ یہ وہ موقع تھا جب بات چیت کا آغاز ہو سکتا تھا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ 30اکتوبر 2011ء کے بڑے جلسہ عام اور اس کے نتیجے میں تحریک انصاف میں نمایاں شخصیات کی شمولیت کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت کو نئی سیاسی قوت کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے نئی حدود و قیود طے کرنا چاہئے تھی۔ نئے جمہوری معاہدے کی بات آگے بڑھانی چاہیے تھی۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد جب کہ تحریک انصاف دوسری بڑی سیاسی جماعت کے لحاظ سے اُبھر کر سامنے آئی اور اس نے ابتدا میں کسی حد تک انتخابی نتائج تسلیم بھی کر لیے۔ یہ لیگی قیادت کی سیاسی ذمہ داری تھی کہ وہ پیپلزپارٹی اور انصاف کو اس بات پر قائل کرتی کہ جمہوریت کی مضبوطی اور خوشحال پاکستان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تینوں بڑی جماعتوں کے درمیان ایک نئے جمہوری عمرانی معاہدے پر اتفاق ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے تحریک انصاف اس کے لیے اپنی شرائط پیش کرتی جس میں ''کڑے احتساب'' کی شرط شامل ہونے کی توقع بھی تھی اور شاید یہی وہ سوچ تھی جس نے نئے جمہوری معاہدے کی طرف پیش رفت نہ ہونے دی۔ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادت کا المیہ ہے کہ وہ غلطیوں کی اصلاح کیے بغیر آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور یہ کسی طور پر ممکن ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ دونوں جماعتوں کی قیادت نے میثاقِ جمہوریت میں ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن پر اتفاق اسی لیے کیا تھا کہ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف اور ان کی اصلاح ہو گی مگر اقتدار ملنے کے بعد آصف علی زرداری اور نہ ہی میاں نواز شریف نے ماضی کا کچا چٹھا کھولنا گوارا کیا۔ وہ شاید ماضی پر مٹی پھینک کر آگے بڑھ جاتے اگر عمران خان کی صورت میں ایک نئی سیاسی قوت کا ظہور نہ ہوا ہوتا۔ عمران خان کی تحریک انصاف کو سیاسی پذیرائی اس وقت ملی جب عوام میں یہ احساس گہرا ہوا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن مک مکا کی سیاست کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ چونکہ دونوں جماعتوں نے طے شدہ ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کے ذریعے اپنا احتساب کرنے کی زحمت گوارا نہ کی لہٰذا عمرا ن خان نے احتساب کا نعرہ لگایا جو مقبول ہوا۔ ڈاکٹر عاصم کی لمبی چوڑی کرپشن کے پیچھے لوگوں کو آصف علی زرداری کا چہرہ دکھائی دیتا ہے اور میاں برادران پر الزام ہے کہ چین کے ساتھ توانائی منصوبوں کے معاملات شفاف نہیں ہیں۔ نندی پور پراجیکٹ جیسے کئی منصوبے لمبی چوڑی مارا ماری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس دور میں ہو رہا ہے جب کہ حکمرانوں کے بقول ''راوی چین لکھتا ہے''۔ اس صورت حال میں اب تمام نظریں عدالت عظمیٰ پر ہیں جس میں نواز شریف اور ان کی فیملی کے خلاف پانامہ پیپرز کی تحقیقات کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ قانونی ماہرین کے نزدیک یہ ایک سیدھا سادا کیس ہے جس میں محض دو سوالوں کا جواب درکار ہے۔ اول' پاکستان سے دولت باہر کیسے منتقل ہوئی؟ دوم اس دولت کو پاکستان میں کن ذرائع سے حاصل کیا گیا؟ بدیہی طور پر ان دو سوالوں کا جواب لیگی قیادت کے پاس دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ امکان غالب ہے کہ وہ کچھ ہو کر رہے گا جس سے بچنے کی اب تک کوشش کی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں