Daily Mashriq


مہ کوہ نو سہ نشتہ

مہ کوہ نو سہ نشتہ

ہم پہلے بھی اپنی کسی تحریر میں عرض کر چکے ہیں کہ ہم ایک عرصہ سے بزرگ شہری کے منصب جلیلہ پر فائز ہو چکے ہیں ، لیکن اب بھی کوئی بھولا بھٹکا ضرورت مندکالج یا سکول میں داخلے کی سفارش کے لیے آجاتا ہے ۔ہم اُنہیں پشتو کے ایک محاورے کے حوالے سے سمجھا نے کی کوشش کرتے ہیںجس کا اردو میں بامحاورہ ترجمہ یہی ہو سکتا ہے کہ اب ان تلوں میں تیل باقی نہیں رہا۔ چنانچہ ہماری معذرت قبول فرمایئے ، بعض لوگ ، مہلت یا تبادلے میں اپنے اثر ورسوخ استعمال کرنے کے لئے کہتے ہیں ۔ جب کوئی ہماری معذرت قبول کرنے کے لئے تیا ر نہیں ہوتا تو کیس کی نوعیت جا نچنے کے بعد سفارش کی حامی بھی بھر لیتے ہیں ، البتہ یہ پیشگی وضاحت ضرور کر دیتے ہیں کہ سفارش اور کسی سے اپنی بات منوانے کے بھی کچھ طور طریقہ اور اصول ہوتے ہیں۔ رشوت کی الگ بات ہے۔ اس ہانڈی کے اشتہا انگیز پکوان کے سامنے بہت کم لوگ اپنی بھوک پر قابو رکھ سکتے ہیں۔ سفارش صرف اُن لوگوں سے منوائی جاسکتی ہے ، جسکو ایک خاص دائو کے ذریعے جسے پشو لنگتی کہتے ہیں پچھاڑ سکتے ہوں ، اسکے بعد آپ اُسکی گردن پر پائو ں رکھ کر اسے کہہ سکتے ہیں کام کرتے ہو یا دبائوں ٹینٹوا ۔وہ نیچے سے کراہتے ہوئے بولے گا پائوں ہٹائیے ، مجھے آپ کی سفارش منظور ہے ، اگر آپ یہ سمجھیں کہ صرف دعا سلام اور بزرگی کے احترام میں اگر آپ منمناتے ہوئے کسی کی سفارش کریں اور وہ قبول کر لی جائے گی تو یہ آپ کی خوش فہمی ہوگی۔ کوئی آپ کو گھاس نہیں ڈالے گا ایسی سفارش میں آپ کی عزت سادات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے ، یہ سب ہمارے ذاتی تجربات ہیں۔ ہمیں اس بات سے بھی انکار نہیں کہ آج ایسے لوگ موجودنہیں جو اپنے ضمیر کی شمع کو روشن رکھتے ہیں ،ہمارے ملک میں کچھ ایسے ادارے اور محکمے موجود ہیں جنکی بد نامی ضرب المثل کا درجہ حا صل کر چکی ہے ، ان محکموں میں بھی دیانت دار لوگ ضرور موجود ہونگے اچھے اور نیک نام لوگ کہاں نہیں ہوتے باوجود اس کے ان محکموں سے کا م نکالنے کے لئے خلاف قائدہ راہیں تلاش کرنا کچھ زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ ان محکموں کا کوئی کارندہ اگرخوردبرد کے معاملے میں دھر لیا جائے تو ایسی خبرمیں کوئی خبر نہیں ہوتی اور لوگ اس پر زیادہ توجہ نہیں دیتے ۔لیکن جب کوئی ایسا محکمہ یا ادارہ جن پر قوم کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری عائد ہو اور جو علم کی روشنی پھیلا نے کے کام پر مامور ہوتے ہیں وہاں سے جب کسی خرد برد ' مالی بے قاعدگی اور قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرنے کی خبر سامنے آتی ہے تو اس پر حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے۔ ابھی کل ہی کے اخبارات میں صوبے کے ایک قدیم تعلیمی ادارے کے کسی شعبے کے سربراہ کو مالی معاملات میں کروڑوں کی بے قاعدگی کے الزام میں گرفتار کیا گیاہے۔ بظاہر تو یہ خبر بھی بڑی افسوسناک ہے ۔تحقیقات کے بعد اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس پر تبصرہ قبل از وقت ہوگا۔ البتہ ہمارے ایک دانشور دوست کی رائے میں اس وقوعے کا ملزم ' مجرم ثابت ہوجائے تب یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کروڑوں روپے کی خرد برد میں صرف ایک شخص ملوث نہیں ہوسکتا۔ اس میں پورا ایک گینگ شامل ہوگا۔ موجودہ حالات میں متذکرہ مالی بے قاعدگی کے لئے جس گینگ نے اکسانے کی کوشش کی تھی اگر وہ انہیں بروقت No کہہ دیتا تو آج اس کے بارے میں یہ خبر اخبارات کے پہلے صفحے کی زینت نہ بنتی۔ یہ نسخہ کیمیا ہمیں ہمارے پرنسپل اطہر حسین زبیری نے بتایا تھا جب ہم کسی داخلے یا فیس معافی کی سفارش لے کر ان کے پاس جاتے تو جائز ہونے کی صورت میں وہ ضرور مان لیتے لیکن ساتھ ان کی یہ نصیحت ہوتی کہ'' نا'' میں سکھ پوشیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ''نا'' کرنا بھی سیکھو کہ یہ آئندہ کی بے شمار مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے اور کسی ناجائز کام کے لئے ''نا'' کہنا تو بہت ضروری ہوتا ہے مہ کوہ نو ہس نشتہ ہمارے کلی وال اور پرانے شاگرد شمس الحق سے آج صبح ہی اس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک زمانے میں محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی کچھ ا سامیاں نکلیں جس کے لئے اخبارات میں اشتہارات دے دئیے گئے۔ ایک نہایت ہی با اثر شخصیت نے محکمہ تعلیم کے ضلعی افراد کو اپنے دربار میں طلب کیا اور ان کے ہاتھ میں ایک فہرست تھماتے ہوئے خالی آسامیوں پر ان کی تقرری کا زبانی حکم صادر فرمایا۔ ضلعی افسر نے عرض کیا کہ ان تقرریوں کے لئے محکمہ نے کچھ قواعد و ضوابط طے کئے ہیں۔ اگر یہ لوگ درخواستیں دینے کے بعد اہلیت کے تمام تقاضے پورے کردیں تو مجھے ان کی تقرری پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ ان کی اس حکم عدولی پر دھمکی دی گئی تو پھر آپ اپنے لئے کوئی دوسری جگہ پسند کرلیں۔ ضلعی افسر کا جواب تھا حضور! جگہ تو آپ میرے لئے پسند فرما ئیں گے میں آپ کے احکامات کا منتظر رہوں گا اور ہاتھ ملا کر رخصت ہوگئے۔ ضلعی افسر کے اس ''نا'' کے نتیجے میں بے شمار اہل لوگوں کا مستقبل محفوظ ہوگیا اور وہ بہادر شخص یاد رہے اتفاق سے بہادر کا لفظ ان کے نام کا حصہ بھی تھا۔ غالباً کسی جگہ اب بھی بڑے دھڑلے سے پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ایک مچھلی تمام تالاب کو ضرور گندہ کردیتی ہے لیکن ایک دیانتدار افسر اگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی جابر کے سامنے اس کے کسی ناجائز حکم کے جواب میں ''نا'' کہہ دے تو اسے آئندہ کی بے شمار شرمندگیوں سے نجات مل سکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محکمہ تعلیم میں تو بطور خاص دیانتدار اور امانت کے اصولوں کی پابندی ہے۔ اس سے نئی نسل کی کردار سازی کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں نا اہل لوگوں کی تقرریوں سے تو بطور خاص اجتناب بہت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں